اپنے نظریات میں محدود نہ ہو جائیں بلکہ مسیح کے لیے دل کھلا رکھیں۔پاپائے اعظم لیو چہاردہم
مورخہ 23اگست 2026کومقدس پطرس کے احاطہ میں پاپائے اعظم لیو چہاردہم نے مومنین سے خطاب کرتے ہوئے اس بات پر زور دیا کہ مسیح کے ساتھ ذاتی تعلق قائم کرنا نہایت ضروری ہے تاکہ وہ ہماری زندگیوں اور دنیا کو تبدیل کر سکیں۔ انہوں نے کہا کہ اس کے لیے ہمیں بعض اوقات ایسے راستوں پر بھی چلنے کے لیے تیار رہنا چاہیے جو ہمارے لیے نئے اور غیر مانوس ہوں۔
انہوں نے کہا کہ آئیے کوشش کریں کہ ہم اپنے ذاتی نظریات اور مذہبی یقین کی حدود میں خود کو محدود نہ کریں، بلکہ مسیح کے ساتھ ایک حقیقی تعلق کے لیے اپنے دلوں کو کھلا رکھیں۔
انہوں نے کہا کہ بعض اوقات مسیحی ایمان کے معاملے میں ہم صرف ان باتوں پر اکتفا کر لیتے ہیں جو ہم نے محض سنی ہوتی ہیں، یا عام طور پر رائج تصورات اور روایات کو قبول کر لیتے ہیں، چاہے وہ بہترین نیت کے ساتھ ہی ہم تک پہنچی ہوں۔
تاہم، پوپ نے کہا کہ یسوع ہمیں ایک ذاتی جواب دینے، انہیں مزید قریب سے جاننے اور ان کے ساتھ دوستی کے ذریعے خود کو ڈھالنے کی دعوت دیتے ہیں، جو ہر نئی ملاقات کے ساتھ مزید گہری ہوتی جاتی ہے۔پوپ لیو چہاردہم نے متی کی انجیل سے حوالہ دیا جہاں یسوع اپنے شاگردوں سے پوچھتے ہیں:تم میرے بارے میں کیا کہتے ہو کہ میں کون ہوں؟
پوپ نے زور دیتے ہوئے کہا کہ یہ ہر دور کے شاگردوں اور ہم میں سے ہر ایک کے لیے ایک بنیادی سوال ہے۔انہوں نے وضاحت کی کہ ایمان ایک ایسا سفر ہے جس میں ہمیں مسلسل مسیح کی انجیل کو نئے سرے سے دریافت کرنے کی ضرورت ہوتی ہے، تاکہ ہم اپنی زندگی میں کیے جانے والے فیصلوں کو بھی اس طرح تازہ کر سکیں کہ وہ ہمارے اقرارِ ایمان کے مطابق ہوں۔
پوپ لیو نے کہا کہ اس طرح ہم یہ سمجھنے کی آزمائش پر قابو پا سکتے ہیں کہ ہم پہلے ہی سب کچھ جانتے ہیں اور ایمان کو محض ایک عادت تک محدود کر دیتے ہیں۔
انہوں نے وضاحت کی کہ مسیح کے ساتھ اپنی دوستی کو روزانہ تازہ کرنا ہم سے بعض اوقات ایسے راستوں پر چلنے اور ایسے فیصلے کرنے کا تقاضا بھی کر سکتا ہے جن کا ہم نے تصور نہیں کیا تھا۔
انہوں نے کہا کہ یہ بات ہماری ذاتی زندگی کے سفر کے ساتھ ساتھ کلیسیا کے سفر اور اس کے روحانی و کلیسیائی فیصلوں پر بھی لاگو ہوتی ہے۔انہوں نے اس سوچ سے خبردار کیا کہ صرف وہی کام کرتے رہنا کافی ہے جو ہم ہمیشہ سے کرتے آئے ہیں۔
اس کے بجائے ہمیں خود سے کچھ سوال پوچھنے چاہیے:
میرے لیے خداوند کون ہے؟کیا میں واقعی اسے جانتا ہوں؟
آج اس کی انجیل مجھ سے کیا تقاضا کر رہی ہے؟
مجھے کون سے قدم اْٹھانے اور کون سے فیصلے کرنے کے لیے بلایا جا رہا ہے؟
پوپ لیو نے نشاندہی کی کہ یسوع ہمارے لیے کون ہے اور ہماری زندگی میں اْس کی کیا حیثیت ہے، اس نوعیت کے سوالات خاص طور پر دْعا اور انجیل پر غور و فکر کے دوران ہمارے سامنے آتے ہیں۔
تاہم، انہوں نے کہا کہ یہ سوالات اس وقت بھی اْبھرتے ہیں جب ہم اپنے بھائیوں اور بہنوں کے زخموں اور ضروریات کا سامنا کرتے ہیں، اور ان تعلقات اور حالات سے گزرتے ہیں جو ہمارے ضمیر کو سب سے زیادہ چیلنج کرتے ہیں۔
پوپ لیو چہاردہم نے اپنے پیغا م کے اختتام پر کہا کہ مختصراً، ہماری روزمرہ زندگی میں ہم یہ دریافت کر سکتے ہیں کہ آیا ہمارے لیے خداوند یسوع محض تاریخ کی ایک عظیم شخصیت ہیں، جنہوں نے اہم باتیں کہیں اور اہم کام کیے، یا وہ خدا کا بیٹے ہے، وہ جسے باپ کی محبت میں ہمیں شریک کرنے اور ہماری زندگیوں اور اس دنیا کو تبدیل کرنے کے لیے بھیجا گیا ہے جس میں ہم رہتے ہیں۔
