تین کیس اسٹڈیز: ایشیائی ڈیجیٹل مشنریوں کا بے غرضی، دوسروں کو ترجیح اور انسانیت پر زور
ایشیا کیتھولک ڈیجیٹل مشنریوں نے 11 ستمبر کو فلپائن کے شہر کوئزون سٹی میں تین کیس اسٹڈی مباحثوں کے دوران اپنے مشن سے دور ہو جانے کے خطرات، اپنی تشہیر سے دوسروں کی خدمت کی طرف بڑھنے کی ضرورت اور مصنوعی ذہانت کے دور میں انسانیت کو مرکز میں رکھنے کی اہمیت پر غور کیا۔یہ مباحثے پہلی ایشیائی کیتھولک ڈیجیٹل مشنری اسمبلی کا حصہ تھے، جو 10 تا 13 ستمبر تک ریڈیو ویریتاس ایشیا کے کوئزون سٹی میں واقع صدر دفتر میں منعقد ہو رہی ہے۔ اس اجتماع میں ایشیا بھر سے 100 سے زائد کیتھولک ڈیجیٹل مشنری، ابلاغی ماہرین، مواد تخلیق کرنے والے اور ایمانی اثرانداز افراد شریک ہیں۔
یہ اسمبلی فیڈریشن آف ایشین بشپس کانفرنسز کے دفتر برائے سماجی ابلاغ اور ریڈیو ویریتاس ایشیا نے ویٹی کن کے ڈیکاسٹری برائے ابلاغ کے اشتراک سے منعقد کی ہے۔ اسمبلی کا موضوع ہے: انفلوئنسر سے گواہ تک: ایشیا میں ڈیجیٹل مشن کے لیے سنڈی راستہ۔ شرکا کو تین گروہوں میں تقسیم کیا گیا اور ہر گروپ نے ایک کیس اسٹڈی کا جائزہ لیا۔ بعد ازاں تمام گروہوں نے پوپ جان پال دوم آڈیٹوریم میں اپنے غوروفکر کو مشترکہ طور پر پیش کیا۔
پہلے گروپ نے ای بی کانفرنس روم میں انفلوئنسرپریسٹ کے عنوان سے کیس اسٹڈی پر غور کیا۔ اس نشست کی قیادت فلپائن کے ایڈون لوپیز نے کی، جو سی بی سی پی ایپسکوپل کمیشن برائے سماجی ابلاغ کے ایگزیکٹو سیکریٹری ہیں۔ وہ ایشیا پیسیفک خطے کے لیے EWTN کے بین الاقوامی مینیجر بھی ہیں اور مکاتی سٹی کے سان کارلوس سیمینری میں فلسفہ اور الہیات پڑھاتے ہیں۔گروپ کی حتمی سفارشات انڈونیشیا سے تعلق رکھنے والی سارا لیا تونس نے پیش کیں، جو ایک ڈیجیٹل کیٹیکسٹ ہیں اور مارکیٹنگ کے شعبے میں اپنے ایمانی جذبے کو اپنی پیشہ ورانہ خدمت سے جوڑتی ہیں۔فادر البرٹو رایاگنانی کے متنازع معاملے کو سامنے رکھتے ہوئے شرکا نے جائزہ لیا کہ کس طرح سوشل میڈیا، جو ابتدا میں مشن کے لیے ایک ذریعہ تھا، بتدریج ایک مشنری کی شناخت اور ترجیحات کو بدل سکتا ہے۔گروپ نے نشاندہی کی کہ پیسہ، مقبولیت، مواقع، شہرت اور ناظرین کی توقعات ڈیجیٹل خدمت کو دباؤ یا ایک قسم کی لت میں تبدیل کر سکتی ہیں۔ دیگر انفلوئنسرز سے اپنا موازنہ کرنا اور اعداوشمارکے پیچھے چلنے کی کوشش بھی مشنریوں کو ان کی اصل بلاہٹ سے دور لے جا سکتی ہے۔شرکا نے اپنی روحانی اور مشنری زندگی میں توازن برقرار رکھنے کے لیے بے تعلقی کو ایک اہم راستہ قرار دیا۔ اس کا مطلب یہ یاد رکھنا ہے کہ مشنری خود مشن نہیں بلکہ خدا کے مشن میں شریک ہے۔باقاعدہ روحانی امتیاز، فروتنی، رہنمائی، حقیقی انسانی مکالمہ اور کلیسیائی برادری سے جڑے رہنے کو ایسے حفاظتی عوامل قرار دیا گیا جو ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کو مشنری کی شناخت متعین کرنے سے روک سکتے ہیں۔
