جوزف وجے چندر شیکھر (فلمی ہیرو سے سیاسی رہنما بنے تک کا سفر)
بھارت کی سیاست میں کئی حیران کن واقعات رونما ہوئے، مگر ایک فلمی اداکار کا صرف دو سال میں اپنی سیاسی جماعت بنا کر ریاستی اقتدار تک پہنچ جانا ایک غیر معمولی واقعہ سمجھا جا رہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جب Vijay المعروف”تھلاپتی وجے“نے سیاست میں قدم رکھا تو ابتدا میں بہت سے لوگوں نے اْسے محض ایک فلمی مہم سمجھا، لیکن وقت نے ثابت کیا کہ وجے صرف اسکرین کے ہیرو نہیں بلکہ عوامی طاقت کا بھی ایک بڑا نام بن چکے ہیں۔وجے کا اصل نام جوزف وجے چندر شیکھر ہے۔ وہ 22 جون 1974 کو بھارتی ریاست تامل ناڈو کے شہر چنئی میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد S. A. Chandrasekhar تامل فلم انڈسٹری کے معروف فلم ڈائریکٹر تھے جبکہ والدہ شوبھا چندر شیکھر گلوکارہ، رائٹر اور پروڈیوسر رہ چکی ہیں۔
وجے ایک مسیحی خاندان میں پلے بڑھے، مگر اْن کی شخصیت ہمیشہ مذہبی ہم آہنگی اور برداشت کی علامت سمجھی گئی۔ اْن کی ایک بہن ودیا بھی تھی، مگر کم عمری میں اْس کا انتقال ہو گیا۔ اس سانحہ نے وجے کی شخصیت پر گہرا اثر ڈالا اور وہ پہلے سے زیادہ خاموش اور سنجیدہ مزاج بن گئے۔وجے نے کم عمری میں ہی فلمی دنیا میں قدم رکھ دیا تھا۔ ابتدا میں انہوں نے بطور چائلڈ آرٹسٹ کام کیا، لیکن بطور ہیرو اْن کی پہلی فلم”Naalaiya Theerpu“تھی جو 1992 میں ریلیز ہوئی۔
ابتدا آسان نہیں تھی۔ ناقدین اْن کی اداکاری، آواز اور انداز پر تنقید کرتے تھے، مگر وجے نے مسلسل محنت جاری رکھی۔ نوّے کی دہائی کے آخر تک وہ نوجوان نسل کے پسندیدہ اداکار بن چکے تھے۔سن 2000کے بعد وجے کی مقبولیت نے نئی بلندیوں کو چھونا شروع کیا۔اْن کی فلموں نے نہ صرف ریکارڈ بزنس کیا بلکہ انہیں تامل سینما کا سب سے بڑا اسٹار بنا دیا۔وجے کی فلموں میں اکثر سماجی انصاف، کرپشن، نوجوانوں کے مسائل، کسانوں کی مشکلات اور غریب طبقات کے حقوق جیسے موضوعات دکھائے جاتے تھے۔
یہی وجہ تھی کہ عوام نے انہیں صرف اداکار نہیں بلکہ ایک عوامی آواز کے طور پر بھی دیکھنا شروع کر دیا۔اْن کا فین بیس جنوبی بھارت میں ایک منظم طاقت بن گیا۔ ان کے مداح صرف فلموں کے شوقین نہیں تھے بلکہ خون کے عطیات، فلاحی کاموں، قدرتی آفات کے متاثرین کی مدد اور غریبوں کی امداد میں بھی سرگرم رہتے تھے۔شہرت کی بلندیوں پر پہنچنے کے باوجود وجے نے ہمیشہ اپنی ذاتی زندگی کو سادگی اور وقار کے ساتھ گزارا۔
1999 میں انہوں نے Sangeeta Sornalingam سے شادی کی، جو برطانیہ میں مقیم ایک سری لنکن تامل خاندان سے تعلق رکھتی تھیں۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ سنگیتا ابتدا میں وجے کی مداح تھیں، اور بعد میں یہ تعلق محبت اور پھر شادی میں بدل گیا۔وجے اور سنگیتا کے دو بچے ہیں: ایک بیٹا جیسن سنجے اور ایک بیٹی دیویا ساشا۔ وجے اپنے بچوں کو میڈیا کی توجہ سے کافی حد تک دور رکھتے ہیں تاکہ وہ عام زندگی گزار سکیں۔
اْن کے قریبی لوگ اکثر کہتے ہیں کہ اصل زندگی میں وجے نہایت نرم مزاج، خاموش اور شرمیلے انسان ہیں۔ وہ فلمی پارٹیوں اور تنازعات سے دور رہنے کو ترجیح دیتے ہیں۔
2024 میں وجے نے باضابطہ طور پر اپنی سیاسی جماعت Tamilaga Vettri Kazhagam قائم کی۔ اس اعلان نے پورے بھارت میں سیاسی ہلچل مچا دی۔تامل ناڈو کی سیاست میں فلمی ستاروں کا اثر پہلے بھی موجود رہا ہے۔ M. G. Ramachandran اور J. Jayalalithaa جیسے اداکار پہلے ہی اقتدار تک پہنچ چکے تھے، مگر وجے کا سفر زیادہ حیران کن اس لیے تھا کیونکہ انہوں نے بہت کم وقت میں غیر معمولی عوامی حمایت حاصل کر لی۔
وجے کی سیاسی تقاریر میں نوجوانوں، تعلیم، روزگار، سیکولرزم اور سماجی انصاف جیسے موضوعات نمایاں رہے۔ ان کی ریلیوں میں لاکھوں افراد شریک ہونے لگے، خاص طور پر نوجوان طبقہ ان کے ساتھ مضبوطی سے جڑ گیا۔
2026 کے تامل ناڈو انتخابات میں وجے کی جماعت نے حیران کن کارکردگی دکھائی۔ صرف دو سال پرانی جماعت نے دہائیوں سے قائم سیاسی طاقتوں کو چیلنج کر دیا۔اْن کی کامیابی کی سب سے بڑی وجہ ان کا غیر معمولی اسٹارڈم، صاف ستھری عوامی شبیہ، نوجوان ووٹرز کی حمایت اور عوامی رابطہ تھا۔وجے نے فلموں میں ایک ایسے ہیرو کا کردار ادا کیا جو ظلم کے خلاف کھڑا ہوتا تھا، اور سیاست میں بھی انہوں نے خود کو عوامی مسائل کی آواز کے طور پر پیش کیا۔ یہی چیز ان کے مداحوں کو جذباتی طور پر ان کے قریب لے آئی۔
وجے کی کہانی صرف ایک اداکار کے سیاست میں آنے کی کہانی نہیں بلکہ یہ اس بات کی مثال ہے کہ جدید دور میں میڈیا، شہرت، عوامی رابطہ، فلاحی سرگرمیاں اور مضبوط فین بیس کس طرح ایک فلمی ستارے کو سیاسی طاقت میں تبدیل کر سکتے ہیں۔تھلاپتی وجے آج صرف ایک اداکار نہیں بلکہ جنوبی بھارت کی بدلتی ہوئی سیاسی تاریخ کا ایک اہم باب بن چکے ہیں۔
تھلاپتی وجے کی زندگی ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ مسلسل محنت، صبر، عوامی خدمت اور مثبت سوچ انسان کو کسی بھی میدان میں کامیاب بنا سکتی ہے۔اگر کوئی شخص اپنی شہرت کو صرف ذاتی فائدے کے بجائے عوام کی بھلائی کے لیے استعمال کرے تو وہ لوگوں کے دلوں میں ہمیشہ زندہ رہتا ہے۔