فادر فرانز میگنس سوسینو، ایس جے: ایشیا میں کلیسیا کے لیے پل تعمیر کرنے والی ایک عظیم شخصیت

 ایشیا میں کلیسیا کے لیے پل تعمیر کرنے والی ایک عظیم شخصیت
ایشیا میں کلیسیا کے لیے پل تعمیر کرنے والی ایک عظیم شخصیت

جرمن نژادجیزوٹ کاہن،”ریورنڈفادر فرانز میگنس سوسینو، ایس جے“ جو بعد ازاں انڈونیشیا کے شہری بن گئے، انڈونیشیا کے ممتاز فلسفیوں اور الٰہیات دانوں میں شمار ہوتے ہیں۔ انہوں نے اپنی پوری زندگی مذہبی اور سماجی برادریوں کے درمیان تعلقات کو مضبوط بنانے، بین المذاہب مکالمہ کو فروغ دینے اور انصاف کے قیام کے لیے وقف کر دی۔
فیڈریشن آف ایشین بشپس کانفرنسز (FABC) کی 12ویں جنرل اسمبلی 20 سے 26 جولائی تک جکارتہ میں منعقد ہوگی، جس میں ایشیا کے مختلف ممالک سے بشپ صاحبان، ”سنڈی تبدیلی اور ایشیا میں پْل اور پل بنانے والے بننے کا مشن“ کے موضوع پر پر غور و خوض کریں گے۔ اس اجلاس میں اس بات پر غور کیا جائے گا کہ کلیسیا کس طرح ایسے براعظم میں، جو بے مثال مذہبی، ثقافتی اور نسلی تنوع رکھتا ہے، مکالمے، اشتراک اور امید کی ایک معتبر گواہ بن سکتی ہے۔
گزشتہ پانچ دہائیوں سے فادر فرانز میگنس سوسینو خاموشی اور استقامت کے ساتھ اسی وژن کو اپنی عملی زندگی میں مجسم کرتے آ رہے ہیں، جسے آج FABC اپنی کلیسیائی خدمت کے بنیادی اصول کے طور پر پیش کر رہا ہے۔
فادر میگنس نہ صرف انڈونیشیا کے ممتاز فلسفی، الٰہیات دان اور ماہرِ اخلاقیات ہیں بلکہ انہوں نے کلیسیا اور معاشرے، ایمان اور عوامی زندگی، مذہبی برادریوں اور ریاستی و سماجی اداروں کے درمیان مضبوط روابط قائم کرکے ایک مؤثر پل تعمیر کرنے والے رہنما کی حیثیت حاصل کی ہے۔ ان کی تمام خدمات مکالمہ انصاف اور ہر انسانی عظمت کے فروغ کے لیے وقف رہی ہیں۔
اپنی تدریسی خدمات، علمی تصانیف اور بین المذاہب سرگرمیوں میں فعال شرکت کے ذریعے انہوں نے یہ ثابت کیا ہے کہ پل تعمیر کرنا صرف ایک پاسبانی حکمتِ عملی نہیں بلکہ کثیرالمذہبی معاشرے میں انجیل کے پیغام کا عملی اظہار ہے۔
انڈونیشیا کے شہر پانگکل پنانگ کے بشپ ایڈرینس سنارکو، کے مطابق فادر میگنس نے ہمیشہ کلیسیا کی جدید دنیا کے لیے کشادگی، انسانی حقوق، مذہبی آزادی، جمہوریت، سائنسی ترقی اور دیگر مذاہب کے ساتھ مکالمے کی بھرپور حمایت کی ہے۔
بشپ سنارکو کا کہنا ہے کہ فادر میگنس کی نمایاں خدمات میں دوسری ویٹیکن کونسل کی تجدیدی روح کی گہری تفہیم شامل ہے۔ ان کے نزدیک یہ کونسل محض ایک تاریخی واقعہ نہیں بلکہ کلیسیا کے لیے ایک مسلسل دعوت ہے کہ وہ انجیل کی بنیاد پر قائم رہتے ہوئے اپنے آپ کو ہر دور کے تقاضوں کے مطابق تازہ کرتی رہے۔اگرچہ فادر میگنس نے ہمیشہ کلیسیا کی جدید دنیا کے ساتھ مکالمے کی حمایت کی، تاہم جہاں ضرورت محسوس ہوئی وہاں انہوں نے محبت، خلوص اور خیرخواہی کے جذبے کے ساتھ تعمیری تنقید بھی پیش کی۔

