بنگلہ دیش کے کلیسیائی رہنما کا پیغام: ہمارے لیے کوئی مذہب اجنبی نہیں، بلکہ ہمارے پڑوسیوں کے مذاہب ہیں۔
فیڈریشن آف ایشین بشپس کانفرنسز (FABC) کی بارہویں جنرل اسمبلی کے 20 جولائی کو جکارتہ میں آغاز سے قبل، ڈھاکہ کے آرچ بشپ بیجوئے نِسفورس ڈی کروز، او ایم آئی، جو بنگلہ دیش کیتھولک بشپس کانفرنس کے صدر بھی ہیں، نے ایشیا کی کلیسیا پر زور دیا ہے کہ وہ بین المذاہب مکالمہ کے اپنے عزم کو مزید مضبوط بنائے۔ انہوں نے کہا کہ دوسرے مذاہب کو اجنبی مذاہب نہیں بلکہ ہمارے پڑوسیوں کے مذاہب کے طور پر دیکھا جانا چاہیے۔
ریڈیو ویریتاس ایشیا (RVA) کو بھیجے گئے ایک ویڈیو پیغام میں آرچ بشپ ڈی کروز نے جنرل اسمبلی کے موضوع ”سنڈی تبدیلی اور ایشیا میں پْل اور پْل تعمیر کرنے والے بننے کا مشن“ پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ یہ موضوع مذہبی اور ثقافتی تنوع سے بھرپور ایشیا کے لیے نہایت موزوں ہے۔انہوں نے کہا کہ کلیسیا کو اتحاد، شراکت اور مشن کی کلیسیا بننے کی دعوت دی گئی ہے، جو دوسروں کی بات سنتی، اْن کے ساتھ مل کر کام کرتی نیزمذاہب، ثقافتوں اور روایات کے درمیان پْل تعمیر کرتی ہے۔
آرچ بشپ ڈی کروز نے کہا کہ بنگلہ دیش، جہاں تقریباً 90 فیصد آبادی مسلمان ہے جبکہ مسیحیوں کی تعداد ایک فیصد سے بھی کم ہے، وہاں پْل بنانے کا یہ پاسبانی مشن محض ایک نظریہ نہیں بلکہ روزمرہ زندگی کی حقیقت ہے۔انہوں نے کہا کہ بنگلہ دیش کے تناظر میں مختلف مذاہب کے درمیان مکالمہ اور ایک دوسرے کے عقائد کا احترام ہی باہمی اعتماد، دوستی، تعاون اور سماجی ہم آہنگی کی بنیاد ہے۔آرچ بشپ کے مطابق کلیسیا کی دوسرے مذاہب کے بارے میں سوچ میں گزشتہ برسوں کے دوران نمایاں تبدیلی آئی ہے۔
انہوں نے کہا کہ اب وقت آ گیا ہے کہ ہم دوسرے مذاہب میں موجود بھلائی اور روح القدس کی حضوری کو بھی دریافت کریں۔انہوں نے مزید کہا کہ دوسرے مذاہب ہمارے لیے اجنبی نہیں ہونے چاہییں بلکہ انہیں ہمارے پڑوسیوں کے مذاہب سمجھنا چاہیے۔انجیل میں پڑوسی سے محبت کے حکم کا حوالہ دیتے ہوئے آرچ بشپ ڈی کروز نے کہا کہ ایک سچا مسیحی گواہ بننے کے لیے ضروری ہے کہ ہم دوسروں کے مذہبی عقائد کا احترام کریں۔انہوں نے کہا کہ پڑوسی کا تصور مسیحیوں کے لیے نہایت گہرا اور اہم ہے، کیونکہ اگر ہم اپنے پڑوسی کے مذہب کا احترام نہیں کرتے تو ہم حقیقی معنوں میں اپنے پڑوسی سے محبت بھی نہیں کر سکتے۔آرچ بشپ نے بنگلہ دیش کے کیتھولک تعلیمی اداروں کو پْلوں کی تعمیر کی ایک عملی مثال قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ اگرچہ اِن سکولوں میں زیادہ تر طلبہ دوسرے مذاہب سے تعلق رکھتے ہیں، لیکن یہی ادارے بچپن ہی سے مختلف مذاہب کے طلبہ کے درمیان دوستی، احترام اور باہمی اعتماد کو فروغ دیتے ہیں۔
FABC کی جنرل اسمبلی کی اہمیت پر روشنی ڈالتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یہ ایک ایسا پلیٹ فارم ہے جہاں ایشیا کی کلیسیائیں ایک دوسرے سے سیکھ سکتی ہیں۔ چونکہ ایشیا مختلف مذاہب اور ثقافتوں کا براعظم ہے، اس لیے یہ اجتماع بین المذاہب مکالمہ کے عزم کی تجدید اور بہتر عملی نمونہ تشکیل دینے کا بہترین موقع فراہم کرتا ہے۔اپنے پیغام کے اختتام پر آرچ بشپ ڈی کروز نے اْمید ظاہر کی کہ ایشیا کا مذہبی تنوع مستقبل میں عالمگیر کلیسیا اور پوری دنیا کے لیے ایک قیمتی تحفہ ثابت ہوگا۔انہوں نے کہا کہ وہ دن ضرور آئے گا جب ایشیا دنیا کو پرامن بقائے باہمی اور برادرانہ زندگی کا ایک مثالی نمونہ پیش کرے گا۔
FABC کی بارہویں جنرل اسمبلی میں ایشیا بھر سے بشپ صاحبان اس بات پر غور کریں گے کہ براعظم کے متنوع سماجی، ثقافتی اور پاسبانی حالات کے تناظر میں کلیسیا کس طرح اتحاد، شراکت اور مشن کو مزید مضبوط بنا سکتی ہے۔