مقدس فرانسس آف اسیسی کی 800 سالہ جوبلی کے موقع پر بین المذاہب مکالمہ ایوارڈز کی تقریب اور جشن ِیومِ آزادیِ پاکستان۔
مورخہ 12 اگست 2026 کو کیتھولک کمشن برائے بین المذاہب مکالمہ کے زیرِ اہتمام سینٹ انتھنی ہال لاہور میں مقدس فرانسس آف اسیسی کی 800 سالہ جوبلی اور پاکستان کے 79ویں یومِ آزادی کے موقع پر بین المذاہب مکالمہ ایوارڈز کی تقریب کا انعقاد کیا گیا۔جس میں کاہن صاحبان،علماء اکرام، مذہبی رہنماؤں، اساتذہ، طلبہ اور معزز مہمانوں نے شرکت کی۔ تقریب کی صدارت ریورنڈفادر آصف سردار(وکر جنرل ،آرچ ڈایوسیس۔لاہور) نے کی۔ اس تقریب کا مقصد بنیادی بین المذاہب ہم آہنگی، قومی یکجہتی، امن، محبت اور باہمی احترام کی فضا کو عام کرنا تھا۔تقریب کے آغا ز پر ریورنڈفادر آصف سردار کے ہمراہ تمام مہمانان ِ گرامی نے شمع روشن کی جو امن، اْمید اوراتحاد کی علامت تھی۔ ریورنڈ فادر بشارت سراج نے بائبیل مقدس جبکہ قاری خالد محمودنے قرآنِ مجید کی آیات کی تلاوت کی۔ جس کے بعد سب نے مل کر نہایت ادب سے پاکستان کا قومی ترانہ پڑھا گیا۔
ریورنڈ فادر آصف سردار نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ آج ہم نے جو امن شمع روشن کی ہے، دْعا ہے کہ اس کی روشنی ہمیشہ ہمارے دلوں میں روشن رہے اور ہمارے قول و عمل کو امن، محبت اور بھائی چارے کی راہ دکھاتی رہے۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں بھی مقدس فرانسس آف اسیسی کی طرح خدا کے حضور یہ دعا کرنی چاہیے کہ اے خداوند! مجھے اپنے امن کا وسیلہ بنا دے، تاکہ جہاں نفرت ہو وہاں محبت، جہاں اختلاف ہو وہاں اتحاد، جہاں مایوسی ہو وہاں اْمید اور جہاں تاریکی ہو وہاں روشنی لے کر جاؤں۔ انہوں نے کہا کہ اگر ہم اس دعا کو اپنی زندگی کا حصہ بنا لیں تو ہم نہ صرف اپنے معاشرے بلکہ اپنے ملک میں بھی امن، محبت اور ہم آہنگی کے فروغ کا ذریعہ بن سکتے ہیں۔
مولانا عاصم مخدوم(چئیرمین) نے اپنے خطاب میں کہا کہ مکالمہ جنگ سے بہتر ہے، کیونکہ جنگ کے ذریعے ہم کسی قلعہ یا کسی ملک کو فتح تو کر سکتے ہیں، لیکن مکالمہ کے ذریعے ہم دوسروں کے دل جیت سکتے ہیں اور ایسی فتح حاصل کر سکتے ہیں جو ہمیشہ قائم رہتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ جنگ شاید وقتی طور پر کسی فریق کو کامیاب بنا دے، مگر مکالمہ نفرتوں کو ختم کرکے دلوں میں محبت اور اعتماد پیدا کرتا ہے اور دیرپا امن کی بنیاد رکھتا ہے۔مولانا عاصم مخدوم نے مقدس فرانسس آف اسیسی کی مصر کے سلطان الملک الکامل سے تاریخی ملاقات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ یہ ایک ایسا عظیم مکالمہ تھا جس کی گونج 800 سال گزرنے کے باوجود آج بھی سنائی دے رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس تاریخی ملاقات نے ثابت کیا کہ مختلف مذاہب اور نظریات رکھنے والے لوگ بھی ایک دوسرے کے قریب آ سکتے ہیں، ایک دوسرے کو سن سکتے ہیں اور اختلاف کے باوجود امن و احترام کے ساتھ مکالمہ کر سکتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ آج دنیا کو بھی اسی جذبے کی ضرورت ہے، جہاں تلواروں اور جنگوں کی بجائے مکالمہ کے ذریعے دلوں کو فتح کیا جائے اور نفرت کی بجائے امن، محبت اور بھائی چارے کو فروغ دیا جائے۔
