ایشیا کے چیلنجز کلیسیا کے مکالمہ کے مشن کو مزید مضبوط بناتے ہیں۔ کارڈینل فلیپ نیری فیراؤ
فیڈریشن آف ایشین بشپز کانفرنسز (FABC)کے صدر اور گوا و دمن کے آرچ بشپ کارڈینل فلیپ نیری فیراؤ نے کہا ہے کہ ایشیا میں مسیحی برادریوں کو درپیش مشکلات کلیسیا کو کمزور کرنے کی بجائے مکالمہ، مفاہمت اور باہمی تعلقات کے فروغ کے لیے اس کے عزم کو مزید مضبوط کرتی ہیں۔انہوں نے یہ بات 20 جولائی کو FABC کی 12ویں جنرل اسمبلی کے افتتاح کے موقع پر پریس کانفرنس کے دوران ایک سوال کے جواب میں کہی۔
کارڈینل فیراؤ سے مختلف ایشیائی ممالک میں اقلیت کے طور پر رہنے والے مسیحیوں کو درپیش مسائل کے بارے میں سوال کیا گیا، جس پر انہوں نے کہا کہ کلیسیا نے اپنی پوری تاریخ میں ہمیشہ مشکل حالات کے درمیان ہی اپنے مشن کو جاری رکھا ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ کلیسیا نے ہر دور میں آزمائشوں اور مشکلات کا سامنا کیا ہے۔ یہ حقیقت ہے کہ آج بھی ایشیا کے کئی حصوں میں مسیحی برادری مشکل حالات میں زندگی گزار رہی ہے۔انہوں نے کہا کہ ایسے حالات میں خوفزدہ ہونے یا خود کو دوسروں سے الگ کر لینے کی بجائے کلیسیا کی ذمہ داری ہے کہ وہ لوگوں کے درمیان تعلقات اْستوار کرے، مکالمہ کو فروغ دے اور مفاہمت کی راہیں ہموار کرے۔
کارڈینل فیراؤ نے کہا کہ ایشیا ایک ایسا براعظم ہے جہاں مذاہب، ثقافتوں، زبانوں اور نسلی گروہوں کا غیر معمولی تنوع پایا جاتا ہے، اس لیے یہاں مکالمہ کا مشن پہلے سے کہیں زیادہ اہم ہو جاتا ہے۔انہوں نے کہا کہ کلیسیا کو چاہیے کہ وہ نہ صرف مختلف مذاہب اور ثقافتوں کے ماننے والوں کے ساتھ ملاقات اور بات چیت کے مواقع پیدا کرے بلکہ اْن لوگوں تک بھی پہنچے جو کلیسیا کے بارے میں بدگمانی رکھتے ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ ہم ایک ایسی کلیسیا ہونے کے عزم کا اعادہ کرتے ہیں جو لوگوں کے درمیان جائے۔ ہمیں ہر فرد کے ساتھ افہام و تفہیم کے پْل تعمیر کرنے ہیں، خواہ وہ ہمارے ایمان کا شریک نہ ہو یا نہ ہو۔کارڈینل فیراؤ کے خیالات FABC کی 12ویں جنرل اسمبلی کے مرکزی موضوع ”سنڈی تبدیلی کی دعوت اور ایشیا میں پْل اور پْل تعمیر کرنے والے بننے کا مشن“کی بھرپور عکاسی کرتے ہیں۔یہ ہفتہ بھر جاری رہنے والی اسمبلی 20 تا 26 جولائی تک جکارتہ میں منعقد ہو رہی ہے، جس میں FABC سے وابستہ 22 بشپس کانفرنسز اور کلیسیائی نمائندگی کرتے ہوئے 120 سے زائد کارڈینلز اور بشپ صاحبان شریک ہیں۔
پریس کانفرنس کے دوران سوال و جواب کا زیادہ تر حصہ اس بات پر مرکوز رہا کہ ایشیا میں اقلیت کے طور پر رہنے والی مسیحی برادریوں کو درپیش حالات کا کلیسیا کس طرح موثر طور پر جواب دے سکتی ہے۔کارڈینل فیراؤ نے کہا کہ یہ مشکلات کلیسیا کی حوصلہ شکنی کا سبب نہیں بننی چاہیں بلکہ اسے مزید مضبوطی کے ساتھ انجیل کی گواہی دینے، مکالمہ،باہمی احترام اور مفاہمت کے ذریعے اپنے مشن کو آگے بڑھانے کی ترغیب دینی چاہیے۔انہوں نے بتایا کہ اسمبلی کے دوران شرکاء دْعا، روح القدس کی رہنمائی میں مکالمہ، علاقائی اجلاسوں اور دھیان و گیان کے ذریعے ایسے عملی طریقوں پر غور کریں گے جن سے ایشیا میں سنڈیلٹی اور کلیسیا کے مشن کو مزید موثر بنایا جا سکے۔
کارڈینل فیراؤ نے آخر میں کہا کہ ایشیا میں کلیسیا کی ساکھ اِس بات پر منحصر ہوگی کہ وہ مشکلات سے منہ موڑنے کی بجائے لوگوں کے درمیان موجود رہے، باہمی سمجھ بوجھ کو فروغ دے اور تنوع اور تقسیم سے بھرے معاشروں میں اْمید اور اتحاد کا پْل بنے۔