عالمی کلیسیائی رہنماؤں کی ایشیا کے بشپ صاحبان سے سنڈیلٹی کے ذریعے پْل تعمیر کرنے کی اپیل

 عالمی ایکیومینیکل برادری
عالمی ایکیومینیکل برادری

 فیڈریشن آف ایشین بشپز کانفرنسز (FABC) کی 12ویں جنرل اسمبلی میں ویٹی کن، افریقہ، یورپ، مشرقِ وسطیٰ، اوشینیا، ریاستہائے متحدہ امریکہ اور عالمی ایکیومینیکل برادری کے نمائندوں نے شرکت کرتے ہوئے اس بات پر زور دیا کہ کلیسیا کا سنڈی سفر آج کی تقسیم زدہ دنیا میں مفاہمت، اتحاد اور اْمید کی راہ فراہم کرتا ہے۔21 جولائی کو جکارتہ کے ہوٹل مولیا میں افتتاحی تقریب کے بعد مختلف براعظموں سے آئے ہوئے کلیسیائی رہنماؤں نے اپنے اپنے خطوں میں کلیسیا کو درپیش چیلنجز پر روشنی ڈالی۔ اگرچہ ان کے حالات اور تجربات مختلف تھے، لیکن اِن کا مشترکہ پیغام یہی تھا کہ سنڈیلٹی محض ایک نظریہ نہیں بلکہ کلیسیا کی عملی طرزِ زندگی بننی چاہیے۔
ہولی سی کی نمائندگی کرتے ہوئے کارڈینل ماریو گریخ، سیکرٹری جنرل سنڈآف بشپس نے کہا کہ وہ اس اسمبلی میں سننے، اپنے تجربات بانٹنے اور دوسروں سے سیکھنے کے لیے آئے ہیں۔انہوں نے کہا کہ آج کلیسیا کے سامنے سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ تیزی سے بدلتی ہوئی دنیا میں روح القدس مقامی کلیسیاؤں سے کیا کہہ رہا ہے۔ ان کے مطابق سنڈی سفر کیتھولک ایمانداروں کو کلیسیائی اتحاد کو مضبوط بنانے اور مشنری خدمت میں مزید سرگرم ہونے کی دعوت دیتا ہے۔
افریقہ کی نمائندگی کرتے ہوئے کارڈینل فریڈولین امبونگو بیسونگو۔ جو افریقہ اور مڈغاسکر کی بشپ کانفرنسز کے سمپوزیم (SECAM) کے صدر ہیں، نے کہا کہ افریقہ اور ایشیا دو ایسے براعظم ہیں جو غربت، عدم مساوات، ہجرت، مسلح تنازعات اور موسمیاتی تبدیلی جیسے یکساں مسائل کا سامنا کر رہے ہیں۔انہوں نے سنڈیلٹی کو کلیسیا بن کر جینے کا طریقہ قرار دیا اور ایشیا اور افریقہ کی کلیسیاؤں کے درمیان انجیل کی بشارت، بین المذاہب مکالمہ، نوجوانوں کی خدمت، انصاف، امن اور تخلیق کے تحفظ کے میدان میں مزید تعاون پر زور دیا۔
یورپی بشپس کانفرنسز کی کونسل (CCEE) کی نمائندگی کرتے ہوئے آرچ بشپ گنتارس لیناس گروشاس نے کہا کہ روم میں منعقد ہونے والے حالیہ سنڈنے یہ ثابت کیا کہ تنوع کلیسیا کو کمزور نہیں بلکہ مزید مضبوط بناتا ہے۔انہوں نے کہا کہ تقسیم کے شکار معاشرے میں مسیحیوں کو اپنے گرد دیواریں کھڑی کرنے کے رجحان سے بچنا چاہیے، کیونکہ کلیسیا کو ایسا پْل بننے کے لیے بلایا گیا ہے جو انسان کو خدا سے اور انسانوں کو ایک دوسرے سے ملا دے۔
مشرقی کیتھولک پیٹریارکس کی کونسل کی نمائندگی کرتے ہوئے پیٹریارک رافائل بیڈروس اکیسویں میناسین نے سنڈکی حتمی دستاویز کی روشنی میں تین اہم ترجیحات بیان کیں:روح القدس کی رہنمائی میں روحانی تبدیلی، کلیسیائی ڈھانچے میں زیادہ شفافیت اور جوابدہی، اور ایسا اتحاد جو مختلف روایات اور ثقافتوں کو اپنے اندر سمو لے۔انہوں نے مزید کہا کہ کلیسیا کا اتحاد یکسانیت میں نہیں بلکہ اختلافات کے درمیان ہم آہنگی میں پوشیدہ ہے۔
اوشینیا کی کیتھولک بشپ کانفرنسوں کی فیڈریشن (FCBCO) کے سیکرٹری جنرل فادر کرسٹوفر ڈی سوزا نے بتایا کہ اوشینیا پہلی مرتبہ FABC کی جنرل اسمبلی میں شریک ہو رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ وہ یہاں سننے اور سیکھنے کے لیے آئے ہیں۔ ان کے مطابق اگرچہ اوشینیا کی مقامی آبادی صدیوں سے اجتماعی روحانی امتیاز کی مختلف روایات پر عمل کرتی رہی ہے، تاہم سنڈیلٹی کے حوالے سے ایشیا کا تجربہ ان کے لیے بہت قیمتی ہے۔
اسمبلی میں ایکیومینیکل برادری کی نمائندگی کا بھی خیرمقدم کیا گیا۔کرسچین کانفرنس آف ایشیا (CCA) کی جنرل سیکرٹری جنگ ایون گریس مون نے CCA اور FABC کے درمیان مکالمہ اور تعاون کی طویل شراکت داری کو سراہا۔انہوں نے کہا کہ FABC نے سنڈیلٹی کو صرف ایک پاسبانی طریق ِکار کے طور پر نہیں بلکہ دْعا، سننے اور روحانی امتیاز پر مبنی روحانیت کے طور پر اپنایا ہے۔ان کے مطابق ایشیا نے سنڈی طریقِ کار کو اپنی غور و فکر کی روحانی روایات کے ساتھ ہم آہنگ کر کے عالمگیر کلیسیا کو ایک منفرد تحفہ پیش کیا ہے۔انہوں نے کہا کہ ایشیا جیسا متنوع، پیچیدہ اور چیلنجز سے بھرپور خطہ سنڈی عمل کا صرف محتاج ہی نہیں بلکہ اس کی اشد ضرورت بھی رکھتا ہے، اور انہوں نے شرکائے اسمبلی کو عالمی ایکیومینیکل برادری کی دعاؤں کی یقین دہانی کرائی۔

