FABC کے دفتر برائے عامتہ المومنین اور خاندانی امورنے سنڈی کلیسیا کی بنیاد کے طور پر عامتہ المومنین کی قیادت پر زور دیا۔

دفتر برائے عامتہ المومنین اور خاندانی امور
دفتر برائے عامتہ المومنین اور خاندانی امور

فیڈریشن آف ایشین بشپز کانفرنسز (FABC)کے دفتر برائے عامتہ المومنین اور خاندانی امورنے 21 جولائی کو جکارتہ کے ہوٹل مولیا میں منعقدہ FABC کی 12ویں جنرل اسمبلی میں اپنی رپورٹ پیش کرتے ہوئے خاندانوں، خواتین، نوجوانوں اور عامتہ المومنین کے فعال کیتھولک مومنین کی کلیسیا کے مشن میں زیادہ موثر شمولیت پر زور دیا۔رپورٹ میں واضح کیا گیا کہ ایشیا میں کلیسیا کا مستقبل صرف بشپ صاحبان، کاہنوں اور مذہبی افراد پر منحصر نہیں، بلکہ اْن کے فعال گواہ ہونے پر بھی قائم ہے جو اپنے گھروں، پیرشزاور مقامی برادریوں میں ایمان کی زندگی گزارتے اور اس کی گواہی دیتے ہیں۔
 یہ رپورٹ بشپ عیمانوائیل کے۔ روزاریو، بشپ باریشال، بنگلہ دیش اور دفتر کے چیئرمین، جبکہ موموکو نیشیمورا، SEMD، ایگزیکٹو سیکرٹری نے پیش کی۔ انہوں نے ان مختلف پاسبانی اقدامات کا جائزہ پیش کیا جن کا مقصد خاندانوں کو مضبوط بنانا، عامتہ المومنین کی قیادت کو فروغ دینا اور پورے ایشیا میں سنڈیلٹی کی روح کو مستحکم کرنا ہے۔انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ سنڈی تبدیلی کا آغاز محض اداروں یا انتظامی ڈھانچوں سے نہیں بلکہ ایمان میں ایک دوسرے کے ساتھ مل کر چلنے والے لوگوں سے ہوتا ہے۔رپورٹ کے مطابق دفتر نے اپنے پاسبانی نصب العین کو وسعت دیتے ہوئے خاندانوں، خواتین، نوجوانوں، عامتہ المومنین اور بنیادی کلیسیائی برادریوں (BECs) کو خدا کے لوگوں کے باہم مربوط مظاہر کے طور پر دیکھا ہے، جہاں ہر طبقہ کلیسیا کے مشن میں اپنی منفرد ذمہ داری ادا کرتا ہے۔
دفتر کے اہم منصوبوں میں FABC بینکاک دستاویز 2023 سے رہنمائی لیتے ہوئے شادی شدہ زندگی کی تیاری کے لیے ایک سیمینار اور ورکشاپ بھی شامل ہے۔ اس پروگرام میں اس بات پر زور دیا گیا کہ شادی کی تیاری صرف نکاح سے پہلے کی تعلیم تک محدود نہ رہے بلکہ شادی کے بعد بھی جوڑوں کی مسلسل روحانی اورپاسبانی رہنمائی جاری رہے، تاکہ وہ بدلتے ہوئے معاشرتی حالات میں انجیل کے گواہ بن سکیں۔دفتر نے”آج کے ایشیا میں مسیحی خاندان کے مشن“ کے موضوع پر ایک سنڈی اسمبلی بھی منعقد کی، جس میں مقامی کلیسیاؤں کو اْن خاندانوں کے تجربات سننے کی دعوت دی گئی جو ہجرت، معاشی غیر یقینی صورتحال، بدلتی ہوئی سماجی اقدار اور بین المذاہب ماحول جیسے چیلنجز کا سامنا کر رہے ہیں۔ اس اجتماع نے خاندانوں کی حوصلہ افزائی کی کہ وہ صرف پاسبانی خدمت کے وصول کنندہ نہ رہیں بلکہ خود انجیل کی بشارت کے سرگرم علمبردار بنیں۔

 دفتر برائے عامتہ المومنین اور خاندانی امور
دفتر برائے عامتہ المومنین اور خاندانی امور

رپورٹ میں ایک بار پھر اِس حقیقت کو اْجاگر کیا گیا کہ ایشیا میں کلیسیا کا مستقبل صرف بشپ صاحبان، کاہنوں اور مذہبی افراد پر منحصر نہیں بلکہ عامتہ المومنین پر بھی ہے جو اپنے گھروں، پیرشزاور برادریوں میں مسیحی ایمان کی عملی گواہی دیتے ہیں۔
دفتر کی ایک اور اہم ترجیح کلیسیا میں خواتین کے کردار کو مضبوط بنانا رہی۔ ”FABC کی گولڈن جوبلی اور ایشین کانٹینینٹل اسمبلی“ میں ہونے والی گفتگو کی روشنی میں دفتر نے ایسے طریقوں پر غور کیا جن کے ذریعے خواتین کی کلیسیائی قیادت، پاسبانی خدمت اور فیصلہ سازی میں زیادہ موثر شمولیت کو فروغ دیا جا سکے، جبکہ ایشیا کی مختلف ثقافتی روایات کا بھی احترام برقرار رکھا جائے۔
رپورٹ میں نوجوانوں کو بھی دفتر کے مشن کا مرکزی حصہ قرار دیا گیا۔ اس ضمن میں ویتنام کے ”ٹاپاؤ“ میں منعقدہ FABC یوتھ سیمینار کا ذکر کیا گیا، جس میں شاگردی، قیادت اور مشنری گواہی پر توجہ دی گئی نیز نوجوان کی حوصلہ افزائی کی گئی کہ وہ سکولوں، دفاتر اور ڈیجیٹل دنیا میں انجیل کا پیغام پہنچائیں۔رپورٹ میں خاندانی زندگی کو تخلیق کے تحفظ سے بھی جوڑا گیا۔ کلیسیا کی جامع ماحولیات (Integral Ecology) کی تعلیمات سے رہنمائی لیتے ہوئے دفتر نے خاندانوں کو سادگی، یکجہتی اور ماحول کے ذمہ دارانہ تحفظ پر مبنی طرزِ زندگی اپنانے کی ترغیب دی، کیونکہ ماحولیاتی ذمہ داری کا آغاز گھر سے ہوتا ہے۔
رپورٹ کے اختتام پر دفتر نے ایشیا کی مقامی کلیسیاؤں پر زور دیا کہ وہ ایسی برادریاں تشکیل دیں جہاں  عامتہ المومنین کو صرف معاون کارکن نہیں بلکہ کلیسیا کے مشن میں مشترکہ ذمہ داری نبھانے والے کے طور پر تسلیم کیا جائے۔رپورٹ میں اس بات پر بھی زور دیا گیا کہ FABC کی 12ویں جنرل اسمبلی کے مرکزی موضوع سنڈی تبدیلی اور ایشیا میں پْل تعمیر کرنے کے مشن کے تناظر میں کلیسیا کا مستقبل صرف ڈایوسیس اور اداروں میں نہیں بلکہ خاندانوں، بنیادی کلیسیائی برادریوں (BECs) اور پیرش برادریوں میں تشکیل پائے گا، جہاں روزمرہ زندگی میں انجیل کو عملی طور پر جیا جاتا ہے۔