مقدس فرانسس برادرانہ محبت کے ذریعے امن قائم کرنے کا راستہ دکھاتے ہیں۔پاپائے اعظم لیوچہاردہم
مورخہ 4اکتوبر2026کو پاپائے اعظم لیو چہاردہم نے مقدس پطرس کے احاطہ میں مقدس فرانسس آف اسیسی کی عید کے موقع پر مقدس فرانسس آف اسیسی کی وفات کی آٹھ سو سالہ جوبلی کو یاد کرتے ہوئے مومنین کو اَمن کے لیے دْعا کرنے اور اقوام کے درمیان ہم آہنگی پیدا کرنے کی کوشش کرنے کی دعوت دی۔پوپ لیو نے کہا کہ خدا ہماری زندگیوں کو کبھی رد نہیں کرتا۔انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ انسان کی طرف سے رد کیے جانے اور تشدد کے باوجود خدا کی نجات کا منصوبہ ناکام نہیں ہوتا۔
پوپ لیو نے انگور کے تاکستان کی تمثیل کے ذریعے یسوع مسیح کی زندگی اور مشن پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے مقدس فرانسس آف اسیسی کو بھی یاد کیا اور ان کے ایمان اور برادرانہ محبت کی گواہی کو کلیسیا کی تجدید اور امن کے قیام کا ایک راستہ قرار دیا۔پوپ لیو نے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ مسیح یسوع خدا کا بیٹاہے۔ جسے دنیا میں بھیجا گیا، لیکن جن لوگوں کو انہیں کھلے دل سے قبول کرنا چاہیے تھا، انہی نے اْسے رد کر دیا۔انہوں نے کہا کہ جو نجات دینے کے لیے آیا، اسے سزا دے کر موت کے حوالے کر دیا گیا، اور جو زندگی عطا کرنا چاہتا تھا، اسے موت دے دی گئی۔
پوپ لیونے کہا کہ یسوع کو رد کیے جانے کا واقعہ ہمیں دنیا اور اقوام کی تاریخ میں موجود ان بے شمار مظالم پر غور کرنے کی دعوت دیتا ہے، لیکن مسیح کی تعلیم ہمیں یہ بھی سکھاتی ہے کہ خدا باپ کی رحمت انسانی برائی اور ظلم سے کہیں زیادہ عظیم ہے۔تشدد اور برائی کا انجام کبھی آخری نہیں ہوتا۔ خدا اپنی کامل عدالت کے ذریعے برائی کو بھی نجات کے وسیلے میں بدل دیتا ہے۔ پوپ لیونے یسوع مسیح کے اِن الفاظ کی طرف اشارہ کیا کہ جس پتھر کو معماروں نے رد کیا، وہی کونے کا سرا ہوا۔
انگور کے تاکستان کی تمثیل کی طرف واپس آتے ہوئے پوپ لیونے وضاحت کی کہ یہ باغ کلیسیا کی علامت ہے، جسے ہمارے فیصلے اور اعمال تعمیر بھی کر سکتے ہیں اور نقصان بھی پہنچا سکتے ہیں۔مقدس فرانسس آف اسیسی کی وفات کی آٹھ سو سالہ جوبلی کے موقع پر پوپ لیو نے انہیں خداوند کے انگور کے باغ میں وفاداری سے کام کرنے والے ایک ایسے خادم کے طور پر یاد کیا، جس نے یسوع مسیح کی پکار پر لبیک کہتے ہوئے کلیسیا کی تربیت کے لیے اپنی زندگی وقف کر دی۔مسیح مصلوب سے متاثر ہو کر مقدس فرانسس نے سب سے پہلے اپنی زندگی کو مسیح پر استوار کیا۔ انہوں نے مسیح کی غربت، خوشی اور دکھوں میں شرکت کی اور یہاں تک کہ اپنے جسم پر مقدس زخموں کے نشان بھی حاصل کیے۔اْن کی گہری دْعا اور سب کے لیے محبت نے انہیں پہلے راہب بھائیوں کے لیے ایک نمونہ بنا دیا۔ ان کے ساتھیوں نے بھی ان کی سادگی اور روحانی زندگی کو اپنایا اور اسے کلیسیا کی حقیقی اصلاح کے لیے ضروری سمجھا۔
پوپ لیو نے کہا کہ مقدس فرانسس نے خداوند یسوع پر اپنے ایمان کے ذریعے کلیسیا کی تربیت کی اور برادرانہ محبت کی گواہی کے ذریعے اختلافات اور دوریوں کو ختم کیا۔پوپ لیو نے مزید کہا کہ آٹھ صدیاں گزرنے کے باوجود مقدس فرانسس کا روحانی ورثہ آج بھی پھل لا رہا ہے۔ اس کی واضح مثال عظیم اور متحرک فرانسسکن خاندان کے ساتھ ساتھ وہ بے شمار روحانی نعمتیں ہیں جو مقدس فرانسس کی روحانی میراث آج بھی خدا کے لوگوں کو عطا کر رہی ہے۔کلیسیا کے فرانسسکن جوبلی سال کے موقع پر پوپ لیونے مومنین کو دعوت دی کہ وہ مسلسل امن کی نعمت کے لیے دعا کریں اور اقوام کے درمیان ہم آہنگی قائم کرنے کے لیے خلوصِ دل سے اپنا کردار ادا کریں۔
