اشوک ستون
قدیم ہندوستان کی تاریخ میں ”اشوک ستون“ ایک ایسی شاندار یادگار ہے جو آج بھی ماضی کی عظمت، فنِ تعمیر اور اخلاقی تعلیمات کی یاد دلاتی ہے۔ یہ ستون ”موریہ سلطنت کے بادشاہ اشوک“ کے دور میں تعمیر کیے گئے تھے اور ان پر کندہ تحریریں اُس زمانے کی تاریخ، حکمرانی اور معاشرتی اقدار کے بارے میں اہم معلومات فراہم کرتی ہیں۔اشوک کے ستون صرف پتھر کے بلند ڈھانچے نہیں تھے بلکہ ان کے ذریعے بادشاہ اشوک نے اپنی رعایا تک امن، اخلاق، برداشت اور انسانی بھلائی کے پیغامات پہنچانے کی کوشش کی۔اب سوال یہ ہے کہ بادشاہ اشوک کون تھا؟اشوک موریہ سلطنت کا ایک طاقتور حکمران تھا، جس نے تقریباً تیسری صدی قبل مسیح میں برصغیر کے ایک بڑے حصے پر حکومت کی۔ اس کے ابتدائی دورِ حکومت کو فوجی فتوحات سے منسوب کیا جاتا ہے۔اس کی زندگی میں ایک اہم موڑ ”جنگِ کلنگا“ کے بعد آیا۔ جنگ میں ہونے والی بڑے پیمانے پر ہلاکتوں اور تباہی نے اشوک پر گہرا اثر ڈالا۔ اس کے بعد اس نے اپنی حکمرانی میں جنگ اور فتوحات کی بجائے اخلاقی اقدار، امن اور عوامی فلاح پر زیادہ زور دینا شروع کیا۔
اشوک ستون کیوں بنائے گئے؟اشوک نے اپنی ریاست کے مختلف علاقوں میں پتھر کے ستون نصب کروائے۔ ان ستونوں پر ایسی تحریریں کندہ کی گئیں جن میں حکمرانی، اخلاق، مذہبی برداشت، عوام کی فلاح اور جانداروں کے ساتھ حسنِ سلوک جیسے موضوعات کا ذکر ملتا ہے۔ان تحریروں کو آج ”اشوک کے فرامین“ (Edicts of Ashoka)کہا جاتا ہے۔ان ستونوں کی ایک خاص بات یہ تھی کہ پیغام صرف شاہی محل تک محدود نہیں رہتا تھا بلکہ عوامی مقامات پر نصب ستونوں کے ذریعے وسیع علاقے کے لوگوں تک پہنچتا تھا۔اشوک کے ستون عموماً ایک ہی بڑے پتھر سے بنائے گئے تھے۔ ان کی سطح انتہائی ہموار اور چمک دار ہوتی تھی، جسے دیکھ کر قدیم ہندوستان کے ماہر کاریگروں کی مہارت کا اندازہ ہوتا ہے۔ستون کا لمبا اور نسبتاً سادہ دھڑ اوپر کی طرف ایک خوبصورت دارالحکومت تک پہنچتا تھا۔ بعض ستونوں کے اوپر جانوروں کے مجسمے بنائے گئے، جن میں شیر، بیل اور ہاتھی خاص طور پر نمایاں ہیں۔ان ستونوں کی تعمیر میں جس قسم کی پتھر تراشی اور پالش استعمال کی گئی، وہ قدیم ہندوستانی فنِ تعمیر کی غیر معمولی مہارت کی مثال سمجھی جاتی ہے۔
اشوک کے ستونوں میں سب سے زیادہ مشہور ”سارناتھ کا شیر دارالحکومت“ (Lion Capital of Ashoka) ہے۔اس میں چار شیروں کو پشت سے پشت ملا کر کھڑا دکھایا گیا ہے۔ شیروں کے نیچے ایک گول اباکس پر مختلف جانوروں کی نقوش موجود ہیں، جن میں گھوڑا، بیل، ہاتھی اور شیر شامل ہیں۔ ان کے درمیان پہیے بھی دکھائے گئے ہیں۔اس کے نیچے موجود ”دھرم چکر“ بعد میں ہندوستان کی قومی علامت کا اہم حصہ بنا۔آج سارناتھ کا شیر دارالحکومت ہندوستان کا قومی نشان ہے۔اشوک سے وابستہ ایک اور مشہور علامت اشوک چکر ہے۔ یہ 24 تیلیوں والا پہیہ ہے جسے ہندوستان کے قومی پرچم کے مرکز میں نیلے رنگ کے چکر کی صورت میں دکھایا گیا ہے۔یہ چکر مسلسل حرکت، اخلاقی اصولوں اور زندگی کے سفر کی علامت کے طور پر سمجھا جاتا ہے۔ ہندوستانی قومی پرچم میں اس کی موجودگی اشوک کے تاریخی اور اخلاقی ورثے کو جدید دور سے جوڑتی ہے۔
