لائبریری صرف کتابوں کی جگہ نہیں بلکہ تعلقات اور خیالات کے تبادلے کا مرکز ہے۔پاپائے اعظم لیو چہاردہم
مورخہ14 ستمبر2026کو پاپائے اعظم لیو چہاردہم نے ویٹی کن کے اپوسٹولک آرکائیوز اور اپوسٹولک لائبریری کے عملے سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ لائبریری محض کتابوں سے بھری ہوئی جگہ نہیں بلکہ تعلقات، باہمی تبادلے اور خیالات کے اشتراک سے تشکیل پانے والی جگہ ہے۔پوپ لیو نے بطور پوپ اپوسٹولک لائبریری کے اپنے پہلے دورے کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ وہ اپنے پیش روؤں کے نقشِ قدم پر چلتے ہوئے یہاں آئے ہیں۔ انہوں نے آرکائیوز اور لائبریری کے مشن کو سراہتے ہوئے کہا کہ یہ ادارے کلیسیا اور پوری انسانیت کے فائدے کے لیے ثقافت کے فروغ اور علمی ورثہ کے تحفظ کی اہم خدمت انجام دے رہے ہیں۔پوپ لیو نے کہا کہ بظاہر لائبریری ایک پُرسکون اور خاموش جگہ ہے، لیکن کتاب انسان کے اندر جستجو پیدا کرتی ہے اور اسے سچائی کی تلاش پر آمادہ کرتی ہے۔
انہوں نے مقدس آگسٹین کی مثال دیتے ہوئے بتایا کہ مقدس پولوس رسول کے خطوط کے مطالعے سے ان کے شکوک دور ہوئے، لیکن سچائی کو جاننے کی خواہش مزید گہری ہوگئی۔ مقدس صحائف کے مطالعے نے ان کی روح کو مزید کشادگی عطا کی۔پوپ لیو نے کہا کہ اسی طرح کتابوں کے مطالعے، تحفظ اور علمی ذخیرے تک رسائی کے ذریعے اپوسٹولک لائبریری کلیسیا اور انسانیت کو سچائی کی گہرائیوں تک پہنچنے میں مدد دیتی ہے، کیونکہ سچائی اور محبت کا سرچشمہ زندہ خدا ہے۔
پوپ لیو نے اپوسٹولک لائبریری کو ایک ”دھڑکتے ہوئے دل“ سے تشبیہ دی۔ انہوں نے کہا کہ دل کی طرح لائبریری بھی دو حرکات کے ذریعے زندہ رہتی ہے: ایک طرف خاموشی، غوروفکر اور علمی تحفظ، اور دوسری طرف دنیا کے ساتھ کشادگی، تبادلہ اور خیالات کا اشتراک۔انہوں نے کہا کہ لائبریری کی یہ اندرونی زندگی اس کے منفرد اور قیمتی علمی خزانے سے جڑی ہوئی ہے۔ اگرچہ ڈیجیٹل ذرائع اور آن لائن رسائی کے ذریعے اس خزانے کو زیادہ لوگوں تک پہنچانا ضروری ہے، تاہم لائبریری میں خود آکر مطالعہ کرنے کی قدیم روایت کو بھی برقرار رکھنا چاہیے۔پوپ لیونے واضح کیا کہ یہ جگہ صرف کتابیں رکھنے کے لیے نہیں بلکہ لوگوں کو ایک دوسرے سے ملنے، خیالات بانٹنے اور علم کے تبادلے کا موقع فراہم کرتی ہے۔
پوپ کے مطابق یہ طرزِ عمل کلیسیا کی قدیم اور ہمیشہ نئی رہنے والی ثقافتی کشادگی کی گواہی دیتا ہے۔انہوں نے آرکائیوز اور لائبریری کے عملے پر زور دیا کہ وہ ماضی کے علمی ورثے کی حفاظت کے ساتھ مستقبل کے تقاضوں کو بھی سامنے رکھیں اور جدید ذرائع کو بروئے کار لاتے ہوئے مفاہمت اور مکالمے کے نئے راستے تلاش کریں۔انہوں نے کہا کہ وہ اپنے پیش روؤں کی روایت کو جاری رکھتے ہوئے ان اداروں کی نگہداشت جاری رکھیں گے، جو کلیسیا کی ثقافتی اور انتظامی یادداشت کو محفوظ رکھنے اور فروغ دینے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔
