اْمید کے ساتھ مل کر چلنے سے سنڈیلٹی کا آغاز ہوتا ہے۔ کارڈینل کیکوچی
فیڈریشن آف ایشین بشپز کانفرنسز (FABC)کے سیکریٹری جنرل اور ٹوکیو کے آرچ بشپ کارڈینل تارکیسیو اِساؤ کیکوچی نے کہا ہے کہ ”سنڈیلٹی“محض کلیسیا کا کوئی منصوبہ یا نظریہ نہیں بلکہ ایک ایسا طرزِ زندگی ہے جو ایک دوسرے کی فکر کرنے، ساتھ چلنے اور اْمید کو پروان چڑھانے والی برادریوں میں جنم لیتا ہے۔انہوں نے یہ بات 20جولائی کو جکارتہ میں منعقد ہونے والی FABC کی 12ویں جنرل اسمبلی کے افتتاحی روز کے اختتام پر یوخرستی عبادت کی قیادت کرتے ہوئے اپنے خطاب میں کہی۔یہ اسمبلی20تا 26 جولائی تک ”سنڈی تبدیلی کی دعوت اور ایشیا میں پْل اور پْل تعمیر کرنے والے بننے کے مشن“ کے موضوع کے تحت جاری ہے۔
اپنے وعظ میں کارڈینل کیکوچی نے انڈونیشیا کے جزیرے فلورس کے شہر ”اینڈے“ کے ایک چھوٹے سے گاؤں کے حالیہ دورے کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ وہاں انہوں نے سنڈیلٹی کی ایک جیتی جاگتی مثال دیکھی۔انہوں نے کہا کہ ْامید ایسی چیز نہیں جسے ہم بازار سے خرید سکیں یا دوسروں کو دے سکیں۔ اْمید اْس وقت جنم لیتی ہے جب انسان ایسے لوگوں سے ملتا ہے جو سچے دل سے ایک دوسرے کی فکر کرتے ہیں۔کارڈینل کیکوچی نے بتایا کہ انہوں نے اس گاؤں میں ایک نامیاتی (آرگینک) کاشتکاری کے منصوبہ کا دورہ کیا، جہاں لوگوں کو محدود وسائل کے باوجود خوشی، عزت اور باہمی تعاون کے ساتھ زندگی گزارتے دیکھا۔انہوں نے کہا کہ اگرچہ وہ کاریتاس انٹرنیشنلِیزکے صدر کی حیثیت سے دنیا بھر میں امدادی اور ترقیاتی منصوبوں کا مشاہدہ کر چکے ہیں، لیکن اینڈے کی اس سادہ اور محبت بھری برادری نے اْن کے دل پر گہرا اثر چھوڑا۔
انہوں نے مزید کہا کہ میرے لیے یہی سنڈیلٹی کی حقیقی اور عملی تصویر ہے۔ یہ صرف ایک تصور نہیں بلکہ ایسی برادری کی زندگی ہے جو ایک ساتھ سفر کرتی ہے، ایک دوسرے کا سہارا بنتی ہے اور اْمید کو فروغ دیتی ہے۔کارڈینل کیکوچی نے کہا کہ اس تجربہ نے انہیں یہ احساس دلایا کہ کلیسیا کا مشن بڑی عمارتوں یا وافر وسائل سے شروع نہیں ہوتا بلکہ ایسی برادریوں سے آغاز پاتا ہے جو ایک دوسرے کے ساتھ چلنے اور ضرورت مندوں کی خدمت کرنے کے لیے تیار ہوں۔انہوں نے زور دیتے ہوئے کہا کہ ہم ایک ہی لمحہ میں پوری دنیا کو نہیں بدل سکتے۔ ہمیں اپنی بنیادوں، اپنی مقامی برادریوں سے آغاز کرنا ہوگا، جہاں لوگ ایک دوسرے کی مدد کرتے ہیں۔ یہی وہ جگہ ہے جہاں اْمید پروان چڑھتی ہے اور کلیسیا سنڈیلٹی کی حقیقی گواہی پیش کرتی ہے۔
جکارتہ کے مقامی وقت کے مطابق 6بجے پاک ماس کی اقدس قربانی خدا کی نذر گزرانی گئی جس کی قیادت کارڈینل کیکوچی نے جبکہ بینکاک (تھائی لینڈ) کے آرچ بشپ فرانسس زیویئر ویرا اور باکاؤ (تیمور لیستے) کے بشپ لیاندرو ماریا الویس نے معاونت فرمائی۔اس عبادت میں تقریباً 200 افراد نے شرکت کی، جن میں کارڈینلز، بشپ صاحبان، کاہن صاحبان، سسٹر صاحبات، عوامی نمائندے، منتظمین اور ایشیا کے مختلف ممالک سے آئے ہوئے مہمان شامل تھے۔اس موقع پر جکارتہ کے آرچ بشپ کارڈینل اِگنیشیئس سوہاریواور انڈونیشیا کی کیتھولک بشپس کانفرنس کے صدر بشپ انتونیئس سوبیانتو بنجامین بھی موجود تھے۔
اسمبلی کے مرکزی موضوع پر روشنی ڈالتے ہوئے کارڈینل کیکوچی نے شرکاء پر زور دیا کہ دْعا، دھیان وگیان اور باہمی مکالمہ کے یہ دن صرف اجلاس تک محدود نہ رہیں بلکہ ایشیا کی مقامی کلیسیاؤں میں حقیقی اور دیرپا روحانی تجدید کا ذریعہ بنیں۔انہوں نے کہا کہ ہم پوری دنیا کو ایک ساتھ نہیں بدل سکتے، لیکن اگر ہم اپنی مقامی برادریوں سے آغاز کریں، جہاں لوگ ایک دوسرے کا ہاتھ تھامتے ہیں، تو وہیں اْمید جنم لیتی ہے اور وہیں کلیسیا سنڈیلٹی کی زندہ گواہی بنتی ہے۔
کارڈینل کیکوچی کے پیغام نے ایک بار پھر اِس حقیقت کو اجاگر کیا کہ ایشیا کی کلیسیا کو سنڈی تبدیلی کو اپناتے ہوئے تعاون، شراکت اور مشن کو مضبوط بنانا ہوگا، تاکہ وہ ثقافتی، مذہبی اور سماجی تنوع سے بھرپور معاشروں میں امن، مکالمہ اور اتحاد کے پْل تعمیر کرنے والی کلیسیا بن سکے۔