وانگاری ماتھائی
دنیا میں بڑی تبدیلیاں ہمیشہ بڑے نعروں، طاقتور اداروں یا بے شمار وسائل سے شروع نہیں ہوتیں۔ کبھی کبھی ایک معمولی سا خیال، ایک چھوٹا سا قدم اور ایک درخت بھی ایسی تحریک کو جنم دے سکتا ہے جو پوری دنیا کو متاثر کر دے۔ وانگاری ماتھائی بھی ایسی ہی غیر معمولی شخصیت تھیں جنہوں نے درخت لگانے کے ایک سادہ سے عمل کو ماحول، خواتین کے حقوق، غربت کے خاتمے، امن اور انسانی عظمت کی ایک بڑی تحریک میں بدل دیا۔ ان کی زندگی اس بات کی خوبصورت مثال ہے کہ ایک انسان اگر اپنے اردگرد کے مسائل کو محسوس کرے اور ان کے حل کے لیے قدم اٹھائے تو اس کی کوشش نسلوں تک اثر انداز ہو سکتی ہے۔وانگاری ماتھائی 1940ء میں کینیا میں پیدا ہوئیں۔ ان کا تعلق ایک ایسے دیہی ماحول سے تھا جہاں قدرت اور انسانی زندگی ایک دوسرے سے گہرا تعلق رکھتی تھیں۔ بچپن میں انہوں نے اپنے اردگرد ہرے بھرے درخت، صاف پانی اور زرخیز زمین دیکھی، لیکن وقت کے ساتھ ماحول میں تبدیلیاں آنے لگیں۔ جنگلات کم ہونے لگے، زمین کی زرخیزی متاثر ہوئی، پانی کے ذرائع خشک ہونے لگے اور دیہی علاقوں میں رہنے والے لوگوں، خاص طور پر خواتین، کو روزمرہ زندگی کی بنیادی ضروریات پوری کرنے کے لیے زیادہ مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔
وانگاری نے اعلیٰ تعلیم حاصل کی اور حیاتیاتی علوم میں اپنی دلچسپی کو آگے بڑھایا۔ وہ مشرقی اور وسطی افریقہ کی پہلی خواتین میں شامل تھیں جنہوں نے ڈاکٹریٹ کی ڈگری حاصل کی۔ ان کی علمی کامیابی صرف ایک ذاتی اعزاز نہیں تھی بلکہ اس دور میں افریقی خواتین کے لیے ایک نئی راہ کھولنے والی مثال بھی تھی۔ تاہم وانگاری صرف یونیورسٹی اور تحقیق کی دنیا تک محدود نہیں رہیں۔ انہوں نے محسوس کیا کہ علم کی اصل قدر اس وقت سامنے آتی ہے جب وہ معاشرے کے مسائل حل کرنے میں استعمال ہو۔انہوں نے خاص طور پر دیہی خواتین کے مسائل کو قریب سے دیکھا۔ خواتین کو لکڑی حاصل کرنے کے لیے طویل فاصلے طے کرنا پڑتے تھے، پانی کی کمی کا سامنا تھا اور زمین کی پیداوار بھی کم ہو رہی تھی۔ وانگاری نے ان مسائل کے درمیان ایک گہرا تعلق دریافت کیا۔ جب جنگلات ختم ہوتے ہیں تو صرف درخت ہی نہیں جاتے، بلکہ پانی کے ذخائر، زرخیز مٹی، حیاتیاتی تنوع اور لوگوں کی روزمرہ زندگی بھی متاثر ہوتی ہے۔
اسی سوچ سے 1977ء میں گرین بیلٹ موومنٹ (Green Belt Movement) نے جنم لیا۔ اس تحریک کا بنیادی خیال بظاہر بہت سادہ تھا: درخت لگائے جائیں۔ لیکن وانگاری کے لیے درخت لگانا صرف ماحول کو سبز بنانا نہیں تھا۔ یہ غربت کے خلاف ایک قدم تھا، خواتین کو بااختیار بنانے کا ذریعہ تھا اور آنے والی نسلوں کے لیے زمین کو محفوظ بنانے کی کوشش تھی۔ انہوں نے خواتین کو درخت لگانے اور ان کی دیکھ بھال کے لیے منظم کیا۔ اس طرح ایک چھوٹا سا پودا معاشی خودمختاری، ماحولیاتی تحفظ اور اجتماعی ذمہ داری کی علامت بن گیا۔