بشپ سنارکو
بشپ سنارکو

بشپ سنارکو کے مطابق فادر میگنس نے کلیریکل ازم کے رجحان سے خبردار کیا، عام ایمانداروں کی مؤثر شمولیت کی حوصلہ افزائی کی، کلیسیا میں خواتین کے ناگزیر کردار کو اْجاگر کیا اور مؤمنین کو روح القدس کی مسلسل رہنمائی اور تجدید کے لیے کھلے دل سے تیار رہنے کی دعوت دی۔فادر میگنس کی خدمات صرف کلیسیا تک محدود نہیں رہیں بلکہ وہ کئی دہائیوں سے انڈونیشیا میں بین المذاہب مکالمے کی ایک معتبر اور مؤثر آواز سمجھے جاتے ہیں۔

 پروفیسر ڈاکٹر سیتی مسدہ مولیا
پروفیسر ڈاکٹر سیتی مسدہ مولیا

جکارتہ کی شریف ہدایت اللہ اسٹیٹ اسلامک یونیورسٹی میں اسلامی سیاسی فکر کی پروفیسر ڈاکٹر سیتی مسدہ مولیا کے مطابق فادر میگنس نے مذاہب کے درمیان مکالمے کے لیے ایک مضبوط اخلاقی بنیاد فراہم کی ہے۔ ان کے بقول فادر میگنس مکالمے کو صرف تنازعات سے بچنے کا ذریعہ نہیں بلکہ ہر انسان کے مساوی وقار پر مبنی ایک اخلاقی ذمہ داری تصور کرتے ہیں۔
ڈاکٹر مسدہ کا کہنا ہے کہ انڈونیشیا میں بین المذاہب مکالمے کے حوالے سے فادر میگنس کا کردار منفرد ہے۔ جہاں مرحوم نور خولش مجید مذہبی تکثیریت کی الٰہیاتی تشریح کے لیے معروف ہیں اور سابق صدر عبدالرحمن واحد نے سماجی اور ثقافتی قیادت کے ذریعے تکثیریت کو عملی شکل دی، وہیں فادر میگنس نے ایک ایسا فلسفیانہ اور اخلاقی تصور پیش کیا جس کے مطابق مکالمہ ایک کثیرالمذہبی معاشرے کے ہر شہری کی مشترکہ اخلاقی ذمہ داری ہے۔ان کا یہ وژن ایشیا میں کلیسیا کے مشن سے مکمل ہم آہنگ ہے۔
ایشیا دنیا کے بڑے مذاہب، مختلف تہذیبوں اور متنوع اقوام کا مسکن ہے۔ ایسے ماحول میں کلیسیا کو انجیل کی منادی مکالمہ اوراحترام کے ذریعے کرنی ہے۔ 1970 میں اپنے قیام سے ہی فیڈریشن آف ایشین بشپز کانفرنسز اس بات پر زور دیتی آئی ہے کہ ایشیا میں کلیسیا کا مستقبل ثقافتوں، مذاہب، غریبوں اور تمام نیک نیت افراد کے ساتھ مسلسل مکالمہ میں مضمر ہے۔
سنہ 2026 کی جنرل اسمبلی میں ”پل تعمیر کرنے“ کے موضوع کو مرکزی حیثیت دی گئی ہے، تاہم فادر فرانز میگنس سوسینو اس وژن کو کئی دہائیوں سے اپنی عملی زندگی میں نافذ کرتے آ رہے ہیں۔
ان کی زندگی اس حقیقت کی روشن مثال ہے کہ انجیل سے وفاداری اور جدید دنیا کے ساتھ مثبت تعلق ایک دوسرے کی ضد نہیں بلکہ حقیقی ایمان انسان کو دوسروں کی بات سننے، مکالمہ کرنے، انسانی عظمت کا دفاع کرنے، انصاف کے فروغ اور امن کے قیام کے لیے مسلسل جدوجہد کرنے کی ترغیب دیتا ہے۔
آج جب دنیا بڑھتی ہوئی تقسیم، مذہبی انتہاپسندی اور سماجی انتشار جیسے چیلنجز سے دوچار ہے، فادر فرانز میگنس سوسینو، ایس جے کی زندگی کلیسیا کو یہ یاد دلاتی ہے کہ اس کی ساکھ دیواریں کھڑی کرنے سے نہیں بلکہ دلوں اور معاشروں کے درمیان پل تعمیر کرنے سے مضبوط ہوتی ہے۔
جکارتہ میں منعقد ہونے والے FABC کے بارہویں عمومی اجلاس میں جب ایشیا کے بشپ کلیسیا کے مستقبل پر غور کریں گے تو فادر فرانز میگنس سوسینو کی زندگی اس حقیقت کی ایک مؤثر گواہی ہوگی کہ پل تعمیر کرنے والا بننا صرف ایک نظریہ نہیں بلکہ ایک روزمرہ مسیحی بلاہٹ ہے، جو مکالمے، فروتنی، دوستی اور مسیح کی روح میں دوسروں سے ملاقات کے عزم کے ذریعے پوری ہوتی ہے۔