فادر ساویو مینیزز گاما
ریورنڈ فادر ساویو مینیز ز گاماایک نہایت قابلِ احترام کاہن تھے جنہوں نے اپنی پوری زندگی خدا، کلیسیا اور انسانیت کی خدمت کے لیے وقف کر دی۔ وہ اپنی عاجزی، روحانیت، محبت اور قربانی کے جذبے کی وجہ سے گوا کے لوگوں کے دلوں میں آج بھی زندہ ہیں۔ریورنڈفادر ساویو مینیزز گاما کی پیدائش تقریباً سن 1952 میں گوا، بھارت میں ایک مذہبی اور روحانی خاندان میں ہوئی۔ وہ اپنی والدہ Clementina Menezes Gama کی سولہ اولادوں میں تیرہویں نمبر پر تھے۔ بچپن ہی سے اْن کے اندر دْعا، عبادت اور خدا کی خدمت کا خاص جذبہ پایا جاتا تھا۔
انہوں نے اپنی ابتدائی تعلیم گوا میں حاصل کی اور بعد میں مذہبی تعلیم کے لیے سیمنری میں داخل ہوئے۔ خدا کے بلاوے کو سمجھتے ہوئے انہوں نے کاہن بننے کا فیصلہ کیا اور کلیسیا کی خدمت شروع کی۔ ریورنڈفادر ساویو نوجوانوں، بچوں اور غریب لوگوں سے بے حد محبت کرتے تھے۔ وہ خاص طور پر الطار کی خدمت کرنے والے بچوں اور نوجوانوں کی تربیت پر توجہ دیتے تھے۔ اْن کے روحانی پروگرام، دھیان و گیان اور دْعائیہ اجتماعات لوگوں کی زندگیوں میں ایمان اور اْمید پیدا کرتے تھے۔
بہت سے لوگ انہیں ”زندہ مقدس“سمجھتے تھے کیونکہ اْن کی دْعاؤں اور روحانی رہنمائی سے لوگوں کو سکون اور خدا کے قریب ہونے کا احساس ملتا تھا۔ ایک بزرگ شخص انتونیو نے اْن کے بارے میں کہا کہ میں نے خدا کے وجود کو فادر ساویو کی ریٹریٹ میں محسوس کیا۔
29 اکتوبر 1995 کو ایک افسوسناک مگر بہادرانہ واقعہ پیش آیا۔ فادر ساویو الطا ر کے 25 خادمین بچوں کے ساتھ دریا کے کنارے گئے ہوئے تھے۔ اچانک چند لڑکے دریا میں ڈوبنے لگے اور مدد کے لیے پکارنے لگے۔ فادر ساویو نے اپنی جان کی پرواہ کیے بغیر فوراً دریا میں چھلانگ لگا دی تاکہ بچوں کو بچا سکیں۔ انہوں نے لڑکوں کو بچانے کی پوری کوشش کی لیکن تیز پانی کی وجہ سے خود بھی ڈوب گئے۔ بعد میں ریسکیو ٹیموں نے اْن کی لاش ایک بچے کے ساتھ پائی جو اْن سے لپٹا ہوا تھا۔ اْس وقت فادر ساویوکی عمر 43 سال تھی۔فادر ساویو کی وفات کی خبر پورے گوا میں غم کی لہر بن گئی۔ اْن کی آخری رسومات 31 اکتوبر 1995 کو ادا کی گئیں۔ جنازے کی عبادت کی قیادت اُس وقت کے Archbishop Raul Nicolau Gonsalves نے کی۔
ہزاروں لوگ اْن کے جنازے میں شریک ہوئے۔ مختلف مذاہب سے تعلق رکھنے والے لوگوں نے بھی انہیں خراجِ عقیدت پیش کیا۔ راستے میں موجود کئی دکانیں احترام کے طور پر بند کر دی گئی تھیں۔ لوگ اْن کے تابوت پر پھول نچھاور کر رہے تھے اور بہت سے افراد روتے ہوئے نظر آئے۔
ایک صحافی Bosco Eremita de Souza نے کہا:”میں نے گوا میں کئی اہم شخصیات کے جنازے دیکھے ہیں، لیکن ایسا جنازہ پہلے کبھی نہیں دیکھا۔“
فادر ساویو مینیزز گاما کی زندگی محبت، خدمت اور قربانی کی روشن مثال ہے۔ انہوں نے اپنی جان دوسروں کو بچاتے ہوئے قربان کی اور انسانیت کے لیے ایک عظیم مثال قائم کی۔ آج بھی گوا کے لوگ انہیں احترام، محبت اور عقیدت کے ساتھ یاد کرتے ہیں۔