روح القدس ہمارے ذہنوں کو روشن کرتا اور ہماری حفاظت کرتا ہے۔پاپائے اعظم لیو چہاردہم
مورخہ 24مئی 2026کوسینٹ پیٹرز باسیلیکا میں پاپائے اعظم لیو چہاردہم نے عیدِ پنتیکوست کے موقع پر پاک ماس کے دوران اپنے پیغام میں کہا کہ کہ ایسٹر کا موسم اسی عید پر اپنی تکمیل کو پہنچتا ہے۔انھوں نے زور دیتے ہوئے بتایاکہ روحُ القدس آج بھی ہماری زندگیوں میں حیرت انگیز کام کرتا ہے۔ اُنہوں نے فرمایا کہ جب روحُ القدس ذہنوں کو روشن کرتا اور ہمارے دلوں میں نئی زندگی پیدا کرتا ہے تو”وہ تاریخ کو بدل دیتا ہے اور اُسے نجات کی طرف کھول دیتا ہے، جو خداوند کا سب کے لیے تحفہ ہے۔پوپ لیو نے کہا کہ پاک روح کی قدرت کے ذریعے ہماری منادی خوشی اور اُمید سے بھر جاتی ہے، کیونکہ ہم خود دنیا کی نئی تخلیق، زمین کا نور اور نمک ہیں۔
پوپ لیو نے اُس انجیل کے واقعہ کو یاد کیا جس میں رسول خوفزدہ ہو کر بالاخانے میں بند تھے، مگر یسوع بند دروازوں کے باوجود اُن کے درمیان آ کھڑا ہوا اور اُنہیں خوشی سے بھر دیا۔ یسوع مسیح نے کہا تمہیں سلامتی حاصل ہو اور پھر شاگردوں پرروح پاک پھونکا۔پاک روح نے رسولوں کی زندگی میں غیرمعمولی تبدیلی پیدا کی، اور آج بھی یہی روح ہماری زندگیوں میں کام کر رہا ہے۔
پوپ لیو نے کہا کہ پاک روح نے مسیح کی صلیبی قربانی کے ذریعے خدا اور انسان کے درمیان صلح قائم کی اور یہی سلامتی ہمارے دلوں اور پوری دنیا میں پھیلاتا ہے۔انہوں نے کہا کہ یہ سلامتی معافی سے جنم لیتی ہے اور ہمیں دوسروں کو معاف کرنے کی طرف لے جاتی ہے۔ خداوند اپنی سلامتی کی روح پوری تاریخ میں سب انسانوں پر نازل کرتا ہے کیونکہ اُس نے سب کو موت سے نجات دی ہے اور کسی کو خارج نہیں کیا۔پاک روح کے مشنری پہلو پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ روح”مسیح کی زندہ محبت“ہے جو ہمیں بھر دیتی، آگے بڑھاتی اور ہمارے مشن میں قائم رکھتی ہے۔
انہوں نے یاد دلایا کہ پنتیکوست کے دن ہی رسولوں نے روح القدس کی قوت سے یسوع کی منادی شروع کی۔ روح القدس کا پہلا کام یہ ہے کہ وہ ہمیں ایمان عطا کرتا ہے تاکہ ہم اقرار کریں کہ”یسوع خداوند ہے۔“پوپ لیو نے زور دیا کہ تمام ایماندار”انجیل کے شریکِ کار“ہیں۔ کلیسیا صرف انجیل کی محافظ نہیں بلکہ اُس کی اصل گواہ اور خدمت گزار بھی ہے۔روح القدس کی قدرت سے ہماری منادی خوشی اور اُمید سے بھر جاتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم اپنی قابلیت کی وجہ سے نہیں بلکہ خداوند کے کلام کی وجہ سے دنیا کی نئی روشنی اور زمین کا نمک ہیں، کیونکہ وہی گنہگار کو مقدس، کوڑھی کوشفا یافتہ اور انکار کرنے والے کو رسول بناتا ہے۔
انہوں نے تسلیم کیا کہ دنیا میں کچھ تبدیلیاں ایسی بھی ہیں جو نئی زندگی نہیں لاتیں بلکہ غلطی اور تشدد کے ذریعے دنیا کو مزید بوڑھا اور تاریک کر دیتی ہیں۔ مگر روحُ القدس ذہنوں کو روشن اور دلوں کو نئی طاقت بخشتا ہے۔
پوپ لیو نے فرمایا کہ روحُ القدس تاریخ کو بدل کر نجات کے لیے راستہ کھول دیتا ہے، اور کلیسیا کا مشن اسی نجات کی گواہی دینا ہے تاکہ دنیا کی اْلجھن خدا اور انسانوں کے درمیان رفاقت میں بدل جائے۔
انہوں نے یاد دلایا کہ روحُ القدس، جس نے انبیا کے ذریعے کلام کیا، ہمیشہ سچائی میں اتحاد پیدا کرتا ہے اور ہمیں سمجھ، ہم آہنگی اور پاکیزہ زندگی عطا کرتا ہے۔ پوپ نے فرمایا کہ”مددگار روح“ہمیں ہر اُس چیز سے بچاتا ہے جو سچائی اور انجیل کی روشنی کو دھندلا دیتی ہے، جیسے فرقہ بندی، ریاکاری اور دنیاوی رجحانات۔انہوں نے کہا کہ خدا کی دی ہوئی سچائی تمام قوموں کے لیے آزادی کا پیغام ہے، جو ہر ثقافت کو اندر سے بدل دیتی ہے۔
انہوں نے زور دیا کہ روحُ القدس صرف ایک بار نہیں دیا گیا بلکہ وہ مسلسل کلیسیا میں کام کرتا ہے۔ جیسے پاک یوخرست میں مسیح کی حضوری ہمیں مسلسل تقویت دیتی ہے، ویسے ہی بپتسمہ میں روحُ القدس ہمیں مسیحی بناتا ہے۔
اپنے وعظ کے اختتام پر پوپ لیو چہاردہم نے دْعا کی کہ روح القدس ہمیں جنگ کی برائی سے بچائے، کیونکہ جنگ کسی سپر پاور سے نہیں بلکہ محبت کی قادرِ مطلق قوت سے ختم ہوتی ہے۔انہوں نے دْعا کی کہ پاک روح انسانیت کو غربت سے آزاد کرے، گناہ کے زخموں کو شفا دے اور یسوع کے نام میں تمام قوموں کو نجات عطا کرے۔پوپ لیو نے مقدسہ مریم سے بھی شفاعت مانگی کہ اْن کی شفاعت کے وسیلے سے روح القدس آج اور ہمیشہ ہمیں وہی دلیری عطا کرے جو اُس نے رسولوں کو بخشی تھی۔