خدا کی میز سب کے لیے سجی ہے۔پاپائے اعظم لیو چہاردہم
مورخہ 16اگست 2026کوپوپ لیو چہاردہم نے کاسٹل گاندولفو میں جمع ہو نے والے مومنین سے خطاب کرتے ہوئے کنعانی عورت کے ایمان پر غور کیا اور کلیسیا پر زور دیا کہ وہ اس حقیقت کو تسلیم کرے کہ خدا کا فضل قائم شدہ حدود سے باہر بھی کام کرتاہے اور ہر اس امتیاز اور رکاوٹ کو ختم کرتا ہے جو انسانی وقار کی پامالی کا باعث بنتی ہے۔
اگرچہ کنعانی عورت یسوع کی قوم سے تعلق نہیں رکھتی تھی اور ایک غیر ملکی سرزمین میں رہتی تھی لیکن وہ مسلسل یسوع سے بات کرنے کی کوشش کرتی رہی۔پوپ لیو نے کہا کہ وہ یسوع کے پیچھے اس طرح چل رہی تھی جیسے ایک شاگرد پہلے ہی اُن کے ساتھ تعلق رکھتا ہو۔ اگرچہ غالباً وہ دونوں پہلے کبھی نہیں ملے تھے، لیکن ایمان نے پراسرار طور پر پہلے ہی اس کے دل میں جڑ پکڑ لی تھی۔اس عورت نے اپنے لیے کچھ نہیں مانگا بلکہ اس نے اپنی تکلیف میں مبتلا بیٹی کے لیے شفا اور سکون طلب کیا اور یسوع پر اپنا بھروسہ رکھا۔ اس نے انہیں مسیحا اور داؤد کے بیٹے کے طور پر پہچانا۔ شاگرد اْسے ایک زحمت سمجھتے تھے جبکہ خود یسوع نے بھی ابتدا میں اس کی درخواست کو قبول نہیں کی۔لیکن پھر ایک غیر متوقع بات ہوئی یسوع نے اس عورت سے فرمایا:”اے عورت! تیرا ایمان بڑا ہے۔ جیسا تو چاہتی ہے تیرے لیے ویسا ہی ہو۔“
پوپ نے کہا کہ یہ ملاقات آج کی کلیسیا کے لیے بھی ایک اہم سبق پیش کرتی ہے۔پوپ لیو نے کہا کہ یہ ملاقات مسیحیوں سے تقاضا کرتی ہیں کہ وہ توجہ سے سنیں اور اپنی آنکھیں اور دل اس بات کے لیے کھولیں کہ خدا انہیں کیا پیغام دینا چاہتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ کنعانی عورت سے مسیحی مومنین عاجزی اور عزم دونوں سیکھتے ہیں۔اس عورت کا ایمان ہمیں سکھاتا ہے کہ خدا کی میز سب کے لیے سجی ہے۔اور کسی کو صرف بچے ہوئے ٹکڑوں پر نہیں چھوڑا جانا چاہیے، کیونکہ ہر انسان کا باپ کے گھر میں ایک مقام ہے۔
اپنے خطاب کے اختتام پر پوپ لیو نے کلیسیا کو یسوع مسیح کی وہ کلیسیا قرار دیا جو ”ایک ایسی پریشان حال دنیا میں زندگی بسر کر رہی ہے جو امن کی تلاش میں ہے۔“
انہوں نے مومنین کو دعوت دی کہ وہ مقدسہ مریم سے شفاعت کریں اور نغمہ ِمریم کا ذکر کرتے ہوئے اسے ”سب سے مضبوط اور سب سے جدت انگیز حمدیہ گیت“قرار دیا۔
انہوں نے کہا کہ یہ ہراُس شخص کا گیت ہے جو حقیقت کو ”خدا کی آنکھوں سے دیکھتا“اور اسی وجہ سے کبھی اْمید نہیں کھوتا بلکہ محبت کے ساتھ عمل کرتا ہے۔