بشپ رینالڈو برسابل
بشپ رینالڈو برسابل

ریاستہائے متحدہ امریکہ کی کیتھولک بشپ کانفرنس (USCCB) کی نمائندگی کرتے ہوئے سیکرامنٹو کے معاون بشپ، بشپ رینالڈو برسابل نے کہا کہ وہ ایک ہمسفر زائر کی حیثیت سے ایشیا کی کلیسیاؤں سے سیکھنے آئے ہیں۔انہوں نے کہا کہ کلیسیا کی حقیقی تجدید صرف انتظامی اصلاحات سے ممکن نہیں بلکہ اس کے لیے ایسی کلیسیا درکار ہے جو فروتنی کے ساتھ مل کر چلے، ایک دوسرے کو توجہ سے سنے اور روح القدس کی رہنمائی پر مکمل اعتماد رکھے۔انہوں نے امریکہ میں کلیسیا کی زندگی اور مشن میں ایشیائی کیتھولک برادری کی گرانقدر خدمات کو بھی خراجِ تحسین پیش کیا۔
اگرچہ یہ تمام شرکاء مختلف براعظموں اور کلیسیائی روایات سے تعلق رکھتے تھے، لیکن ان کا مشترکہ یقین یہی تھا کہ آج کی ٹوٹی ہوئی اور منقسم دنیا میں کلیسیا کو پْل تعمیر کرنے والی کلیسیا بننا ہوگا۔ان کے خیالات نے جنرل اسمبلی کے مرکزی موضوع سنڈی تبدیلی اور پْل تعمیر کرنے کے مشن کو مزید تقویت بخشی اور اس حقیقت کو اْجاگر کیا کہ سنڈیلٹی کے حوالہ سے ایشیا کا تجربہ نہ صرف اس خطہ بلکہ پوری عالمگیر کلیسیا کے لیے ایک قیمتی عطیہ ہے۔