رضاکاروں نے جکارتہ میں FABC جنرل اسمبلی کی تیاریاں مکمل کر لیں، ایشیا بھر سے آنے والے شْرکاء کا پْرتپاک استقبال

 شْرکاء کا پْرتپاک استقبال
شْرکاء کا پْرتپاک استقبال

فیڈریشن آف ایشین بشپس کانفرنسز (FABC) کی بارہویں جنرل اسمبلی میں شرکت کے لیے ایشیا بھر سے کارڈینلز، بشپ صاحبان، کاہن صاحبان، راہبات اور عام مومنین 20 جولائی کو جکارتہ پہنچنا شروع ہوگئے، جہاں سینکڑوں رضاکاروں نے اْن کے استقبال، آمد و رفت، رجسٹریشن اور رہائش کے تمام انتظامات مکمل کیے۔صبح سویرے ہی رضاکاروں کی ٹیمیں جکارتہ کے سوئیکارنوہٹا بین الاقوامی ہوائی اڈے پر موجود تھیں تاکہ مشرقی ایشیا، جنوبی ایشیا، جنوب مشرقی ایشیا اور براعظم کے دیگر حصوں سے آنے والے شْرکاء کا استقبال کر سکیں۔رضاکار پروازوں کے اوقات، شناختی کارڈز اور مواصلاتی آلات سے لیس تھے۔ وہ مسلسل پروازوں کی معلومات پر نظر رکھے ہوئے تھے، شرکاء کا خیرمقدم کر رہے تھے اور انہیں جنرل اسمبلی کے مقام اور مولیا ہوٹل جکارتہ تک پہنچانے کے لیے آمد و رفت کے انتظامات کر رہے تھے۔دوسری جانب ہوٹل میں قائم رجسٹریشن مرکز میں بھی رضاکاروں نے تمام تیاریاں مکمل کر رکھی تھیں، جہاں مندوبین کو شناختی بیجز، جنرل اسمبلی کا مطبوعہ مواد اور اجلاس کے پروگرام سے متعلق معلومات فراہم کی گئیں۔ دیگر ٹیموں نے بین الاقوامی سفر کے بعد شرکاء کی چیک اِن، سامان کی منتقلی اور ابتدائی رہنمائی میں معاونت کی۔
تیاریاں صرف استقبال اور رہائش تک محدود نہیں تھیں۔ میڈیا ٹیم نے براہِ راست نشریات کے نظام کا جائزہ لیا، عبادتی کمیٹی نے یوخرستی عبادات کے انتظامات کو حتمی شکل دی، جبکہ مواصلات، طبی امداد، مہمان نوازی اور تکنیکی شعبوں سے وابستہ ٹیموں نے افتتاحی اجلاس سے قبل اپنی تمام انتظامی تیاریاں مکمل کر لیں۔مقامی انتظامی کمیٹی کے سیکریٹری فادر فرانس کرسٹی آدی پرسیتیا نے کہا کہ شرکاء کی آمد محض ایک انتظامی مرحلہ نہیں بلکہ اس سے کہیں بڑھ کر ہے۔انہوں نے کہا کہ وہ چاہتے ہیں کہ ایشیا میں کلیسیا کو درپیش چیلنجز پر غور و فکر کے لیے اجلاس میں داخل ہونے سے پہلے ہر مندوب خود کو ایک بھائی اور بہن کی حیثیت سے خوش آمدید کہا گیا محسوس کرے۔اْن کے مطابق یہ استقبال اِسی سنڈی روح کی عکاسی کرتا ہے جس پر پوری جنرل اسمبلی کی بنیاد قائم ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ استقبال کے ہر انتظام کا مقصد صرف سہولت فراہم کرنا نہیں بلکہ ایک ایسی سنڈی کلیسیا کی روح کا اظہار کرنا ہے جو مل کر سفر کرتی ہے۔

شرکا کی آمد
شرکا کی آمد

شرکا کی آمد کے انتظامات کئی ماہ کی منصوبہ سازی اور مختلف اداروں کے باہمی تعاون کا نتیجہ تھے۔ کلیسیا کے رضاکاروں، ہوائی اڈے کے حکام، امیگریشن اہلکاروں، ٹرانسپورٹ فراہم کرنے والے اداروں، ہوٹل انتظامیہ اور سرکاری محکموں نے مشترکہ طور پر ان انتظامات کو کامیاب بنایا۔ پروازوں کے اوقات میں تبدیلی، اضافی رجسٹریشن اور سفری انتظامات کا جائزہ پورے دن جاری رہا۔
فادر فرانس نے کہا کہ یہ باہمی تعاون خود جنرل اسمبلی کے سنڈیلٹی موضوع کی عملی تصویر پیش کرتا ہے۔انہوں نے کہا کہ FABC جنرل اسمبلی کی کامیابی کسی ایک گروہ کی کوششوں کا نتیجہ نہیں بلکہ خدا کے پورے خاندان کے باہمی تعاون کا ثمر ہے۔ بشپ صاحبان، راہب و راہبات، عام مومنین، رضاکار اور حکومتی اداروں کے نمائندوں نے اپنی اپنی ذمہ داریاں ادا کرتے ہوئے ایشیا کی کلیسیا کی خدمت کے مشترکہ عزم کا اظہار کیا ہے۔
رضاکاروں میں ہیلری ارسطوطیل بھی شامل تھیں، جنہیں جنرل اسمبلی کے دوران شْرکاء کے ساتھ رابطہ کی ذمہ داری سونپی گئی ہے۔انہوں نے کہا کہ اس اہم بین الاقوامی اجتماع میں رابطہ آفیسر کے طور پر منتخب ہونا ان کے لیے باعثِ اعزاز ہے۔ہیلری کے مطابق اْن کی ذمہ داری تقریباً 150 شرکاء کی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے مسلسل رابطہ اور ہم آہنگی برقرار رکھنا ہے، جبکہ وہ سیکیورٹی، ٹرانسپورٹ، رہائش، مواصلات، طبی سہولیات اور مہمان نوازی کی مختلف ٹیموں کے ساتھ بھی قریبی تعاون کر رہی ہیں۔انہوں نے کہا کہ اس تجربے نے ثابت کیا ہے کہ جب مختلف کمیٹیاں ایک مشترکہ مقصد کے لیے مل کر کام کرتی ہیں تو ہر فرد کا کردار جنرل اسمبلی کی کامیابی میں اہم حصہ بنتا ہے۔
شام تک بیشتر شرکاء مولیا ہوٹل جکارتہ پہنچ چکے تھے اور اپنی رہائش گاہوں میں منتقل ہو گئے تھے، جبکہ انتظامی ٹیمیں اگلے روز آنے والے شرکاء کی آمد کے شیڈول کا جائزہ لینے اور افتتاحی اجلاس کی آخری تیاریوں میں مصروف رہیں۔انڈونیشیا کی کیتھولک کلیسیا کی میزبانی میں منعقد ہونے والی FABC کی بارہویں جنرل اسمبلی ایشیا بھر سے کلیسیائی رہنماؤں کو ایک ہفتے کے لیے دْعا، مکالمہ اور اجتماعی غور و فکر کے عمل میں یکجا کر رہی ہے۔ جنرل اسمبلی کا مرکزی موضوع ”سنڈی تبدیلی اور ایشیا بھر میں پْل اور پْل بنانے والے بننے کے کلیسیائی مشن“پر مرکوز ہے۔