ایمان ہمیں دْکھی انسانیت کو دیکھنے کی بصیرت دیتا ہے۔پاپائے اعظم لیو چہاردہم

مورخہ 15مارچ 2026کومامائے اعظم لیو چہاردہم نے مقدس پطرس کے احاطہ میں اینجلس کی دْعا کے بعد یسوع مسیح کے پیدائشی اندھے شخص کو شفا دینے کے واقعہ پر غور کرتے ہوئے کہا کہ ایمان ہمیں انسانیت اور اْس کی تکالیف کو ویسے دیکھنا سیکھاتا ہے جیسے خدا اْنہیں دیکھتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ اس واقعہ میں نجات کا راز ظاہر ہوتا ہے، کیونکہ خدا کا بیٹا اس لیے آیا کہ انسانیت کی آنکھیں کھولے جو تاریکی میں زندگی گزار رہی تھی۔
اْن کے مطابق جس طرح انجیل کا وہ شخص اندھا پیدا ہوا تھا، اسی طرح ہم بھی زندگی کے اس راز کو سمجھنے کے معاملے میں ”اندھے پیدا ہوئے“ہیں، کیونکہ زندگی کی گہرائی ہماری سمجھ سے کہیں زیادہ ہے۔انہوں نے کہا کہ اسی لیے خدا یسوع میں مجسم ہوا، تاکہ ہماری انسانیت کی مٹی، جو اُس کے فضل کی سانس سے بنی ہے، ایک نئی روشنی حاصل کرے۔ایسی روشنی جو ہمیں اپنے آپ کو، دوسروں کو اور خدا کو سچائی کے ساتھ دیکھنے کے قابل بنائے۔پوپ لیو نے اس خیال کا بھی ذکر کیا کہ بعض لوگ ایمان کو”اندھیرے میں چھلانگ“قرار دیتے ہیں، جس کا مطلب یہ لیا جاتا ہے کہ ایمان آنکھیں بند کر کے اندھا یقین کرنا ہے۔لیکن انہوں نے واضح کیا کہ مسیح اور اُس کی محبت سے تعلق ہماری آنکھیں اس طرح کھول دیتا ہے جیسے پہلے کبھی نہ کھلی ہوں۔
انہوں نے کہا کہ ایمان کوئی اندھا عمل نہیں ہے، نہ یہ عقل کو چھوڑ دینا ہے اور نہ ہی ایسی مذہبی یقین دہانی میں پناہ لینا ہے جو ہمیں دنیا سے منہ موڑنے پر مجبور کرے۔ بلکہ ایمان ہمیں چیزوں کوویسے دیکھنے میں مدد دیتا ہے جیسے خود یسوع انہیں دیکھتے ہیں، یعنی اُنہی کی آنکھوں سے۔
پوپ لیو نے مسیحیوں کو دعوت دی کہ وہ اپنی آنکھیں کھولیں تاکہ دوسروں کی تکالیف اور اُن زخموں کو دیکھ سکیں جو انسانیت کو اذیت دیتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ جب دنیا میں تشدد پھیل رہا ہے تو مسیحیوں کو چاہیے کہ وہ ایک”باشعور، محتاط اور نبوتی ایمان“کی گواہی دیں، چاہے اُن کے اِردگرد ناانصافی، تشدد اور دْکھ ہی کیوں نہ ہو۔
انہوں نے مزید کہا کہ ایمان کو چاہیے کہ وہ دنیا کی تاریکی کو دیکھنے کے لیے ہماری آنکھیں کھولے اور امن، انصاف اور یکجہتی کے لیے ہمارے عزم کے ذریعے انجیل کی روشنی دوسروں تک پہنچائے۔
آخر میں پوپ لیو چہاردہم نے دْعا کرتے ہوئے مبارک کنواری  مقدسہ مریم سے شفاعت طلب کی تاکہ یسوع مسیح ہمارے دلوں کو کھول دے اور ہم سادگی اور حوصلہ کے ساتھ اُس کی گواہی دے سکیں۔