کارڈینل فیراؤ کا ایشیا کی کلیسیا سے سنڈیلٹی کو عملی زندگی کا حصہ بنانے کا مطالبہ
فیڈریشن آف ایشین بشپز کانفرنسز (FABC) کے صدر کارڈینل فلیپ نیری فیراؤ نے کہا ہے کہ سنڈیلٹی محض گفتگو یا نظریہ نہ رہے بلکہ ایشیا کے ہر پیرش، ڈایوسیس، مذہبی برادری اور خاندان کی عملی زندگی کا حصہ بن جائے۔انہوں نے یہ بات 21جولائی کو FABC کی 12ویں جنرل اسمبلی کے افتتاحی اجلاس میں اپنے خطاب کے دوران کہی۔جکارتہ میں اکھٹے ہونے والے بشپ صاحبان اور دیگر شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے کارڈینل فیراؤ نے کہا کہ یہ اسمبلی صرف ایک تنظیمی اجلاس نہیں بلکہ اجتماعی روحانی امتیاز کا ایک روحانی سفر ہے۔
انہوں نے کہا کہ ہم یہاں صرف ایشیا میں کلیسیا کے مستقبل پر گفتگو کرنے کے لیے جمع نہیں ہوئے بلکہ خدا کی مرضی کو دریافت کرنے کے لیے اکٹھے ہوئے ہیں، تاکہ ہم جان سکیں کہ وہ اپنے لوگوں سے کیا چاہتا ہے۔ان کے خطاب کا محور اسمبلی کا مرکزی موضوع ”سنڈی تبدیلی کی دعوت اور ایشیا میں پْل اور پْل تعمیر کرنے والے بننے کا مشن“ تھا، جو سنڈآن سنڈیلٹی سے حاصل ہونے والی رہنمائی کی روشنی میں کلیسیا کے اس عزم کی عکاسی کرتا ہے کہ وہ سننے، شراکت اور روح القدس کی رہنمائی میں خدا کی مرضی کو ملکرجاننے کی ثقافت کو فروغ دے۔کارڈینل فیراؤ نے واضح کیا کہ سنڈیلٹی نہ تو کوئی نیا پاسبانی منصوبہ ہے اور نہ ہی محض انتظامی اصلاحات کا نام۔انہوں نے کہا کہ اصل سوال یہ نہیں کہ سنڈیلٹی اہم ہے یا نہیں، بلکہ یہ ہے کہ اسے ہماری ڈایوسیسز، پیرشز، اداروں، مذہبی برادریوں اور خاندانوں کی زندگی میں کس طرح گہرائی سے راسخ کیا جائے۔
اپنے خطاب کے دوران انہوں نے بار بار اس بات پر زور دیا کہ کلیسیا کا مشن ملاقات اور تعلق سے شروع ہوتا ہے۔انجیل میں فیلبوس کے نتن ایل کو دیے گئے دعوتی الفاظ ”آ۔ دیکھ لے“ کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ انجیل کی بشارت بحث جیتنے سے نہیں بلکہ لوگوں کو یسوع مسیح سے ملاقات کی دعوت دینے سے شروع ہوتی ہے۔انہوں نے کہا کہ یہی روح اس جنرل اسمبلی پر بھی حاوی ہونی چاہیے، جہاں ایشیا بھر سے آئے ہوئے بشپ صاحبان دْعا، ایک دوسرے کو سننے، روح القدس کی روشنی میں ملکر خدا کی مرضی جاننے اور اپنی مقامی کلیسیاؤں کے پاسبانی تجربات ایک دوسرے کے ساتھ بانٹنے کے لیے جمع ہوئے ہیں۔انہوں نے کہا کہ یہ محض پروگرام کا حصہ نہیں بلکہ سنڈیلٹی کا حقیقی اظہار ہیں۔
کارڈینل فیراؤ نے ایشیا میں کلیسیا کے مشن پر بھی روشنی ڈالی۔ انہوں نے کہا کہ ایشیا قدیم تہذیبوں، متنوع ثقافتوں اور بڑے مذاہب کا گہوارہ ہے، اور یہی حقیقت کلیسیا کے لیے مواقع بھی فراہم کرتی ہے اور چیلنجز بھی۔انہوں نے کہا کہ ایشیا میں کلیسیا کو نہ صرف خود ایک پْل بننے بلکہ دوسروں کے درمیان پْل تعمیر کرنے والی کلیسیا بھی بننا ہے۔ اس مقصد کے لیے مختلف ثقافتوں اور مذاہب کے درمیان مکالمے، مفاہمت اور اتحاد کو فروغ دینا ضروری ہے۔
کارڈینل فیراؤ نے اس براعظم میں تیزی سے رونما ہونے والی تبدیلیوں کا بھی ذکر کیا، جن میں مصنوعی ذہانت، ہجرت، ماحولیاتی تباہی، بڑھتی ہوئی معاشی و سماجی ناہمواری اور مسلح تنازعات شامل ہیں۔انہوں نے کہا کہ یہ چیلنجز مسیحی اْمید کو کمزور نہیں کرتے بلکہ کلیسیا کو اس بات کی دعوت دیتے ہیں کہ وہ یکجہتی، ہمدردی اور نئے جوش کے ساتھ مشنری خدمت کے ذریعے زیادہ مضبوط گواہی پیش کرے۔انہوں نے شرکائے اسمبلی پر زور دیا کہ پورے ہفتے کے دوران روح القدس کی رہنمائی پر توجہ مرکوز رکھیں۔انہوں نے اْمید ظاہر کی کہ اسمبلی کی حتمی دستاویز محض اجلاسوں کا خلاصہ بن کر نہ رہ جائے بلکہ ایسی عملی رہنمائی فراہم کرے جو ایشیا بھر کی مقامی کلیسیاؤں کو سنڈیلٹی کو اپنی عملی زندگی کا حصہ بنانے میں مدد دے۔کارڈینل فیراؤ نے کہا کہ رپورٹس پیش ہونے، مباحث مکمل ہونے اور سفارشات منظور ہونے سے پہلے اس اسمبلی کی سب سے اہم ذمہ داری یہ ہے کہ سب مل کر اس پر غور و حوض کریں کہ آج خدا ایشیا کی کلیسیا سے کیا چاہتا ہے۔
اپنے خطاب کے اختتام پر انہوں نے کہا کہ FABC کی 12ویں جنرل اسمبلی کی کامیابی کا معیار صرف اس کی حتمی دستاویز نہیں ہوگی، بلکہ یہ ہوگا کہ جکارتہ سے واپس جانے والے بشپ صاحبان اور مندوبین روح القدس کی آواز کے لیے پہلے سے زیادہ حساس، ایک دوسرے کے ساتھ پہلے سے زیادہ وابستہ، اور ایشیا میں امن، اتحاد اور مکالمہ کے پْل تعمیر کرنے کے لیے پہلے سے زیادہ تیار ہوں۔