اگر کوئی انجیل کی منادی کرنے پر میری تنقید کرتا ہے تو وہ سچائی کے ساتھ کرے۔پاپائے اعظم لیو چہاردہم
مورخہ 5مئی 2026کوکاسٹل گاندولفو سے روم واپسی سے قبل پاپائے اعظم لیو چہاردہم نے صحافیوں سے مختصر گفتگو کی اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے اْن پر کی گئی حالیہ تنقیدی باتوں کا جواب دیا۔انہوں نے کہا کہ کلیسیا کا مشن انجیل کی منادی کرنا اور امن کا پرچار کرنا ہے۔ اگر کوئی مجھے انجیل کی منادی کرنے پر تنقید کرنا چاہتا ہے تو وہ سچائی کے ساتھ کرے۔
کاسٹل گاندولفو میں واقع اپنی رہائش گاہ ولا باربرینی کے باہر گفتگو کرتے ہوئے، پوپ لیو نے یاد دلایا کہ کلیسیا ہمیشہ سے جوہری ہتھیاروں کے خلاف آواز اْٹھاتی رہی ہے۔
پوپ لیو نے کہا کہ کئی برسوں سے کلیسیا تمام جوہری ہتھیاروں کے خلاف بولتی آئی ہے، اس لیے اس معاملے میں کوئی شک نہیں ہے۔انہوں نے صدر ٹرمپ کے اس دعوے کے جواب میں یہ بات کہی کہ پوپ ایران کو جوہری ہتھیار رکھنے کی اجازت دیتے ہیں، جس سے تمام کیتھولک خطرے میں پڑ سکتے ہیں۔
پوپ لیو نے زور دیتے ہوئے کہا کہ میں صرف یہ اْمید کرتا ہوں کہ خدا کے کلام کے وسیلے میری بات سنی جائے۔انہوں نے اس بات کو دْہرایا کہ انہوں نے”پوپ منتخب ہونے کے پہلے لمحہ سے ہی واضح طور پر بات کی ہے،اور اب ہم اس کی سالگرہ کے قریب ہیں۔ میں نے کہا تھا:”تم پر سلامتی ہو۔“
امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو کے ساتھ جمعرات 7 مئی کو ہونے والی ملاقات کے بارے میں پوپ لیو نے اْمید ظاہر کی کہ یہ”ایک اچھا مکالمہ“ہوگا، جو”اعتماد اور کشادہ دلی“کے ساتھ کیا جائے گا تاکہ”ہم ایک دوسرے کو بہتر طور پر سمجھ سکیں۔“
پوپ لیو نے مزید کہا کہ میرا خیال ہے کہ وہ جن معاملات کے لیے آ رہے ہیں، وہ آج کے مسائل نہیں ہیں۔ ہم دیکھیں گے اور ایک بار پھر امریکی صدر کے بیانات کی طرف اشارہ کیا۔