پاپائے اعظم لیو چہاردہم کا پْرتگالی فوج سے خطاب: خداوند میں مضبوط رہیں اور شہریوں کی حفاظت کریں۔


مورخہ 24اگست 2026کوپاپائے اعظم لیو چہاردہم نے ویٹیکن میں پرتگال کے فوجی اْسقف نشین کے (Military Ordinariate of Portugal) ارکان سے ملاقات کے دوران حال ہی میں جان بحق ہونے والے دو نوجوان پرتگالی فوجیوں کو یاد کیا اور حاضرین کی حوصلہ افزائی کی کہ وہ خداوند میں مضبوط رہتے ہوئے اپنے وطن، قانون کی حکمرانی اور اپنے شہریوں کی زندگی اور سلامتی کا تحفظ کریں۔پوپ لیو نے انہیں ترغیب دی کہ وہ اپنی ذمہ داریاں عاجزی کے ساتھ انجام دینے کے لیے خداوند سے قوت حاصل کریں، کیونکہ انسان اپنی ذات میں خود کفیل نہیں ہے۔
 وفد سے ملاقات کے دوران پوپ لیو نے کہا کہ آپ میں سے ہر ایک کے سپرد ہر روز اپنے وطن کی خودمختاری اور قانون کی حکمرانی کا دفاع، اپنے ہم وطنوں کی سلامتی کا تحفظ اور انہیں ناانصافی سے محفوظ رکھنا ایک عظیم ذمہ داری ہے۔انہوں نے پرتگال کی بری فوج، فضائیہ، بحریہ، نیشنل ریپبلکن گارڈ اور پبلک سکیورٹی پولیس کے تمام ارکان، خواہ وہ مسیحی ہوں یا غیر مسیحی، کو اپنی نیک تمناؤں کا اظہار کیا۔پوپ لیو نے دو نوجوان فوجیوں کو بھی یاد کیا جو  21 اگست کو جان بحق ہوئے تھے۔
انہوں نے کہا کہ دونوں فوجیوں نے سڑک پر رْک کر ایک اچھے سامری کی طرح مدد کرنے کی کوشش کرتے ہوئے اپنی جانیں قربان کر دیں۔ انہوں نے کہا کہ وہ اْن دونوں فوجیوں اور اْن کے خاندانوں کو خداوند کے سپرد کرتے ہیں۔
دونوں فوجی ایک شاہراہ پر ایک گاڑی کی زد میں آ گئے تھے جب وہ ایک پنکچر ٹائر والے ٹرک ڈرائیور کی مدد کر رہے تھے۔فوجی اْسقف نشین کے ارکان روم میں کئی اہم سالگرہوں کی تقریبات میں شرکت کے لیے آئے تھے، جن میں 1966ء میں اس ادارے کے قیام کے 60 سال، 1981ء میں اسے فوجی اْسقف نشین کا درجہ دیے جانے کے 45 سال اور اس کے پہلے بشپ کی تقرری کے 25 سال مکمل ہونے کی یاد بھی شامل تھی۔
اپنے خطاب میں پوپ لیو نے مسیحی ارکان کو دعوت دی کہ وہ روم کے اس زیارت نما سفر کو اپنی روحانی تجدید اور ایمان کو مضبوط کرنے کے موقع کے طور پر استعمال کریں۔انہوں نے انہیں افسیوں کے نام خط میں درج مقدس پولوس رسول کے الفاظ پر عمل کرنے کی ترغیب دی:
خداوند میں مضبوط بنو اور اپنی کمر سچائی سے باندھ کر، راست بازی کا بکتر پہن کر اور امن کی خوشخبری سنانے کے لیے اپنے پاؤں تیار کر کے ثابت قدم رہو۔
پوپ لیو نے حاضرین کو کفرنحوم کے صوبہ دار کی مثال بھی دی، جس نے اپنے بیمار خادم کی شفا کے لیے یسوع سے درخواست کی تھی۔ وہ مسیح کے پاس اْس احساس کے ساتھ آیا کہ انسان اپنے بل بوتے پر خود کفیل نہیں بلکہ کسی ایسی حقیقت کا متلاشی ہے جو اس سے بلند اور ماورائی ہو۔انہوں نے وضاحت کی کہ صوبہ دار ان اقدار سے بخوبی واقف تھا جن کے مطابق فوجی اپنی زندگی تشکیل دیتے ہیں، یعنی فرمابرادری، نظم و ضبط، ایثار، وفاداری، رفاقت، لگن، ذمہ داری اور حوصلہ۔انہوں نے کہا کہ صوبہ دار کے رویے سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ درجہ بندی اور اختیار کے نظام کی قدر کرتا تھا اور اس کی روزمرہ زندگی کا یہی پہلو اسے یسوع ناصری کے ساتھ اپنے تعلق کو سمجھنے میں مدد دیتا تھا، جنہیں اْس نے اپنے خداوند اور خدا کے طور پر تسلیم کیا۔
پوپ لیو چہاردہم نے زور دیتے ہوئے کہا کہ ایک طرف یہ فوجی اپنے اختیار سے باخبر تھا، لیکن دوسری طرف خدا کے بیٹے کے سامنے اْس نے ایمان کی قوت اور عاجزی کا حوصلہ ظاہر کیا۔
انہوں نے مزید کہا کہ خواہ کسی شخص کے پاس کتنی ہی بڑی ذمہ داری کیوں نہ ہو، وہ کتنا ہی اختیار کیوں نہ رکھتا ہو اور بظاہر کتنا ہی بے عیب کیوں نہ ہو، پھر بھی وہ ہمیشہ لامحدود حقیقت کا بھوکا اور ابدیت کا پیاسا رہتا ہے۔پوپ لیو نے کہااب لامحدود حقیقت اور ابدیت یسوع مسیح میں ہماری دسترس میں ہیں؛ یہ خداوند کی طرف سے ایک عطیہ ہیں۔
اپنے خطاب کے اختتام پر پوپ لیو چہاردہم نے دْعا کی کہ خاتونِ فاطمہ (Our Lady of Fatima) وہاں موجود تمام افراد کے مشن میں اْن کی رہنمائی اور ساتھ دیتی رہیں۔

Daily Program

Livesteam thumbnail
Urdu Survey Popup