میری دْعا ہے کہ امریکہ اورایران معاہدہ جنگ کے خاتمہ کا ذریعہ بنے۔ پاپائے اعظم لیو چہاردہم

مورخہ 16جون 2026کوکاسٹل گاندولفو میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے پوپ لیو چہاردہم نے امریکہ اور ایران کے درمیان حالیہ مفاہمتی یادداشت (Memorandum of Understanding)، اسپین کے اپنے حالیہ دورے، ”ری مائیگریشن“ (Remigration) کے موضوع، اور سوسائٹی آف سینٹ پائس دہم (SSPX) کی مجوزہ اسقفی تقرریوں کے بارے میں سوالات کے جوابات دیے۔ولا باربرینی کے باہر، جہاں وہ حسبِ معمول منگل کا دن آرام، مطالعہ اور دفتری امور میں گزارتے ہیں، پوپ لیونے اْن صحافیوں سے ملاقات کی جو کئی گھنٹوں سے اْن کے انتظار میں تھے۔انہوں نے گفتگو کا آغاز ہسپانوی میڈیا کے نمائندوں سے کیا۔ اسپین سے واپسی کی پرواز کے دوران ایک پریس کانفرنس طے تھی، لیکن تکنیکی خرابی کے باعث انہیں ایک مختلف طیارے میں واپس آنا پڑا، جس کی وجہ سے اس وقت سوالات کے جواب نہ دیے جا سکے تھے۔
امریکہ اور ایران کے درمیان حالیہ معاہدے کے بارے میں پوچھے جانے پر پوپ لیو نے کہا:خدا کا شکر ہے کہ کم از کم یہ مفاہمتی یادداشت موجود ہے جس پر جمعہ کے روز باضابطہ دستخط کیے جائیں گے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ابھی بھی کئی نکات طے ہونا باقی ہیں لیکن مذاکرات اور مکالمہ کے ذریعے مسائل حل کرنا ہمیشہ جنگ کی طرف واپس لوٹنے سے بہتر ہے۔
پوپ لیو نے اْمید ظاہر کی کہ یہ معاہدہ واقعی جنگ کے خاتمہ کا ذریعہ بنے، جنگ حقیقتاً ختم ہو جائے اور ہم سب کی بھلائی کے لیے آگے بڑھ سکیں۔ ایٹمی ہتھیاروں کا خاتمہ ہو، تمام اقوام کی بھلائی کو تلاش کیا جائے، اور ان معاشی و سماجی مسائل کے حل کی کوشش کی جائے جو اس عرصے میں پیدا ہوئے ہیں۔
پوپ لیو نے اسپین کے اپنے حالیہ دورے پر بھی گفتگو کی اور کہا کہ مختلف مقامات پر لوگوں کا پُرجوش استقبال قابلِ ذکر تھا۔
انہوں نے ہسپانوی زبان میں کہا کہ ہر پروگرام نہایت عمدہ انداز میں تیار کیا گیا تھا۔ ہمیں یہ بھی تسلیم کرنا چاہیے کہ بشپ صاحبان، بے شمار مومنین اور رضاکاروں نے ہر مقام پر بھرپور محنت کی، اور سب کچھ شاندار رہا۔ایک صحافی نے اسپین کی موجودہ سیاسی صورتحال کا حوالہ دیا تو پوپ نے جواب دیا:میں اسپین کی سیاست میں مداخلت نہیں کرنا چاہتا، جس طرح میں کسی اور ملک کی سیاست میں بھی مداخلت نہیں کرتا۔
تاہم انہوں نے مکالمہ اور باہمی احترام کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ لوگوں کو ایک دوسرے کی بات سننی چاہیے اور مسلسل تنقید اور توہین کی بجائے مشترکہ بھلائی کے لیے اتفاقِ رائے پیدا کرنے کی کوشش کرنی چاہیے۔
پوپ لیو نے ہجرت کے مسئلے پر بھی دوبارہ روشنی ڈالی، جس پر انہوں نے اسپین کے دورے کے دوران، خصوصاً گران کیناریا اور ٹینیرائف میں، بار بار گفتگو کی تھی۔
انہوں نے کہا کہ انسانی وقار اور شخصی احترام کو ہمیشہ مقدم رکھا جانا چاہیے۔پوپ لیو کے مطابق اکثر لوگ یہ سمجھنے کی کوشش نہیں کرتے کہ مہاجرین کو اپنے وطن چھوڑنے پر کیوں مجبور ہونا پڑا۔انہوں نے کہا کہ تشدد، جنگ، تنازعات اور بہت سی دیگر وجوہات لوگوں کو ہجرت پر مجبور کرتی ہیں۔ صرف یہ کہنا کہ انہیں واپس بھیج دو تاکہ ہم اس مسئلے سے جان چھڑا لیں،مسیحی نقط نظر سے درست جواب نہیں ہے۔ ہمیں لوگوں کا احترام کرنا چاہیے، ان کے حالات کو سمجھنا چاہیے، اور ہر شخص کے ساتھ ایک انسان کے طور پر عزت و وقار کے ساتھ پیش آنا چاہیے۔
پوپ لیو سے سوسائٹی آف سینٹ پائس دہم (SSPX) کے بارے میں بھی سوال کیا گیا، جس نے اعلان کیا ہے کہ وہ یکم جولائی کو پوپ کی اجازت کے بغیر چار بشپ مقرر کرے گی، حالانکہ مقدس کلیسیا نے اس عمل کو ممکنہ تفرقے (Schism) کا سبب قرار دیا ہے۔
اس بارے میں پوپ لیو نے بتایا کہ سوسائٹی اور عقیدے کے نظریاتی شعبے (Dicastery for the Doctrine of the Faith) کے درمیان رابطہ جاری ہے۔انہوں نے کہا کہ ہم اب بھی ایک اور اپیل کرنے پر غور کر رہے ہیں تاکہ ان سے کہیں: ایسا نہ کریں، آئیے کلیسیا میں اتحاد کے ساتھ زندگی گزارنے کی کوشش کریں۔ لیکن فیصلہ ان کا اپنا ہے۔
پوپ لیونے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وہ دوسری ویٹیکن کونسل کی بعض بنیادی تعلیمات کو قبول کرنے سے انکار کرتے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ اگر وہ یہی راستہ اختیار کرتے ہیں تو مجھے اس پر افسوس ہوگا، لیکن ہمیں آگے بڑھنا ہوگا۔ مسیحیوں کے درمیان تقسیم ہمیشہ دردناک ہوتی ہے۔
ذاتی نوعیت کے سوالات کے جواب میں پوپ نے بتایا کہ وہ اپنی گرمیوں کی تعطیلات مطالعے، غور و فکر اور آئندہ ذمہ داریوں کی تیاری میں گزاریں گے۔
انہوں نے مسکراتے ہوئے کہا:کچھ آرام، کافی مطالعہ، غور و فکر، اور آنے والے کاموں کی تیاری۔ کام تو ہمیشہ رہتا ہے۔جب اْن سے پوچھا گیا کہ کیا وہ واقعی آرام بھی کر سکیں گے تو انہوں نے ہنستے ہوئے جواب دیا:اْمید تو یہی ہے!

Daily Program

Livesteam thumbnail