کیا گاڑی کے ٹائر بدلنے کے لیے مجھے آپ کی اجازت ہے؟ فادر کلارنس دیواداس
فادر کلارنس دیواداس نے ایک سادہ سے سوال کے ذریعے کلیسیائی اشتراکیت کی عملی روح کو واضح کرتے ہوئے کہا ہے کہ کلیسیا میں مومن کو صرف فیصلوں پر عمل کرنے والے افراد کی بجائے کلیسیائی زندگی اور ذمہ داری میں حقیقی شریک بنایا جانا چاہیے۔کیا گاڑی کے ٹائر بدلنے کے لیے مجھے آپ کی اجازت ہے؟یہ بظاہر ایک معمولی سوال تھا، لیکن فادر کلارنس دیواداس کے لیے یہ کلیسیائی اشتراکیت یعنی سنڈیلٹی کا عملی سبق بن گیا۔ انہوں نے اس واقعے کے ذریعے بتایا کہ کس طرح کلیسیا عام کیتھولک مسیحیوں کو کلیسیائی اور بالخصوص پیرش کی زندگی میں حقیقی ذمہ داری سنبھالنے کا موقع دے سکتی ہے، بجائے اس کے کہ وہ صرف کیے گئے فیصلوں کے وصول کنندہ بن کر رہ جائیں۔
فادر کلارنس دیواداس کمیشن فار سنڈیلٹی کے ایگزیکٹو سیکریٹری ہیں۔ انہوں نے یہ واقعہ بنکاک کے بان پھو وان میں قومی سنڈی ٹیموں کے تین روزہ اجلاس کے دوسرے دن، 2 ستمبر کو منعقدہ دوسرے سیشن میں بیان کیا۔ جوزف نٹایا کانفرنس ہال میں ہونے والے اس اجلاس کا موضوع بشپ صاحبان، کاہن صاحبان اور معاون کونسلوں کو شامل کرتے ہوئے کلیسیائی اشتراکیت پر مبنی قیادت کو مضبوط بنانا تھا۔ سیشن کی قیادت فادر دیواداس اور فیڈریشن آف ایشین بشپس کانفرنسز کے نائب صدر کارڈینل پابلو ورجیلیو ڈیوڈ نے کی۔کارڈینل ڈیوڈ نے سنڈی عمل میں بشپ صاحبان کی شمولیت پر بات کی، جبکہ فادر دیواداس نے کاہنوں اور پیرش کی معاون کونسلوں کو اس عمل میں شامل کرنے کے چیلنج پر روشنی ڈالی۔
انہوں نے کہا کہ روم میں منعقد ہونے والی سنڈ کے لیے تیار کی گئی رپورٹس سے سامنے آنے والی نمایاں باتوں میں سے ایک یہ تھی کہ کلیسیائی اشتراکیت کے حوالے سے سب سے زیادہ مزاحمت کاہنوں کی جانب سے سامنے آئی۔بعض کاہن اب بھی سوال اْٹھاتے ہیں کہ آیا کلیسیائی اشتراکیت کی ضرورت باقی ہے، جبکہ کچھ اِسے کلیسیا کا ایک اور پروگرام سمجھتے ہیں جس کے لیے مزید اجلاسوں، مشاورت اور سرگرمیوں کی ضرورت ہوگی۔فادر دیواداس کے مطابق کاہنوں کی یہ تشویش قابلِ فہم ہے، کیونکہ وہ پہلے ہی متعدد کلیسیائی اور روحانی ذمہ داریاں ادا کر رہے ہوتے ہیں، جن میں پاک یوخرست اور دیگر ساکرامنٹس کی ادائیگی، ہسپتالوں اور گھروں میں بیماروں کی عیادت اور پیرش مومنین کے ساتھ مسلسل رفاقت شامل ہے۔انہوں نے کہا کہ آگے بڑھنے کا راستہ یہ ہے کہ کاہنوں کو سمجھایا جائے کہ کلیسیائی اشتراکیت اْن کی ذمہ داریوں میں ایک اور پروگرام شامل کرنے کا نام نہیں۔انہوں نے کہا کہ کلیسیائی اشتراکیت کوئی انتظامی پروگرام نہیں ہے۔بلکہ کاہن اپنی موجودہ خدمت اور معمول کی سرگرمیوں میں ہی سنڈی روحانیت کو شامل کر سکتے ہیں۔لہٰذا تبدیلی اکثر اس بات میں نہیں ہوتی کہ کلیسیا کیا کرتی ہے، بلکہ اس بات میں ہوتی ہے کہ وہ یہ کام کس انداز سے کرتی ہے۔
فادر دیواداس نے اپنی مثال دیتے ہوئے بتایا کہ وہ اتوار کی عبادت کے بعد گرجا گھر کے دروازے پر کھڑے ہو کر لوگوں کا استقبال کرتے ہیں۔ان کے مطابق لوگوں کو چند لمحے توجہ دینا، سلام کرنا یا آنے پر ان کا شکریہ ادا کرنا بھی پیرش کے افراد کو یہ احساس دلا سکتا ہے کہ انہیں دیکھا اور سنا جا رہا ہے۔ایسے معمولی مگر بامعنی روابط کلیسیا میں ایسی ثقافت تشکیل دینے میں مدد دیتے ہیں جو صرف انتظامی امور کے بجائے سننے اور رفاقت پر مبنی ہو۔اس کے بعد فادر دیواداس نے پیرش کی معاون کونسلوں کی طرف توجہ دلائی اور کہا کہ ایشیا کی بہت سی کلیسیاؤں میں پہلے ہی ایسے ادارہ جاتی ڈھانچے موجود ہیں جو سنڈی شرکت کو فروغ دے سکتے ہیں۔اصل اہمیت اس بات کی ہے کہ کونسلوں کو بامعنی کردار دیا جائے اور پیرش کے افراد کو یہ احساس دلایا جائے کہ وہ کلیسیا کی ذمہ داری میں شریک ہیں۔
