طبی فضلہ

ہسپتالوں، دواخانوں، لیبارٹریوں اور دیگر طبی اداروں سے نکلنے والا کچرا عام گھریلو کچرے جیسا نہیں ہوتا۔ اسے طبی فضلہ یا میڈیکل ویسٹ کہا جاتا ہے، جو انسانی صحت اور ماحول دونوں کے لیے سنگین خطرات کا باعث بن سکتا ہے۔ بدقسمتی سے ہمارے معاشرے میں اس اہم ماحولیاتی مسئلے پر سب سے کم توجہ دی جاتی ہے، حالانکہ اس کے اثرات انتہائی خطرناک اور دیرپا ہو سکتے ہیں۔طبی فضلے میں استعمال شدہ سرنجیں، سوئیاں، خون آلود پٹیاں، دستانے، کیمیائی مادے، لیبارٹری کے نمونے، ادویات کی باقیات اور بعض اوقات جسمانی اعضا بھی شامل ہوتے ہیں۔ یہ تمام اشیاء جراثیم، بیکٹیریا اور وائرس سے آلودہ ہو سکتی ہیں۔ اگر ان کو مناسب طریقے سے ٹھکانے نہ لگایا جائے تو یہ ہیپاٹائٹس بی، ہیپاٹائٹس سی، ایچ آئی وی اور دیگر متعدی بیماریوں کے پھیلاؤ کا سبب بن سکتی ہیں۔ خاص طور پر وہ افراد جو کچرا چننے کا کام کرتے ہیں یا صفائی کے عملے سے تعلق رکھتے ہیں، سب سے زیادہ خطرے میں ہوتے ہیں۔
طبی فضلے کا ایک اور پہلو اس میں موجود زہریلے اور کیمیائی مواد ہیں۔ بعض ادویات، کیموتھراپی کے کیمیکل، لیبارٹری میں استعمال ہونے والے محلول اور دیگر خطرناک مادے اگر زمین یا پانی میں شامل ہو جائیں تو یہ ماحولیاتی آلودگی کا باعث بنتے ہیں۔ زیرِ زمین پانی آلودہ ہو سکتا ہے، جو بعد ازاں پینے کے پانی میں شامل ہو کر انسانی صحت پر براہِ راست اثر انداز ہوتا ہے۔ اسی طرح اگر اس فضلے کو کھلے عام جلا دیا جائے تو اس سے زہریلی گیسیں پیدا ہوتی ہیں جو فضائی آلودگی میں اضافہ کرتی ہیں اور سانس کی بیماریوں کا سبب بنتی ہیں۔
بدقسمتی سے ہمارے ملک میں اکثر طبی فضلہ عام کچرے کے ساتھ ملا دیا جاتا ہے۔ کئی مقامات پر اسے کھلے میدانوں میں پھینک دیا جاتا ہے یا غیر معیاری طریقے سے جلایا جاتا ہے۔ بعض اوقات استعمال شدہ سرنجیں اور دیگر سامان دوبارہ مارکیٹ میں فروخت ہونے کی خبریں بھی سامنے آتی ہیں، جو ایک نہایت تشویشناک امر ہے۔ اس طرح نہ صرف مریض بلکہ پورا معاشرہ خطرے میں پڑ جاتا ہے۔
اس مسئلے کا حل مناسب منصوبہ بندی اور مؤثر قانون سازی میں پوشیدہ ہے۔ سب سے پہلے ہسپتالوں اور طبی مراکز کو چاہیے کہ وہ طبی فضلے کو عام کچرے سے الگ کریں۔ عالمی سطح پر اس کے لیے رنگوں کے مطابق ڈبے استعمال کیے جاتے ہیں، جیسے سرخ ڈبہ متعدی فضلے کے لیے اور پیلا ڈبہ کیمیائی مواد کے لیے۔ اس کے بعد اس فضلے کو محفوظ طریقے سے تلف کیا جانا چاہیے، مثلاً مخصوص درجہ حرارت پر جلانے یا جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے اسے جراثیم سے پاک کرنے کے بعد ٹھکانے لگایا جائے۔
حکومت کو چاہیے کہ وہ اس حوالے سے سخت قوانین نافذ کرے اور ان پر عملدرآمد یقینی بنائے۔ طبی اداروں کی باقاعدہ نگرانی کی جائے اور خلاف ورزی کی صورت میں جرمانے یا قانونی کارروائی کی جائے۔ اس کے ساتھ ساتھ عوام میں آگاہی پیدا کرنا بھی ضروری ہے تاکہ لوگ اس مسئلے کی سنگینی کو سمجھ سکیں۔تعلیمی اداروں اور میڈیا کو بھی اس موضوع کو اجاگر کرنا چاہیے۔ اگر معاشرے میں شعور بیدار ہوگا تو نہ صرف طبی ادارے ذمہ داری کا مظاہرہ کریں گے بلکہ عام شہری بھی صفائی اور صحت کے اصولوں پر عمل کریں گے۔
آخر میں یہ کہنا بجا ہوگا کہ طبی فضلہ ایک خاموش مگر مہلک خطرہ ہے۔ اگر آج ہم نے اس مسئلے پر سنجیدگی سے توجہ نہ دی تو آنے والی نسلوں کو اس کے سنگین نتائج بھگتنا پڑ سکتے ہیں۔ صاف ماحول اور محفوظ معاشرہ ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے، اور اس ذمہ داری سے غفلت کسی صورت قابلِ قبول نہیں۔
 

Daily Program

Livesteam thumbnail