ڈاکٹر اینا جی ہیون یو کی جدید ٹیکنالوجی اور انسانی رابطہ پر مبنی بشارتِ انجیل کی اپیل
جنوبی کوریا کی میڈیا صحافی اور ابلاغی ماہر ڈاکٹر اینا جی ہیون یو نے 11 ستمبر کو کوئزون سٹی میں پہلی ایشیائی کیتھولک ڈیجیٹل مشنری اسمبلی کے دوران ایشیا کی حقیقتوں کے موضوع پر ہونے والے پینل مباحثے میں توازن کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ جنوبی کوریا کا انتہائی مربوط ڈیجیٹل معاشرہ کیتھولک بشارتِ انجیل کے لیے نئے مواقع کے ساتھ ساتھ نئے چیلنجز بھی پیش کرتا ہے۔ ان میں جدید ٹیکنالوجی اور انسانی رابطے کے درمیان توازن برقرار رکھنا بھی شامل ہے۔11 تا 13 ستمبر پوپ جان پال دوم آڈیٹوریم، کوئزون سٹی میں منعقد ہونے والی اس اسمبلی میں ایشیا بھر سے کیتھولک ڈیجیٹل مشنری، ابلاغی ماہرین اور مواد تخلیق کرنے والے افراد شریک ہیں تاکہ بڑھتے ہوئے ڈیجیٹل ماحول میں کلیسیا کے ایمان کے ابلاغ کے طریقوں پر غور کیا جا سکے۔
ڈاکٹر اینا نے جنوبی کوریا کو ایک اہم مثال قرار دیا، کیونکہ ملک میں جدید ٹیکنالوجی کا بنیادی ڈھانچہ موجود ہے اور ڈیجیٹل میڈیا کا استعمال بھی بڑے پیمانے پر کیا جاتا ہے۔انہوں نے بتایا کہ تقریباً 94 فیصد کوریائی باشندے انٹرنیٹ سے منسلک ہیں، جبکہ تقریباً نصف آبادی مصنوعی ذہانت کا استعمال کرتی ہے۔تاہم ڈیجیٹل دنیا سے انتہائی زیادہ جڑاؤ لازماً گہرے انسانی یا مذہبی تعلق میں تبدیل نہیں ہوتا۔
ڈاکٹر اینا نے نشاندہی کی کہ جنوبی کوریا میں کیتھولک افراد کی نسبتاً کم تعداد باقاعدگی سے اتوار کی عبادت میں شرکت کرتی ہے۔ اس صورتحال سے کلیسیا کی رکنیت اور اس کی ساکرامنٹ کی زندگی میں عملی شرکت کے درمیان ایک نمایاں فرق سامنے آتا ہے۔ان کے نزدیک یہ اعداد و شمار صرف ڈیجیٹل اور روایتی میڈیا کے درمیان توازن ہی نہیں بلکہ ٹیکنالوجی کے ذریعے رابطہ اور انسانی تعلقات کے درمیان توازن کی ضرورت کو بھی ظاہر کرتے ہیں۔
جنوبی کوریا کا تجربہ ڈیجیٹل ٹیکنالوجی استعمال کرنے اور ڈیجیٹل ماحول میں زندگی گزارنے کے درمیان فرق بھی واضح کرتا ہے۔لوگ اسمارٹ فونز کو اب صرف رابطہ کے لیے نہیں بلکہ خریداری، گفتگو اور روزمرہ زندگی کے بہت سے دیگر امور کے لیے بھی استعمال کرتے ہیں۔اس کے ساتھ ساتھ ڈاکٹر اینا نے خبردار کیا کہ ڈیجیٹل ماحول خاص طور پر نوجوانوں میں تنہائی کے رجحان کو بڑھا سکتا ہے۔اسی لیے انہوں نے نئی ٹیکنالوجیز کو اپنانے کے ساتھ ساتھ انسانی ابلاغ اور براہِ راست تعلق برقرار رکھنے کی اہمیت پر زور دیا۔
ڈاکٹر اینا خود بھی پینل میں ہاتھ سے لکھے ہوئے نوٹس لے کر آئیں۔ انہوں نے بتایا کہ یہ عمل انہیں ابلاغ کے ایک پْرانے اور روایتی انداز کی یاد دلاتا ہے اور انسانی لمس کی اہمیت کی طرف بھی متوجہ کرتا ہے۔ان کے مطابق کیتھولک ابلاغی ماہرین کے لیے چیلنج یہ ہے کہ کلیسیا ان لوگوں تک پہنچتے ہوئے مناسب توازن کیسے قائم کرے جو اپنی روزمرہ زندگی کا بڑا حصہ ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کے ذریعے گزارتے ہیں۔
ڈیجیٹل ٹیکنالوجی بشارتِ انجیل کے لیے اہم مواقع فراہم کرتی ہے۔ آج لوگ معلومات تک رسائی حاصل کرنے اور مواد تیار کرنے کے قابل ہیں، جبکہ ماضی میں یہ صلاحیتیں زیادہ تر پیشہ ور میڈیا اداروں تک محدود تھیں۔تاہم ڈیجیٹل رسائی میں اضافہ سے براہِ راست انسانی ملاقات کی ضرورت ختم نہیں ہوتی۔مباحثے کے دوران ہائی ٹیک اور ہائی ٹچ کے درمیان فرق بھی اجاگر کیا گیا۔ اس سے مراد یہ ہے کہ کیتھولک ابلاغ میں جدید ترین ٹیکنالوجی اور ڈیجیٹل ذرائع استعمال کیے جائیں، لیکن بشارتِ انجیل کے ذاتی اور انسانی پہلو کو نظرانداز نہ کیا جائے۔ایشیائی ڈیجیٹل مشنریوں کے لیے جنوبی کوریا کا تجربہ اس بات کی یاد دہانی ہے کہ جدید ٹیکنالوجی کی ترقی کو موثر بشارتِ انجیل کے مترادف نہیں سمجھنا چاہیے۔کلیسیا مصنوعی ذہانت، سوشل میڈیا اور دیگر ڈیجیٹل ذرائع کو لوگوں تک پہنچنے کے لیے استعمال کر سکتی ہے، لیکن اس کا حتمی مقصد انسانی ملاقات، تعلق اور لوگوں کے ساتھ چلنا ہے۔
ڈاکٹر اینا کا پیغام ایشیا بھر میں کیتھولک ڈیجیٹل مشن کے سامنے موجود ایک بنیادی چیلنج کی عکاسی کرتا ہے۔ جیسے جیسے معاشرے ٹیکنالوجی کے ذریعے ایک دوسرے سے زیادہ جڑ رہے ہیں، کلیسیا کو اس بات کو یقینی بنانا ہوگا کہ اس کی ڈیجیٹل موجودگی مسیحی برادری کی بنیاد انسانی تعلقات کو کمزور کرنے کی بجائے مزید مضبوط کرے۔ایک ایسے ایشیا میں جہاں ڈیجیٹل دنیا تیزی سے پھیل رہی ہے، موثر بشارتِ انجیل کا تقاضا یہ نہیں کہ ٹیکنالوجی اور انسانی رابطے میں سے کسی ایک کا انتخاب کیا جائے، بلکہ یہ سیکھا جائے کہ دونوں کو ایک ساتھ کس طرح موثر انداز میں استعمال کیا جا سکتا ہے۔
