بچوں سے مشقت انسانی عظمت کی سنگین خلاف ورزی ہے۔فضیلت مآب آرچ بشپ ڈاکٹر جوزف ارشد
مورخہ 5اگست 2026کوفضیلت مآب آرچ بشپ ڈاکٹر جوزف ارشد نے اپنے پیغام میں کہا ہے کہ بچوں سے مشقت ان کے بچپن، تعلیم اور روشن مستقبل کو چھین لیتی ہے اور یہ انسانی عظمت کی سنگین خلاف ورزی ہے۔انہوں نے کہا کہ ہر بچے کو تعلیم، تحفظ، صحت اور محفوظ بچپن کا بنیادی حق حاصل ہے، جبکہ ان کی جگہ مزدوری نہیں بلکہ اسکول اور کھیل کے میدان ہیں۔ انہوں نے کہا کہ غربت، بے روزگاری اور تعلیم تک محدود رسائی بچوں سے مشقت کی اہم وجوہات ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ نیشنل کمیشن فار ہیومن رائٹس اور یونیسیف پاکستان کے سروے کے مطابق ملک میں تقریباً 86 لاکھ 10 ہزار بچے مشقت میں مصروف ہیں۔ بشپ جی نے کہا کہ بچوں سے مشقت ان کی صحت، تعلیم اور ذہنی نشوونما کو شدید متاثر کرتی ہے اور انہیں استحصال، تشدد اور غیر محفوظ حالات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ بچوں سے مشقت صرف معاشی یا قانونی نہیں بلکہ ایک سنگین اخلاقی، سماجی اور انسانی حقوق کا مسئلہ ہے، جس کا خاتمہ ہم سب کی مشترکہ قومی ذمہ داری ہے۔
فضیلت مآب آرچ بشپ ڈاکٹر جوزف ارشد نے حکومت، قانون نافذ کرنے والے اداروں، تعلیمی اداروں، مذہبی رہنماؤں اور سول سوسائٹی پر زور دیا کہ وہ بچوں سے مشقت کے خاتمے، معیاری تعلیم کی فراہمی اور متاثرہ بچوں کی بحالی کے لیے مشترکہ اقدامات کریں۔انہوں نے آجروں سے اپیل کی کہ وہ اپنے اداروں اور سپلائی چین میں بچوں سے مشقت کی ہر صورت کی حوصلہ شکنی کریں۔
آخر میں بشپ جی نے کہا کہ ہمارے بچے مزدوری کا ذریعہ نہیں بلکہ پاکستان کا مستقبل ہیں۔ آئیں ان کے ہاتھوں میں اوزاروں کے بجائے کتابیں دیں تاکہ ایک تعلیم یافتہ، محفوظ اور پرامن معاشرہ تشکیل پا سکے۔
