امریکہ کی زندگی چھوڑ کر 20 سالہ سفر کے بعد سابق سیمینیرین دوبارہ کاہن بن گئے۔
سابق سیمینیرین ریورنڈ فادر شفاقت جان نے ایک دہائی بطور استاد کام کرنے اور امریکہ میں ایک آرام دہ زندگی کے امکانات کے باوجود کاہن بننے کی اپنی بلاہٹ کو نظرانداز نہ کرنے کا فیصلہ کیا اور 20 سالہ سفر کے بعد دوبارہ کہانے کی خدمت اختیار کر لی۔
40 سالہ فادر شفاقت جان کو 11 اگست 2026 کو لاہور کے سیکرڈ ہارٹ کیتھیڈرل میں فضیلت مآب آرچ بشپ خالد رحمت نے آرچ ڈایوسیس آف لاہور کے لیے کاہن مقرر کیا۔ انہوں نے 14 اگست کو اپنے آبائی پیرش، سینٹ جوزف کیتھولک چرچ لاہور کینٹ میں پہلی ہولی ماس ادا کی، جو دو دہائیوں کے انتظار اور غوروفکر کے سفر کا اختتام تھا۔
فادر جان 8 دسمبر 1986 کو لاہور کے قریب ہنڈو گجراں گاؤں میں پیدا ہوئے۔ وہ ایک نہایت مذہبی خاندان میں پلے بڑھے۔ ان کے مرحوم والدین، جان مسیح اور نرگس بی بی، مبارک کنواری مقدسہ مریم سے گہری عقیدت رکھتے تھے اور اپنی زندگیاں کلیسیا کے لیے وقف کیے ہوئے تھے۔ اْن کے والد نے تقریباً 50 سال تک مقامی چرچ میں رضاکارانہ طور پر خدمت انجام دی۔
پانچ بہن بھائیوں میں سب سے چھوٹے شفاقت نے 2006 میں لاہور کے سینٹ میری مائنر سیمینری میں داخلہ لیا۔ بعد ازاں انہوں نے 2009 میں سینٹ فرانسس زیویئر سیمینری میں فلسفہ اور 2012 میں کراچی کے کرائسٹ دی کنگ سیمینری میں الہیات کی تعلیم حاصل کی۔
تربیت کے دوران مشکلات کا سامنا کرنے کے بعد انہوں نے 2014 میں سیمینری چھوڑ دی۔ اگلے 10 سال تک وہ ایک عام مسیحی کی حیثیت سے زندگی گزارتے رہے اور مختلف تعلیمی اداروں میں میوزک انسٹرکٹر کے طور پر کام کیا، جن میں لاہور کا سینٹ انتھونی ہائی اسکول بھی شامل ہے۔ اس دوران وہ چرچ کے کوائرز میں بھی مسلسل خدمت کرتے رہے۔سینٹ انتھونی میں تدریس کے دوران فضیلت مآب آرچ بشپ سبیٹین فرانسس شاء نے انہیں دوبارہ سیمنری میں تربیت شروع کرنے کی دعوت دی۔ اس فیصلے کے سامنے انہیں ایک مستقل ملازمت، خاندانی ذمہ داریوں اور شادی کی ایسی پیشکش کے درمیان انتخاب کرنا تھا جس کے ذریعے وہ امریکہ جا سکتے تھے، یا پھر سیمینری واپس آ سکتے تھے۔تین دن تک دْعا اور دھیان و گیان کرنے کے بعد انہوں نے اس پیشکش کو مسترد کر دیا، اپنی تدریسی ملازمت سے استعفیٰ دیا اور 2024 میں دوبارہ کاہن بننے کی تربیت شروع کر دی۔
فادر جان نے کہا، ”کاہن بننا ہی میری حقیقی بلاہٹ ہے۔ جس طرح خدا نے یونس کی رہنمائی کی، اسی طرح اْس نے میری بھی دوبارہ رہنمائی کی۔“
انہوں نے کہا کہ سیمینری سے باہر گزارے گئے سال ضائع نہیں ہوئے بلکہ ان برسوں نے انہیں عام لوگوں کی مشکلات کو سمجھنے میں مدد دی اور غریبوں اور محروم افراد کی خدمت کرنے کی خواہش کو مزید گہرا کیا۔
تاہم، اپنی کاہنانہ محصوصیت کے دن انہیں اپنے والدین کی کمی شدت سے محسوس ہوئی۔ اْن کی والدہ نرگس پانچ سال قبل انتقال کر گئی تھیں، جبکہ اْن کے والد کاہنانہ مخصوصیت سے تین سال پہلے وفات پا چکے تھے۔فادر جان نے کہا، ”میں اپنے والدین کی دْعائیہ زندگی کا ثمر ہوں۔ میں اپنی کہانت کی خدمت اپنے والدین کے نام کرتا ہوں اور اْن کا شکر گزار ہوں کہ انہوں نے مجھے یسوع اور مقدسہ ماں مریم کے قریب کیا۔“
آرچ ڈایوسیس آف لاہور کے وِکر جنرل اور فادر جان کے قریبی دوست، ریورنڈ فادر آصف سردار نے اْن کی مخصوصیت کو ایک طویل اور مشکل سفر کی تکمیل قرار دیا۔
انہوں نے کہا کہ شفاقت کو بالآخر مذبح کو بوسہ دیتے دیکھنا، 20 سال کے تکلیف دہ انتظار کے بعد، اْن کی آنکھوں میں آنسو لے آیا۔ انہوں نے سیمینری سے باہر گزارے گئے فادر جان کے 10 سال کو ”روزمرہ زندگی، خاندانی ذمہ داریوں اور ان دیکھے دْکھوں“ سے بھرا ہوا دور قرار دیا۔
کاہنانہ مخصوصیت کے بعد ریورنڈ فادر شفاقت جان نے آرچ ڈایوسیس آف لاہور میں باقاعدہ کہانت کی خدمت شروع کر دی ہے اور انہیں کاریتاس لاہور کے روزمرہ انتظامی امور کی نگرانی کی ذمہ داری بھی سونپی گئی ہے۔