دوسرے گروپ نے پوپ جان پال دوم کانفرنس روم میں افریقی ڈیجیٹل انفلوئنسر کے عنوان سے کیس اسٹڈی پر غور کیا۔ اس نشست کی قیادت جرمنی سے تعلق رکھنے والے مائیکل ان لینڈ نے کی، جو کیمیکو کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر ہیں۔ کیمیکو ایک کیتھولک میڈیا کونسل ہے جو بالخصوص حاشیے پر موجود برادریوں میں میڈیا اور ابلاغی ترقی کے لیے معاونت فراہم کرتی ہے۔گروپ کی حتمی سفارشات فلپائن کے ڈایوسیس آف کاتارمان سے تعلق رکھنے والی کیرن ڈی گاجوتوس نے پیش کیں۔ وہ مقامی ریڈیو براڈکاسٹر ہونے کے ساتھ رضاکار کیٹیکسٹ طور پر بھی خدمت انجام دیتی ہیں۔مباحثے میں افریقی سنڈی ڈیجیٹل یوتھ اینڈ فیتھ انیشی ایٹو کا جائزہ لیا گیا، جو تقریباً 200 نوجوانوں کو ایک ایسے نظام کے ذریعے جوڑتا ہے جہاں وہ اپنے ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کو باہم مربوط کرتے اور سوشل میڈیا پر مواد ایک دوسرے کے ساتھ شیئر کرتے ہیں۔شرکا نے اسے ایشیا کے لیے ایک ممکنہ نمونہ قرار دیا، جہاں مختلف زبانیں، ثقافتیں اور سماجی حالات ڈیجیٹل مشن کے لیے باہمی تعاون کو نہایت اہم بناتے ہیں۔شرکا خاص طور پر اس بات سے متاثر ہوئے کہ افریقی نوجوان ڈیجیٹل انفلوئنسرز نے اپنی آن لائن سرگرمیوں کو عملی خدمت میں تبدیل کیا ہے۔ اس میں ضرورت مند افراد کے لیے کھانے کا انتظام کرنا اور لوگوں سے بالمشافہ ملاقات کے ذریعے برادریوں کا ساتھ دینا بھی شامل ہے۔اس مباحثے نے ڈیجیٹل مشنریوں کو چیلنج کیا کہ وہ میں سے ان تک کے سفر کو اختیار کریں؛ یعنی اپنی ذات کی تشہیر سے آگے بڑھ کر دوسروں کی کہانیاں بیان کریں، خصوصاً ان لوگوں کی جو کمزور، غریب، تنہا یا معاشرے میں اپنی آواز سے محروم ہیں۔
تیسرے گروپ نے سینٹ جوزف ہال میں اے آئی پریسٹ کے عنوان سے کیس اسٹڈی پر غور کیا۔ اس نشست کی قیادت تھائی لینڈ سے تعلق رکھنے والے پیٹر منتھیانویچیئن چائی نے کی، جو تھائی برطانوی میڈیا ایگزیکٹو، ڈیجیٹل تبدیلی کے ماہر اور سنڈی، عالمی کیتھولک انجمن برائے ابلاغ، کے سیکریٹری جنرلہیں۔ وہ بنکاک میں LICAS News کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر بھی ہیں۔گروپ کی حتمی سفارشات بھارت سے تعلق رکھنے والے فادر رچی ونسنٹ نے پیش کیں، جو سماجی ابلاغ، صحافت اور کیتھولک میڈیا منسٹری کے ماہر ہیں۔
