خواتین کو ان کا جائز مقام دیا جائے:بھارتی جیزوٹ کاہن کی FABC جنرل اسمبلی سے قبل ایشیائی بشپ صاحبان سے اپیل
فیڈریشن آف ایشین بشپس کانفرنسز (FABC) کی بارہویں جنرل اسمبلی 20 تا 26 جولائی تک انڈونیشیا کے دارالحکومت جکارتہ میں منعقد ہو رہی ہے۔ اس موقع پر بھارت سے تعلق رکھنے والے جیزوٹ کاہن، فادر سیڈرک پرکاش، ایس جے نے ایشیا کے کلیسیائی رہنماؤں پر زور دیا ہے کہ وہ ”خواتین کو بااختیار بنانا“ سنڈی تبدیلی کے عمل کا ایک بنیادی حصہ بنائیں۔
ریڈیو ویریتاس ایشیا (RVA) سے گفتگو کرتے ہوئے فادر سیڈرک پرکاش نے کہا کہ اگر ایشیا کی کلیسیا واقعی ایک زیادہ سنڈی اور مشنری کلیسیا بننا چاہتی ہے تو اسے دیانت داری کے ساتھ اپنے ضمیر کا جائزہ لینا ہوگا۔
گجرات، بھارت سے تعلق رکھنے والے فادر سیڈرک پرکاش انسانی حقوق، مفاہمت اور اَمن کے عالمی شہرت یافتہ کارکن، مصنف اور تربیت کار ہیں۔ اکتوبر 2021 میں پوپ فرانسس کی جانب سے سنڈی سفر کے آغاز کے بعد سے وہ بھارت میں سنڈیلٹی کے تصور کو فروغ دینے اور گہری تفہیم پیدا کرنے میں نمایاں کردار ادا کر رہے ہیں۔ اس موضوع پر ان کے متعدد مضامین بین الاقوامی کیتھولک جرائد اور آن لائن پلیٹ فارمز پر شائع ہو چکے ہیں، جبکہ وہ مختلف سیمینارز، کانفرنسز، ویبی نارز اور روحانی مشقوں میں سنڈیلٹی کی اہمیت اور عصر حاضر میں اس کی معنویت پر خطاب کرتے رہے ہیں۔فادر پرکاش نے جنرل اسمبلی کے لیے اپنی اہم ترجیحات بیان کرتے ہوئے کہا کہ کلیسیا کو خواتین کا جائز مقام دینا چاہیے اور مردانہ بالادستی کا ہر شکل کا خاتمہ کرنا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ حقیقی سنڈی تبدیلی صرف ادارہ جاتی اصلاحات سے ممکن نہیں بلکہ اس کے لیے انجیل کی روشنی میں دوسروں کو سننے اور تبدیلی کو قبول کرنے کا حوصلہ درکار ہے۔انہوں نے کہا کہ اگر ایشیا کی کلیسیا سنڈی تبدیلی کے بارے میں سنجیدہ ہے تو اسے اپنے ضمیر کا مخلصانہ جائزہ لینا ہوگا۔سنڈیلٹی کے مفہوم پر روشنی ڈالتے ہوئے فادر پرکاش نے کہا کہ یہ لفظ یونانی زبان کے لفظ ”سنوڈوس“ (Synodos) سے ماخوذ ہے، جس کا مطلب ہے ”مل کر سفر کرنا“۔ ان کے مطابق کلیسیا کا مشن انفرادی فیصلوں کے بجائے باہمی مشاورت پر قائم ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ کلیسیا کو ایک ایسی برادری بننا چاہیے جو دوسروں کی بات توجہ سے سْنے، خصوصاً غریبوں کی آواز کو اہمیت دے، مومنین کے کردار کو مضبوط بنائے، نیک نیت افراد کے ساتھ مکالمہ کو فروغ دے، تخلیق کی حفاظت کرے اور ناانصافی، استحصال، تشدد اور ہر قسم کے امتیازی سلوک کے خلاف واضح مؤقف اختیار کرے۔
فادر پرکاش نے کلیسیا میں روحانی اختیار کے غلط استعمال اور ضرورت سے زیادہ مرکزیت کے رجحان سے خبردار کرتے ہوئے کہا کہ حقیقی سنڈی کلیسیا کی تشکیل کے لیے عام مومنین کی موثر اور بامعنی شرکت ناگزیر ہے۔انہوں نے حال ہی میں اختتام پذیر ہونے والے عالمی سنڈی برائے سنڈیلٹی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ کلیسیا کو اپنی زندگی اور مشن کے ہر شعبے میں ذاتی اور اجتماعی تبدیلی کے ذریعے سنڈی بننا ہوگا۔پوپ فرانسس کے الفاظ کو دْہراتے ہوئے فادر پرکاش نے کہا کہ سنڈیلٹی کا مطلب ہے مل کر سفر کرنا۔ اسی سفر میں ہم روح القدس کی آواز سنتے ہیں اور فروتنی کے ساتھ اس تبدیلی کو قبول کرتے ہیں جس کی خدا ہم سے توقع کرتا ہے۔انہوں نے پوپ لیو چہاردہم کی پہلی دستاویز ”Magnifica Humanitas“ ”عظیم الشان انسانیت“کا حوالہ دیتے ہوئے بھی کہا کہ سنڈیلٹی کا تقاضا ہے کہ کلیسیا میں شفافیت، جواب دہی اور مشترکہ ذمہ داری کو فروغ دیاجائے تاکہ اس کے ادارے انہی اقدار کی حقیقی عکاسی کریں جن کی وہ تعلیم دیتی ہے۔فادر پرکاش کے مطابق یہی اصول کلیسیا کو مشترکہ بھلائی، یکجہتی، ذیلی ذمہ داری، سماجی انصاف اور تخلیق کی نگہداشت کے فروغ میں رہنمائی فراہم کرتے ہیں۔انہوں نے اپنے پیغام کے اختتام پر سوال اْٹھایا کہ آیا FABC کی جنرل اسمبلی روح القدس کی رہنمائی کو سْننے، حقیقی سنڈی تبدیلی اختیار کرنے اور اپنے الفاظ کو عملی اقدامات میں بدلنے کا حوصلہ دکھا سکے گی۔
ایک ہفتے پر محیط FABC کی بارہویں جنرل اسمبلی میں ایشیا بھر سے بشپ شریک ہوں گے، جہاں وہ اس بات پر غور کریں گے کہ خطے کے سماجی، ثقافتی اور چرواہی چیلنجز کا مؤثر جواب دیتے ہوئے کلیسیا کس طرح اتحاد، شراکت اور مشن کو مزید مضبوط بنا سکتی ہے۔