FABC جنرل اسمبلی ایشیا میں سنڈیلٹی کے عملی نفاذ کے لیے واضح لائحہ عمل پیش کرے گی۔ بشپ مارالیٹ
فیڈریشن آف ایشین بشپس کانفرنسز (FABC) کی بارہویں جنرل اسمبلی کا مقصد صرف سنڈیلٹی پر گفتگو کرنا نہیں بلکہ ایشیا بھر کی مقامی کلیسیاؤں کے لیے اس کے عملی نفاذ کا ایک واضح اور قابلِ عمل لائحہ عمل فراہم کرنا ہے۔ یہ بات فلپائن سے تعلق رکھنے والے بشپ مارسیلینو انتونیو جونی مارالیٹ جونیئر نے کہی۔
20 تا 26 جولائی2026 تک انڈونیشیا کے دارالحکومت جکارتہ میں منعقد ہونے والی اس جنرل اسمبلی میں ایشیا بھر سے 120 سے زائد کارڈینلز اور بشپ صاحبان شریک ہیں۔ جنرل اسمبلی کا موضوع”سنڈی تبدیلی کی دعوت اور ایشیا میں پْل اور پْل بنانے والے بننے کا مشن“ہے۔
20 جولائی کو افتتاحی پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے جنرل اسمبلی کے سرکاری ترجمان بشپ جونی نے کہا کہ یہ اجتماع محض بشپ صاحبان کا ایک اجلاس نہیں بلکہ ایشیا کی کلیسیا کے لیے ایک اہم روحانی موقع ہے۔انہوں نے کہا کہ یہ ایسا وقت ہے جب ایشیا کی کلیسیا ایک ساتھ دْعا کرتی، ایک دوسرے کی بات سنتی، زمانے کی نشانیوں پر غور کرتی اور دنیا کے سب سے متحرک اور متنوع خطوں میں سے ایک میں انجیل کی منادی کے نئے راستے تلاش کرتی ہے۔بشپ جونی نے کہا کہ یہ جنرل اسمبلی کلیسیا کی موجودہ روحانی مسافت کے ایک نہایت اہم مرحلے پر منعقد ہو رہی ہے۔ انہوں نے اس تناظر میں FABCکی 50ویں جنرل کانفرنس، 2023 کا بینکاک دستاویز، 2024 میں سنڈبرائے سنڈیلٹی کی حتمی دستاویز، 2025 کا اْمید کا جوبلی سال اور پوپ لیو چہاردہم کی خدمتِ پاپائیت کے آغاز کا حوالہ دیا۔انہوں نے زور دیا کہ اس ہفتے کا پورا پروگرام اس انداز میں ترتیب دیا گیا ہے کہ شرکاء سنڈیلٹی پر صرف نظریاتی گفتگو نہ کریں بلکہ دْعا اورایک دوسرے کی سننے کے ذریعے حقیقی سنڈی تجربے سے گزریں۔
جنرل اسمبلی کے دوران شرکاء یوخرستی عبادات، دھیان وگیان، روح میں مکالمہ، علاقائی اجلاسوں اور گروہی مباحثوں میں حصہ لیں گے۔ ان کا غور و فکر اس بات پر مرکوز ہوگا کہ ثقافتی اور مذہبی تنوع، غربت، ہجرت، تنازعات، ماحولیاتی چیلنجز اور تیزی سے بدلتے ہوئے سماجی حالات کے درمیان کلیسیا سنڈی تبدیلی کو کس طرح مزید گہرا کر سکتی ہے اور ایشیا میں پْل تعمیر کرنے والی کلیسیا کا کردار کیسے ادا کر سکتی ہے۔بشپ جونی کے مطابق جنرل اسمبلی کے اختتام پر دو اہم دستاویزات تیار کی جائیں گی۔
پہلی ”حتمی دستاویز“ ہوگی، جسے ایشیا میں سنڈیلٹی کے لیے ایک عملی کتابچہ کے طور پر تیار کیا جائے گا، تاکہ مقامی کلیسیاؤں کو سنڈی عمل نافذ کرنے میں رہنمائی مل سکے۔
دوسری دستاویز ”ایشیا کی کلیسیا کے نام پیغام“ ہوگی، جس کے ذریعے پورے براعظم کے کیتھولک مومنین کو سنڈی تجدید کے سفر کو جاری رکھنے کی ترغیب دی جائے گی۔
جنرل اسمبلی کی نمایاں سرگرمیوں میں کارڈینل اوسوالڈ گریسیاس کی پوپ لیو چہاردہم کے خصوصی نمائندے کی حیثیت سے شرکت، کارڈینل لوئیس انتونیو تاگلے کی قیادت میں روحانی تجدید کا دن، کارڈینل ماریو گریخ کا سنڈبرائے سنڈیلٹی کے عملی نفاذ پر کلیدی خطاب اور پوپ لیو چہاردہم کا خصوصی ویڈیو پیغام شامل ہیں۔جنرل اسمبلی کا اختتام جکارتہ کے ”کیتھیڈرل آف آور لیڈی آف دی اسمپشن“ میں یوخرستی عبادت سے ہوگا، جس کے بعد شرکاء قریبی استقلال مسجدکا دورہ کریں گے۔اس موقع پر وہ دوستی کی سرنگ یعنی فرینڈشپ ٹنل سے گزریں گے، جو کیتھیڈرل اور مسجد کو آپس میں ملاتی ہے۔ یہ سرنگ انڈونیشیا میں بین المذاہب ہم آہنگی کی علامت ہے اور جنرل اسمبلی کے اس عزم کی بھی عکاسی کرتی ہے کہ کلیسیا ایشیا میں پْل اور پْل بنانے والی برادری بنے۔
اپنے پیغام کے اختتام پر بشپ جونی نے اْمید ظاہر کی کہ یہ جنرل اسمبلی کلیسیا کی اتحاد، شراکت اور مشن کی گواہی کو مزید مضبوط کرے گی اور ایشیا بھر کے کیتھولک مومنین کو ترغیب دے گی کہ وہ اپنے خاندانوں، مقامی برادریوں، ممالک اور مختلف ثقافتوں نیز مذاہب سے تعلق رکھنے والے لوگوں کے درمیان امن، مفاہمت اور بھائی چارے کے پْل تعمیر کرنے والے بنیں۔