ممبئی کی ایک نوجوان کیتھولک پروڈکٹ ڈیزائنر جزیل ولسن نےماحول دوست انداز میں مذہبی فن پاروں کو نیا روپ دے دیا۔

بھارت کے مغربی شہر ممبئی میں ایک نوجوان کیتھولک پروڈکٹ ڈیزائنر اس بات کی کھوج میں ہے کہ ایمان اور ماحولیاتی ذمہ داری کو تخلیقی انداز میں کیسے یکجا کیا جا سکتا ہے۔جزیل ولسن، جو MIT Pune سے بیچلر آف ڈیزائن (B.Des) کی گریجویٹ ہیں، نے پودوں پر مبنی مواد اور ری سائیکل شدہ مذہبی لٹریچر استعمال کرتے ہوئے ماحول دوست مذہبی فن پاروں کی ایک سیریز تیار کی ہے۔
اْن کے کام کو Laudato Siکے ماحولیاتی وژن سے تحریک ملی ہے، جو ماحول کی بہتر دیکھ بھال کی دعوت دیتا ہے۔ آرچ ڈایوسیس آف بمبئی کے آفس آف انوائرنمنٹ کی جانب سے منعقدہ ایکو ایمبیسیڈر کورس مکمل کرنے کے بعد، ولسن نے ضائع شدہ مواد کو کارآمد اور علامتی اشیاء میں تبدیل کرنے پر توجہ دی ہے۔ان کے دو منصوبے،ریوائیو ڈیزائن اوررینیو اسکلپچرز، پائیدار مذہبی اشیاء تیار کرنے اور فضلہ کم کرنے کے مقصد سے شروع کیے گئے ہیں۔
جزیل کی فطرت سے محبت بچپن ہی سے پروان چڑھی۔ چار افراد پر مشتمل خاندان میں پرورش پانے والی جزیل اپنی والدہ کو اِس کا سہرا دیتی ہیں، جو ایک گھریلو خاتون ہیں۔
انہوں نے کہا کہ میری والدہ کی فطرت سے محبت نے ہمیں تخلیق کی قدر کرنا سکھایا—باغبانی سے لے کر آسمان کو دیکھنے اور پرندوں کی آواز سننے تک۔اْن کے والد، جو ایک ریٹائرڈ الیکٹریکل انجینئر ہیں، نے بھی اْن کی سوچ میں سنجیدگی اور نظم و ضبط پیدا کیا۔
جزیل نے وضاحت کی اور کہا کہ میں بچپن سے تخلیقی تھی، اس لیے پروڈکٹ ڈیزائن کی طرف آئی، لیکن جلد ہی احساس ہوا کہ میں ایسی چیزیں بنانا چاہتی ہوں جو زمین کو نقصان پہنچانے کے بجائے بہتر بنائیں۔
اْن کے کام پر ایک اہم اثر اْن کے استاد لیسلی ڈیسوزا کا تھا، جنہوں نے انہیں مذہبی لٹریچر کو فن میں دوبارہ استعمال کرنے کا خیال دیا۔یہ خیال مجھے بہت پسند آیا،انہوں نے یاد کرتے ہوئے کہا۔ یہی تصور بعد میں رینیو اسکلپچرزمنصوبے کی بنیاد بنا، جس کا نام اْن کے پیرش پرِسٹ فادر روبن ٹیلس نے رکھا، جو مالاڈ ویسٹ کے آور لیڈی آف لورڈز چرچ سے تعلق رکھتے ہیں۔ چرچ نے استعمال شدہ مواد جمع کرنے میں بھی ان کی مدد کی۔

 انہوں نے کہا یہ سفر چیلنجز سے خالی نہیں تھا۔کبھی کبھی ایسا لگا کہ میں ہار مان لوں، لیکن کلامِ مقدس کو مختلف ساخت میں زندہ کرنے کی خوبصورتی نے مجھے آگے بڑھنے کی طاقت دی۔
جزیل ایسے ضائع شدہ مذہبی مواد کے ساتھ کام کرتی ہیں جیسے بائبل ڈائریز، جنہیں لوگ گھروں میں محفوظ رکھتے ہیں لیکن انہیں ضائع کرنا آسان نہیں ہوتا۔ انہوں نے کہاکہ مذہبی لٹریچر ہمارے گھروں کا قیمتی حصہ ہوتا ہے اور لوگ اکثر نہیں جانتے کہ اْسے کیسے ضائع کیا جائے۔ اسی یقین کے ساتھ کہ فضلہ بھی ایک قیمتی وسیلہ ہو سکتا ہے، میں نے کاغذ کو نئی شکل دینے کے طریقے تلاش کیے تاکہ وہ ایک نئی صورت میں ہمیں فائدہ پہنچاتا رہے۔
پائیداری اْن کے ڈیزائن فلسفے کا مرکزی حصہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہر فیصلہ سرکولرٹی کے اصول کے تحت کیا جاتا ہے۔ ہماری مصنوعات قابلِ ری سائیکل اور غیر زہریلی ہیں۔اْن کے فن پارے جہاں مذہبی اہمیت رکھتے ہیں، وہیں ماحول پر اثر کم کرنے کی ایک شعوری کوشش بھی ہیں۔
جزیل اپنے کام کو ایمان کا اظہار سمجھتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں ماحول کے محافظ بننے کے لیے بلایا گیا ہے۔وہ زمین کو ایک مشترکہ ”گھر“قرار دیتی ہیں۔ہم تخلیق کا خیال اسی طرح رکھتے ہیں جیسے کسی انسان سے محبت کرتے ہیں —صبر اور سمجھ کے ساتھ۔
صارفین نے اْن کے کام کے روحانی اور ماحولیاتی پہلوؤں کو مثبت انداز میں سراہا ہے۔ کچھ لوگ اِن فن پاروں کو روزمرہ زندگی میں ایمان کی یاد دہانی سمجھتے ہیں۔ ایک صارف نے کہا کہ یہ فن ”دل کو سکون دیتا ہے اور یاد دلاتا ہے کہ یسوع ہمیشہ ہمارے خاندان کے ساتھ ہیں“، جبکہ دیگر اسے”باشعور طرزِ زندگی کی علامت“قرار دیتے ہیں۔
مستقبل کے حوالے سے جزیل اپنے منصوبوں کو وسعت دینا چاہتی ہیں۔ انہوں نے کہاکہ ہم مزید ایسے روحانی فن پارے تخلیق کرنا چاہتے ہیں جو کلام کو نئی صورتوں میں زندہ کریں اور ساتھ ہی ضرورت مند افراد کے لیے روزگار کے مواقع پیدا کرنے کی خواہش بھی ظاہر کی۔
وہ اپنی کامیابی کا سہرا اپنے معاونین کو دیتی ہیں۔انہوں نے کہامیرا سب سے بڑا سہارا میرا خاندان ہے۔مجھے کاہنوں، دوستوں اور ساتھیوں کی حوصلہ افزائی بھی حاصل رہی ہے جنہوں نے اس سفر میں میرا ساتھ دیا۔اْن کا کام نوجوان کیتھولک افراد کی اس بڑھتی ہوئی کوشش کی عکاسی کرتا ہے جو تخلیقی صلاحیتوں کو ماحولیاتی ذمہ داری کے ساتھ ہم آہنگ کر رہے ہیں —مقامی وسائل اور کمیونٹی کی مدد سے ماحولیاتی اور روحانی مسائل کا حل تلاش کرتے ہوئے۔

Daily Program

Livesteam thumbnail