پْل تعمیر کرنا ہمارا معمول کا طرزِ عمل ہے۔عزت مآب بشپ سیمسن شکردین

پْل تعمیر کرنا ہمارا معمول کا طرزِ عمل ہے۔عزت مآب بشپ سیمسن شکردین
پْل تعمیر کرنا ہمارا معمول کا طرزِ عمل ہے۔عزت مآب بشپ سیمسن شکردین

پاکستان میں مذہبی آزادی، انسانی حقوق اور سماجی انصاف کے نمایاں علمبردارعزت مآب بشپ سیمسن شکردین 2015 سے حیدرآباد ڈایوسیس کے بشپ کی حیثیت سے خدمات انجام دے رہے ہیں۔ وہ اس وقت پاکستان کیتھولک بشپ کانفرنس کے صدر بھی ہیں۔ایشیا بھر سے کیتھولک رہنما فیڈریشن آف ایشین بشپز کانفرنسز (FABC)  کی بارہویں جنرل اسمبلی  میں شرکت کے لیے جکارتہ کی تیاری کر رہے ہیں۔ اس موقع پر ریڈیو ویریتاس ایشیا اْردو سروس نے بشپ سیمسن شکردین سے اجلاس سے متعلق اپنی توقعات، بین المذاہب مکالمہ کی اہمیت اور ایشیا کی وسیع تر کلیسیا کے لیے پاکستان کی کلیسیا کے تجربات اور خدمات کے بارے میں گفتگو کی۔

سوال: جکارتہ میں منعقد ہونے والے FABC کے آئندہ جنرل اسمبلی سے آپ کی کیاتوقعات ہیں؟
بشپ سیمسن شکردین: یہ اجلاس عالمی یکجہتی، باہمی شراکت اور ایک دوسرے کی بات سننے کا ایک مؤثر موقع ثابت ہوگا۔ پاکستان جیسی اقلیتی کلیسیا کے لیے FABC ایشیا کی وسیع تر کیتھولک کلیسیا سے مضبوط تعلق قائم رکھنے کا ایک اہم پلیٹ فارم
 ہے۔ مجھے اْمید ہے کہ یہ اجلاس مختلف علاقائی بشپ کانفرنسز کے درمیان تعلقات کو مزید مستحکم کرے گا، تاکہ ہم اپنے  تجربات اور پاسبانی چیلنجز ایک دوسرے کے ساتھ بانٹ سکیں اور ایشیا کے پیچیدہ سماجی اور سیاسی حالات میں انجیل کے مشن کے لیے اپنے مشترکہ عزم کی تجدید کر سکیں۔

سوال:  آپ کیا چاہتے ہیں کہ اجلاس کے دوران کن اہم موضوعات پر خصوصی توجہ دی جائے؟

بشپ سیمسن شکردین: میری دلی خواہش ہے کہ اجلاس میں مذہبی عدم برداشت میں اضافہ، اقلیتوں کے تحفظ اور ایشیا بھر کے نوجوانوں کو بااختیار بنانے جیسے اہم موضوعات پر سنجیدگی سے غور کیا جائے۔ اسی طرح معاشی مشکلات اور موسمیاتی تبدیلی کے اثرات، جن سے پاکستان سمیت کئی ایشیائی ممالک شدید متاثر ہو رہے ہیں، کلیسیا کی فوری توجہ کے متقاضی ہیں۔اس کے ساتھ ساتھ ہمیں ڈیجیٹل انقلاب کے تیزی سے بدلتے ہوئے اثرات کا بھی سامنا کرنا ہوگا۔ جیسا کہ پوپ لیو چہاردہم نے اپنے نئے سماجی  دستاویز ”عظیم الشان انسانیت“  (Humanitas Magnifica ) میں نشاندہی کی ہے، اگر مصنوعی ذہانت کی ترقی اخلاقی اصولوں کی رہنمائی کے بغیر جاری رہی تو اس سے معاشرے کے کمزورطبقات کو غیر انسانی رویوں اور معاشی بے دخلی جیسے سنگین خطرات لاحق ہو سکتے ہیں۔اجلاس کو اس بات پر بھی غور کرنا چاہیے کہ کلیسیا کس طرح روایتی سماجی ناانصافیوں کے ساتھ ساتھ نئی ٹیکنالوجی سے پیدا ہونے والے چیلنجز کے مقابلے میں انسانی عظمت کا مؤثر تحفظ کر سکتی ہے اور امتیازی سلوک اور غربت کا شکار خاندانوں کے لیے عملی اْمید فراہم کر سکتی ہے۔