گرین بیلٹ موومنٹ کے ذریعے لاکھوں درخت لگائے گئے۔ خواتین نے نہ صرف اپنے ماحول کو بہتر بنانے میں کردار ادا کیا بلکہ انہیں اپنے گھروں اور معاشرے میں زیادہ اعتماد اور معاشی مواقع بھی حاصل ہوئے۔ وانگاری ماتھائی نے یہ ثابت کیا کہ ماحولیاتی تحفظ کو انسانی زندگی کے مسائل سے الگ نہیں کیا جا سکتا۔ اگر ماحول تباہ ہوگا تو سب سے زیادہ اثر اکثر غریب اور کمزور طبقات پر پڑے گا۔ان کی جدوجہد صرف درختوں تک محدود نہیں رہی۔ وہ جمہوریت، انسانی حقوق، انصاف اور امن کے لیے بھی آواز اٹھاتی رہیں۔ ماحولیاتی تباہی کے خلاف بات کرنا بعض اوقات طاقتور مفادات کے سامنے کھڑا ہونا تھا، لیکن وانگاری نے مشکلات کے باوجود اپنی آواز بلند رکھی۔ ان کے لیے درخت لگانا ایک سیاسی اور سماجی عمل بھی تھا، کیونکہ وہ سمجھتی تھیں کہ ایک صحت مند ماحول کے لیے ذمہ دار حکومت، انصاف اور عوام کی شمولیت بھی ضروری ہے۔
ان کی خدمات کو عالمی سطح پر اس وقت غیر معمولی پہچان ملی جب انہیں 2004ء میں ”نوبیل امن انعام“ سے نوازا گیا۔ وہ امن کا نوبیل انعام حاصل کرنے والی پہلی افریقی خاتون اور پہلی ماحول دوست کارکن بنیں۔ نوبیل کمیٹی نے ان کی جدوجہد کو پائیدار ترقی، جمہوریت اور امن کے ساتھ جوڑا۔ اس اعزاز نے دنیا کے سامنے یہ حقیقت مزید واضح کی کہ ماحول کا تحفظ صرف درختوں اور جنگلات کا مسئلہ نہیں بلکہ امن، انصاف اور انسانی مستقبل کا بھی مسئلہ ہے۔
وانگاری ماتھائی کی زندگی نوجوانوں کے لیے بھی ایک اہم پیغام رکھتی ہے۔ اکثر ہم سوچتے ہیں کہ دنیا کے بڑے مسائل ہمارے اختیار سے باہر ہیں۔ موسمیاتی تبدیلی، جنگلات کی کمی، آلودگی اور غربت جیسے مسائل واقعی بڑے ہیں، لیکن ان کے حل کا آغاز ہمیشہ کسی نہ کسی چھوٹے قدم سے ہوتا ہے۔ ایک درخت لگانا، پانی ضائع نہ کرنا، کچرا مناسب جگہ پر ڈالنا، کسی سبز جگہ کی حفاظت کرنا یا دوسروں کو ماحول کی اہمیت کے بارے میں آگاہ کرنا بظاہر معمولی کام ہیں، مگر اجتماعی طور پر یہی اقدامات بڑی تبدیلی پیدا کر سکتے ہیں۔
وانگاری ماتھائی نے ہمیں یہ بھی سکھایا کہ ترقی کا مطلب صرف بلند عمارتیں، نئی سڑکیں یا جدید ٹیکنالوجی نہیں۔ حقیقی ترقی وہ ہے جس میں انسان، قدرت اور آنے والی نسلیں ایک ساتھ محفوظ رہیں۔ اگر آج ہم اپنی زمین کو نقصان پہنچا کر ترقی کریں گے تو کل ہماری آنے والی نسلیں اس کی قیمت ادا کریں گی۔
وانگاری ماتھائی 2011ء میں دنیا سے رخصت ہوئیں، لیکن ان کا پیغام آج بھی زندہ ہے۔ ایک درخت سے شروع ہونے والی ان کی تحریک نے لاکھوں لوگوں کو یہ احساس دلایا کہ زمین صرف ہمارے استعمال کے لیے نہیں بلکہ ہماری ذمہ داری بھی ہے۔ ان کی زندگی ہمیں یاد دلاتی ہے کہ تبدیلی ہمیشہ کہیں دور سے نہیں آتی؛ کبھی وہ ہمارے اپنے ہاتھ میں موجود ایک ننھے سے پودے سے شروع ہوتی ہے۔ شاید اسی لیے وانگاری ماتھائی کی سب سے بڑی میراث صرف لگائے گئے درخت نہیں بلکہ وہ اْمید ہے جو انہوں نے انسانوں کے دلوں میں بوئی کہ اگر ہم مل کر اپنی زمین کی حفاظت کریں تو ایک بہتر، پُرامن اور سرسبز مستقبل ضرور ممکن ہے۔