فادر دیواداس نے ایک چھوٹے پیرش میں اپنی خدمت کا واقعہ بیان کیا جہاں اتوار کو جمع ہونے والی نذرانے کی رقم 20 امریکی ڈالر سے بھی کم ہوتی تھی۔ انہوں نے وہاں پیرش مالیاتی کونسل قائم کی۔ اس کا مقصد یہ نہیں تھا کہ پیرش کے پاس بڑی مالی رقم موجود تھی جس کا انتظام کیا جانا تھا، بلکہ وہ چاہتے تھے کہ پیرش کے افراد یہ سمجھیں کہ پیرش کے وسائل ان کی بھی ذمہ داری ہیں۔یہ سبق اس وقت مزید واضح ہوا جب انہیں اپنی گاڑی کے ٹائر تبدیل کرنے کی ضرورت پیش آئی۔ چونکہ وہ پیرش تک پہنچنے کے لیے ہر ہفتے تقریباً 100 کلومیٹر سفر کرتے تھے، اس لیے گاڑی کے ٹائر گھس چکے تھے۔انہوں نے مالیاتی کونسل سے پوچھا: کیا گاڑی کے ٹائر بدلنے کے لیے مجھے آپ کی اجازت ہے؟کونسل کے ارکان حیران ہوئے۔ انہوں نے کہا کہ پیرش کے پیسوں سے ایسی بنیادی ضرورت پوری کرنے کے لیے انہیں اجازت دینے کی ضرورت نہیں۔لیکن فادر دیواداس کے لیے کونسل کے ارکان کا یہ ردِعمل اس بات کی علامت تھا کہ وہ اپنی ذمہ داری کو سمجھنا شروع کر چکے تھے۔انہوں نے جان بوجھ کر کونسل کے ارکان کو مالی معاملات سے متعلق فیصلوں میں شریک کیا تھا تاکہ وہ خود کو صرف کاہن کی طرف سے دی گئی ذمہ داریاں پوری کرنے والے افراد نہ سمجھیں۔ وہ پیرش کی زندگی میں حقیقی شراکت دار تھے۔انہوں نے کہا کہ یہی اصول پیرش کی معاون کونسلوں کے لیے بھی وسیع طور پر رہنما ہونا چاہیے۔
اکثر کلیسیائی ڈھانچے سرگرمیوں کی تکمیل، اہداف کے حصول اور تقریبات کے انعقاد تک محدود ہو جاتے ہیں۔ لیکن حقیقی سنڈی پیرش کونسل کو یہ سوال اٹھانا چاہیے کہ اس کا کام پیرش کی زندگی کی تجدید میں کس طرح معاون ثابت ہو رہا ہے۔فادر دیواداس نے واضح کیا کہ کلیسیائی اشتراکیت کا مطلب یہ بھی نہیں کہ کاہن یا بشپ اپنے فیصلے کرنے کی ذمہ داری سے دستبردار ہو جائیں۔انہوں نے کہا کہ آخرکار کسی نہ کسی کو فیصلہ کرنا ہوتا ہے۔ اہم بات یہ ہے کہ کلیسیا اس فیصلے تک کیسے پہنچتی ہے؛ آیا لوگوں کی بات سنی گئی، مختلف تجربات کو مدِنظر رکھا گیا اور آیا کلیسیا کے ارکان کو غوروفکر اور امتیازِ روحانی میں بامعنی طور پر شریک ہونے کے مواقع دیے گئے انہوں نے خبردار کیا کہ کلیسیائی اشتراکیت پر عمل کے لیے کلیسیائی قانون یا دیگر انتظامی اصلاحات میں تبدیلی کا انتظار نہیں کرنا چاہیے۔سنڈی روح کو پہلے ہی اس طرح زندہ کیا جا سکتا ہے کہ کلیسیا کے تمام بپتسمہ یافتہ افراد کے وقار اور ذمہ داری کو تسلیم کیا جائے۔
کاہنوں کے لیے اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ کلیسیائی اشتراکیت کو ایک اضافی بوجھ کے طور پر دیکھنے کی بجائے اسے اپنی موجودہ خدمت کو مزید موثر بنانے کے طور پر سمجھیں۔ اسی طرح پیرش کونسلوں کے لیے ضروری ہے کہ وہ محض مشاورت اور ذمہ داریاں مکمل کرنے سے آگے بڑھ کر حقیقی شرکت، جوابدہی اور مشترکہ ذمہ داری کو فروغ دیں۔
فادر دیواداس نے قومی سنڈی ٹیموں کو چیلنج دیا کہ وہ اپنے اپنے ممالک میں اس بات کی نشاندہی کریں کہ بشپ صاحبان، کاہنوں یا پیرش کونسلوں میں سے کس شعبے کو فوری توجہ کی زیادہ ضرورت ہے۔انہوں نے شرکا سے کہا کہ وہ ایک ایسی عملی کارروائی کا تعین کریں جسے آئندہ چھ ماہ کے اندر شروع کیا جا سکے۔ ان کے مطابق یہ اقدام قابلِ عمل، حقیقت پسندانہ اور پائیدار ہونا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ ایشیا کی کلیسیا کے لیے اصل مقصد صرف مزید ڈھانچے یا پروگرام بنانا نہیں، بلکہ ایسی ثقافت کو فروغ دینا ہے جس میں کاہن اور مومن اس حقیقت کو تسلیم کریں کہ وہ کلیسیا کی زندگی اور مشن کے لیے مل کر ذمہ دار ہیں۔