سوال: ایشیا کی وسیع تر کلیسیا کے لیے پاکستان کی کلیسیا کا نمایاں کردار کیا ہو سکتا ہے؟

بشپ سیمسن شکردین: پاکستان کی کلیسیا ثابت قدمی، اْمید اورمکالمہ حیات کے منفرد تجربہ کا پیغام ساتھ لاتی ہے۔ اگرچہ ہم تعداد کے اعتبار سے ایک چھوٹی اقلیت ہیں، لیکن ہمارا مضبوط ایمان، تعلیم اور صحت کے شعبوں میں بلا امتیاز تمام شہریوں کی خدمت، اور روشن خیال مسلم علماء کے ساتھ ہماری مسلسل شراکت داری اس حقیقت کا ثبوت ہے کہ ایک اقلیتی کلیسیا بھی امن، ہم آہنگی اور بھائی چارے کے فروغ میں مؤثر کردار ادا کر سکتی ہے۔ ہمارا تجربہ ایشیا کی کلیسیا کے لیے چیلنجنگ حالات میں بین المذاہب بقائے باہمی اور ثابت قدم ایمان کی ایک عملی مثال ہے۔

سوال: اجلاس میں خصوصی طور پر ”سنڈی تبدیلی اور پل تعمیر کرنے“کے موضوعات پر غور کیا جائے گا۔ یہ موضوعات پاکستان کی کلیسیا کی موجودہ صورتحال سے کس طرح تعلق رکھتے ہیں؟

بشپ سیمسن شکردین: پاکستان میں یہ موضوعات محض نظریاتی تصورات نہیں بلکہ ہماری روزمرہ پاسبانی خدمت کا حصہ ہیں۔ سنڈی تبدیلی کا مطلب یہ ہے کہ بشپ، کاہن،راہبات،مبشرانِ انجیل اور مومنین مل کر اْن خاندانوں کا ساتھ دیں جو معاشی مشکلات اور سماجی کمزوریوں کا سامنا کر رہے ہیں، خصوصاً سندھ جیسے دیہی علاقوں میں۔جہاں تک پل تعمیر کرنے کا تعلق ہے، تو یہ ہمارا معمول کا طرزِ عمل ہے۔ ہم اپنے تعلیمی اور فلاحی اداروں، انسانی حقوق کے نیٹ ورکس اور مختلف سماجی سرگرمیوں کے ذریعے روزانہ مختلف برادریوں کے درمیان اعتماد اور تعلقات کے پل تعمیر کرتے ہیں اور مشترکہ انسانی وقار کی بنیاد پر تعصبات کا مقابلہ کرتے ہیں۔

سوال: آپ کی نظر میں اِس اجلاس کے ایسے کون سے عملی نتائج ہونے چاہییں جو مستقبل میں ایشیا بھر کی کلیسیا کے لیے مفید ثابت ہوں؟

بشپ سیمسن شکردین: میری خواہش ہے کہ یہ اجلاس ایشیا کی کلیسیا کے لیے ایک ایسا مشترکہ اور قابلِ عمل پاسبانی لائحہ عمل مرتب کرے جو صرف اعلانات تک محدود نہ رہے بلکہ مقامی سطح پر عملی اقدامات کی صورت اختیار کرے۔ میری خوا ہش ہے کہ  علاقائی بشپ کانفرنسز کے درمیان باہمی تعاون کے مضبوط نیٹ ورکس قائم ہوں، نوجوانوں اور مستقبل کی قیادت کی تشکیل کے لیے مشترکہ پروگراموں کو فروغ دیا جائے، اور ایشیا کی کیتھولک کلیسیا انسانی حقوق اور مذہبی آزادی کے فروغ کے لیے عالمی سطح پرایک مضبوط، واضح اور متحد آواز بن کر سامنے آئے۔