ریورنڈ فاد ر شہزاد کھوکھر نے پروگرام کے اغراض و مقاصد بیان کرتے ہوئے بتایا کہ یہ تقریب یومِ اقلیت،مقدس فرانسس آف اسیسی کی 800سالہ جوبلی اور پاکستان کے یومِ آزادی کے سلسلے میں منعقد کی گئی ہے،جس کا مقصد امن، مکالمہ، مساوات، بین المذاہب ہم آہنگی اور قومی یکجہتی کا ایک خوبصورت عملی اظہار ہے۔
جناب ڈاکٹر مجید ایبل نے مقدس فرانسس آف اسیسی کی زندگی، فکر، فلسفہ اور تعلیمات کے گہرے مطالعے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ان کی زندگی آج کے انسان کے لیے ایک روشن مثال ہے۔ انہوں نے بالخصوص نوجوانوں کو ترغیب دی کہ وہ مقدس فرانسس کی سادگی، عاجزی، خدمتِ انسانیت، امن پسندی اور محبت سے بھرپور زندگی سے رہنمائی حاصل کریں اور ان اقدار کو اپنی عملی زندگی کا حصہ بنائیں۔ انہوں نے کہا کہ مقدس فرانسس آف اسیسی کی تعلیمات نہ صرف فرد کی روحانی تربیت کا ذریعہ ہیں بلکہ ایک پُرامن، باہمی احترام اور انسان دوستی پر مبنی معاشرے کی تشکیل میں بھی اہم کردار ادا کر سکتی ہیں۔
جناب اصغر عاطف نے امن اور مکالمہ کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ جنگ اور تشدد کے ذریعے تنازعات کا مستقل حل ممکن نہیں۔ اختلافات کے خاتمہ اور پُرامن معاشرے کے قیام کے لیے مکالمہ، باہمی سمجھ بوجھ اور پُرامن روابط ناگزیر ہیں۔
مولوی حسین گْل وری نے قیامِ پاکستان میں مسیحیوں کے تاریخی کردار کو اْجاگر کیا اور تحریکِ پاکستان کے دوران مسیحیوں کی حمایت اور شرکت کو خراجِ تحسین پیش کیا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی تاریخ اقلیتوں کی خدمات کے اعتراف کے بغیر مکمل نہیں ہو سکتی۔
احمد قاسمی نے قائداعظم محمد علی جناح کے تصورِ پاکستان کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ بانیِ پاکستان نے تمام شہریوں کے لیے مساوی حقوق کا تصور پیش کیا تھا۔ مذہبی اختلافات کو امتیاز یا تقسیم کا سبب نہیں بننا چاہیے بلکہ ہر پاکستانی کو عزت، مساوات اور احترام کے ساتھ زندگی گزارنے کا حق حاصل ہے۔
تقریب میں ریورنڈفادر قیصر فیروز او۔ ایف۔ایم۔کیپ کی رہنمائی میں کیپوچن یوتھ آف مومن پورہ، لاہور کینٹ نے امن کے دعائیہ گیت پر مقدس فرانسس آف اسیسی کی زندگی کے اہم واقعات کو خوبصورت انداز میں پیش کیا نیز سینٹ جوزف پیرش کے بچوں نے خوبصورت ملی نغمہ پیش کیا۔ بعد ازاں تمام مہمانانِ گرامی نے ملکر کیک کاٹا۔پروگرام کے اختتام پر تمام مہمانانِ گرامی کو خصوصی شیلڈز پیش کی گئیں۔