مباحثے میں اس سوال سے آگے بڑھ کر غور کیا گیا کہ مصنوعی ذہانت کیا کچھ کر سکتی ہے اور ایک گہرے سوال پر توجہ مرکوز کی گئی کہ مصنوعی ذہانت کے ذریعے ہم کس نوعیت کے انسان بنتے جا رہے ہیں۔شرکا نے زور دیا کہ مصنوعی ذہانت کو انسانی وقار، حقیقی انسانی تعلقات اور عام بھلائی کی خدمت کرنی چاہیے۔ ٹیکنالوجی لوگوں کو محبت، دانائی، تخلیقی صلاحیت، ذمہ داری اور خدمت میں بڑھنے میں مدد دے، نہ کہ انہیں حقیقی انسانی تعلق قائم کرنے کی صلاحیت سے محروم کرے۔
اے آئی پریسٹ کے امکان نے مزید الٰہیاتی اور پاسبانی سوالات کو جنم دیا۔ اگرچہ مصنوعی ذہانت کاہن کی چندذمہ داریوں کی نقل کر سکتی ہے، مثلاً معلومات فراہم کرنا یا لوگوں کو مقدس صحیفے اور کلیسیا کی تعلیمات کی طرف رہنمائی کرنا، تاہم شرکا نے واضح کیا کہ کہانت کو محض چند ذمہ داریوں یا افعال تک محدود نہیں کیا جا سکتا۔ کاہن ایک انسان ہے جسے خدا کے لوگوں کی خدمت کے لیے بلاہٹ اور ساکرامنٹ کے ذریعے مقرر کیا گیا ہے۔گروپ نے اس سوال پر بھی غور کیا کہ کچھ نوجوان تنہائی، تعلقات، شکوک اور ایمان جیسے معاملات میں مصنوعی ذہانت کے سامنے اپنے دل کی بات کرنے میں زیادہ آسانی کیوں محسوس کر رہے ہیں۔مصنوعی ذہانت کو محض مسترد کرنے کی بجائے شرکا نے تجویز پیش کی کہ اسے حقیقی انسانی رفاقت اور ساتھ چلنے کی طرف ایک پْل کے طور پر استعمال کیا جا سکتا ہے۔ اس طرح معلومات اور ابتدائی سماعت سے آگے بڑھتے ہوئے لوگوں کو روحانی امتیاز اور بالآخر پادریوں، والدین، مشیروں اور کلیسیائی برادریوں تک پہنچایا جا سکتا ہے۔
تینوں گروہوں کے مباحثوں کے بعد نمائندوں نے پوپ جان پال دوم آڈیٹوریم میں اپنے غوروفکر کو یکجا کرتے ہوئے حتمی سفارشات پیش کیں۔ان مباحثوں نے اسمبلی کی مجموعی سمت کو بھی نمایاں کیا، یعنی انفلوائنسر سے گواہی کی طرف سفر۔ایشیائی ڈیجیٹل مشنریوں کے لیے اس کا مطلب یہ ہے کہ جب ڈیجیٹل پلیٹ فارمز ان کی شناخت کو بدلنے کا خطرہ پیدا کریں تو وہ بے تعلقی اختیار کریں، اپنی ذات کی بجائے دوسروں کو ابلاغ کے مرکز میں رکھتے ہوئے میں سے ان تک کا سفر طے کریں، اور اس بات کو یقینی بنائیں کہ مصنوعی ذہانت انسانی فلاح و بہبود کے لیے ایک ذریعہ ہی رہے۔آخرکار تینوں کیس اسٹڈیز نے ایک ایسے ڈیجیٹل مشن کی طرف اشارہ کیا جس کا مرکز فالوورز، الگورتھمز یا ذاتی اثراندازی نہیں بلکہ مسیح، کلیسیائی برادری، انسانی وقار اور حقیقی گواہی ہے۔