اشوک کے ستونوں اور چٹانوں پر کندہ تحریریں قدیم ہندوستان کی تاریخ کے لیے انتہائی اہم ہیں۔ ان میں بادشاہ کے خیالات، حکومتی پالیسیوں اور اخلاقی تعلیمات کا ذکر ملتا ہے۔اشوک نے اپنی تحریروں میں لوگوں کو والدین کا احترام، بزرگوں کے ساتھ حسنِ سلوک، مختلف مذہبی گروہوں کے احترام اور مخلوقات کے ساتھ رحم کا درس دیا۔یہ کتبے اس لیے بھی اہم ہیں کہ ان کے ذریعے ماہرین کو موریہ دور کی زبان، رسم الخط اور معاشرتی زندگی کے بارے میں قیمتی معلومات حاصل ہوتی ہیں۔اشوک کے بیشتر فرامین برہمی اور بعض علاقوں میں دیگر قدیم رسم الخط میں لکھے گئے تھے۔ برہمی رسم الخط کی تحریروں کو سمجھنے میں انیسویں صدی میں ماہرین کی تحقیق نے اہم کردار ادا کیا۔خاص طور پر جیمز پرنسپ نے 1830 کی دہائی میں برہمی رسم الخط کو پڑھنے میں نمایاں کامیابی حاصل کی۔ اس پیش رفت کے بعد اشوک کے فرامین اور موریہ دور کی تاریخ کو سمجھنے کے نئے دروازے کھلے۔
اشوک کے ستون ہمیں صرف ایک قدیم بادشاہ کے بارے میں نہیں بتاتے بلکہ یہ اُس دور کی سیاسی طاقت، فنِ تعمیر، زبان، مذہبی ماحول اور معاشرتی اقدار کی بھی جھلک پیش کرتے ہیں۔ان ستونوں سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ قدیم حکمران اپنے پیغامات کو وسیع علاقوں تک پہنچانے کے لیے عوامی مقامات اور مستقل یادگاروں کا استعمال کرتے تھے۔آج بھی اشوک کے ستون اور اْن کے کتبے ماہرینِ آثارِ قدیمہ، مورخین اور سیاحوں کے لیے غیر معمولی اہمیت رکھتے ہیں۔اشوک ستون تقریباً دو ہزار سے زیادہ سال پرانے ہونے کے باوجود آج بھی اپنی تاریخی اہمیت برقرار رکھے ہوئے ہیں۔ ان پر کندہ پیغامات اور ان کی شاندار تعمیر ہمیں قدیم ہندوستان کی علمی، فنی اور سیاسی ترقی کی یاد دلاتی ہے۔سارناتھ کے شیر دارالحکومت اور اشوک چکر نے تو جدید ہندوستان کی قومی شناخت کا بھی حصہ بن کر اس قدیم ورثے کو آج تک زندہ رکھا ہے۔
اشوک ستون قدیم ہندوستان کی تاریخ کا ایک ایسا باب ہیں جس میں طاقت، فن، تحریر اور اخلاقی فکر ایک ساتھ نظر آتے ہیں۔ یہ ستون ہمیں بتاتے ہیں کہ ہزاروں سال پہلے بھی حکمران اپنے پیغامات کو پتھر پر نقش کر کے آنے والی نسلوں تک پہنچانے کی کوشش کرتے تھے۔آج جب ہم کسی اشوک ستون کو دیکھتے ہیں تو ہمارے سامنے صرف ایک قدیم پتھر کا ستون نہیں ہوتا، بلکہ ایک ایسی تہذیب کی جھلک ہوتی ہے جس نے اپنے عہد میں فنِ تعمیر، تحریر اور حکمرانی کے میدان میں ایک نمایاں مقام حاصل کیا تھا۔
