سنڈی کلیسیا کا مشترکہ سفر ایک بچہ کے پہلے قدم سے سیکھا جا سکتا ہے۔کارڈینل تاگلے

کارڈینل لوئس انتونیوتاگلے
کارڈینل لوئس انتونیوتاگلے

کارڈینل لوئس انتونیوتاگلے نے کہا کہ سنڈی کلیسیا کے طور پر مل کر چلنے کا سفر کلیسیائی دستاویزات یا حکمتِ عملیوں سے نہیں بلکہ ایک ایسے بچہ کے سادہ تجربہ سے شروع ہوتا ہے جو زندگی میں پہلی بار چلنا سیکھ رہا ہوتا ہے۔22 جولائی کو فیڈریشن آف ایشین بشپز کانفرنسز (FABC)کی 12ویں جنرل اسمبلی کے دوران منعقدہ دعائیہ اور روحانی تجدید کے دن کی پہلی روحانی کانفرنس میں کارڈینل تاگلے نے بشپ صاحبان اور شرکاء کو سنڈی سفر کے اس بنیادی تصور پر گہرائی سے غور کرنے کی دعوت دی۔
جکارتہ کے ہوٹل مولیا میں شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ہم اکثر کہتے ہیں کہ سنڈیلٹی کا مطلب مل کر چلنا ہے، مگر ہمیں یہ بھی سوچنا چاہیے کہ چلنے کا عمل حقیقت میں کیا ہے اور اس کے لیے کن چیزوں کی ضرورت ہوتی ہے۔انہوں نے انسانی زندگی کی ایک سادہ مثال پیش کرتے ہوئے کہا کہ ایک بچہ اچانک چلنا شروع نہیں کر دیتا۔ پہلے وہ رینگنا سیکھتا ہے، اپنے جسم کو مضبوط بناتا ہے، توازن قائم کرتا ہے، جسمانی حرکات میں ہم آہنگی پیدا کرتا ہے اور پھر آہستہ آہستہ اعتماد کے ساتھ اپنا پہلا قدم اْٹھاتا ہے۔ اس پورے عمل میں اسے ایک محفوظ ماحول، والدین کی حوصلہ افزائی، مدد کرنے والے ہاتھوں اور بغیر خوف کے گر کر دوبارہ اٹھنے کا موقع درکار ہوتا ہے۔کارڈینل تاگلے نے کہا کہ چلنے کے لیے مہارت، توازن، ہم آہنگی اور دوبارہ کھڑے ہونے کی صلاحیت ضروری ہوتی ہے۔اس مثال کی روشنی میں انہوں نے شرکاء سے سوال کیا کہ اگر سنڈیلٹی کا مطلب مل کر چلنا ہے تو کلیسیا کو اس سفر کے لیے کس طرح کی روحانی مضبوطی درکار ہے؟ کونسی خوبیاں کلیسیائی برادریوں کو ایک دوسرے کے ساتھ اعتماد اور تعاون کے ساتھ آگے بڑھنے کے قابل بناتی ہیں؟ اور وہ کونسے خوف ہیں جو لوگوں کو یہ قدم اٹھانے سے روکتے ہیں؟ان سوالات نے اسمبلی کے اس مقصد کو مزید واضح کیا جس کے تحت ایشیا کی کلیسیاؤں میں سننے، شراکت اور اجتماعی روحانی امتیازکی ثقافت کو فروغ دیا جا رہا ہے۔
اپنے خطاب کے دورانکارڈینل تاگلے نے اپنے ذاتی تجربہ کا بھی ذکر کیا۔ انہوں نے بتایا کہ ان کے والدین دونوں کی عمر 96 برس ہے۔انہوں نے کہا کہ ان کے والد ذہنی طور پر مکمل طور پر متحرک ہیں، لیکن اب چلنے سے قاصر ہیں، جبکہ ان کی والدہ اب بھی چل پھر سکتی ہیں مگر انہیں دوسروں کی مدد کی ضرورت رہتی ہے۔ والدین کی زندگی کو قریب سے دیکھنے کے بعد انہیں یہ احساس ہوا کہ عمر کے مختلف مراحل میں ساتھ دینے کا انداز بھی بدل جاتا ہے۔انہوں نے سوال اٹھایا کہ اگر کوئی شخص چلنے کے قابل نہ رہے تو اس کے ساتھ کیسے چلا جا سکتا ہے؟پھر خود ہی اس کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ ایسے شخص کے ساتھ رہنا، اس کا ہاتھ تھامنا، اس کے کان میں تسلی کے الفاظ کہنا اور اسے یہ احساس دلانا کہ وہ اکیلا نہیں، یہی حقیقی ساتھ ہے۔
کارڈینل تاگلے کے مطابق یہی سنڈیلٹی کا اصل جوہر ہے۔ مل کر چلنے کا مطلب صرف ایک ہی رفتار سے آگے بڑھنا نہیں بلکہ ان لوگوں کے ساتھ بھی قائم رہنا ہے جو کمزور ہیں، پیچھے رہ گئے ہیں یا اپنی طاقت سے مزید سفر جاری نہیں رکھ سکتے۔انہوں نے خبردار کیا کہ سنڈی کلیسیا کی کامیابی کا معیار صرف تیز رفتار پیش رفت یا  موثرانتظامی امورنہیں ہونے چاہیے، بلکہ اسے صبر، توجہ، ہمدردی اور ساتھ نبھانے والی برادری بننا ہوگا۔
کارڈینل تاگلے نے ایک اور اہم رکاوٹ کی نشاندہی کرتے ہوئے کہا کہ آج بہت سے لوگ اپنی موبائل فون کی دنیا میں اس قدر گم ہو چکے ہیں کہ انہیں اپنے اردگرد موجود لوگوں کا احساس ہی نہیں رہتا۔ان کے مطابق اس قسم کی انفرادیت سنڈیلٹی کے برعکس ہے، کیونکہ سنڈیلٹی مومنین کو دعوت دیتی ہے کہ وہ ایک دوسرے کی بات سنیں، ایک دوسرے سے حقیقی ملاقات کریں اور ضرورت پڑنے پر دوسروں کے لیے اپنی رفتار بھی بدلنے پر آمادہ رہیں۔
جب شرکاء خاموش دْعا کے مرحلہ میں داخل ہوئے تو کارڈینل تاگلے نے انہیں تیار شدہ جوابات دینے کے بجائے ایک چیلنج دیا۔ انہوں نے کہا کہ اس سے پہلے کہ کلیسیا مل کر چلنے کی بات کرے، اسے پہلے خود یہ سیکھنا ہوگا کہ صبر، اعتماد اور اس یقین کے ساتھ کیسے چلا جاتا ہے کہ خدا کے سفر میں کوئی بھی شخص تنہا نہیں ہوتا۔