جین گڈال
کبھی کبھی ایک انسان کی زندگی کسی ایک سوال سے بدل جاتی ہے۔ ایک نوجوان لڑکی کے ذہن میں بھی ایک ایسا ہی سوال تھا کہ کیا جانور بھی جذبات رکھتے ہیں؟ کیا وہ ایک دوسرے سے محبت، خوف، غصے اور خوشی کا اظہار کر سکتے ہیں؟ یہی سوال جین گڈال کو افریقہ کے گھنے جنگلوں تک لے گیا، جہاں انہوں نے چمپینزیوں کے درمیان برسوں گزار کر نہ صرف جانوروں کے بارے میں سائنسی سوچ کو بدلا بلکہ پوری دنیا کو یہ احساس بھی دلایا کہ انسان اور قدرت ایک دوسرے سے الگ نہیں ہیں۔جین گڈال 3 اپریل 1934ء کو لندن، برطانیہ میں پیدا ہوئیں۔ بچپن ہی سے انہیں جانوروں اور قدرتی دنیا سے گہری دلچسپی تھی۔ ان کا خواب تھا کہ وہ افریقہ جائیں اور وہاں جنگلی جانوروں کو قریب سے دیکھیں۔ اس زمانے میں ایک نوجوان لڑکی کے لیے افریقہ جا کر جنگلات میں تحقیق کرنا آسان کام نہیں تھا، لیکن جین نے اپنے خواب کو محض خواب نہیں رہنے دیا۔ انہوں نے محنت کی، مواقع تلاش کیے اور بالآخر 1957ء میں افریقہ پہنچیں۔
1958ء میں انہوں نے معروف ماہرِ حیاتیات اور ماہرِ بشریات لوئس لیکی کے ساتھ کام شروع کیا۔ لیکی نے ان کی صلاحیت اور جانوروں کے بارے میں غیر معمولی دلچسپی کو محسوس کیا اور انہیں تنزانیہ کے گومبے علاقے میں چمپینزیوں کا مشاہدہ کرنے کا موقع دیا۔ 1960ء میں جین گڈال نے گومبے کے جنگلات میں اپنی تحقیق شروع کی۔ اس وقت انہیں اندازہ نہیں تھا کہ یہ جنگلات آنے والی کئی دہائیوں تک ان کی زندگی کا مرکز بن جائیں گے۔جین نے چمپینزیوں کا مشاہدہ ایک ایسے انداز میں کیا جو اس زمانے کے روایتی سائنسی طریقوں سے کچھ مختلف تھا۔ وہ صرف دور بیٹھ کر جانوروں کو دیکھنے کے بجائے ان کے رویوں، تعلقات اور روزمرہ زندگی کو سمجھنے کی کوشش کرتی تھیں۔ انہوں نے چمپینزیوں کو الگ الگ پہچاننے کے لیے انہیں نام دیے، ان کے درمیان تعلقات کا مشاہدہ کیا اور ان کے رویوں کو طویل عرصے تک ریکارڈ کیا۔ان کی تحقیق کی ایک اہم دریافت یہ تھی کہ چمپینزی لکڑی کی ٹہنیوں اور گھاس کے تنکوں کو تبدیل کرکے انہیں دیمک کے شکار کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ یہ مشاہدہ انتہائی اہم تھا کیونکہ اس سے جانوروں کے اوزار استعمال کرنے کے بارے میں سائنسی نظریات پر اثر پڑا۔ اس سے یہ تصور بھی مضبوط ہوا کہ اوزار بنانا اور استعمال کرنا صرف انسانوں کی خصوصیت نہیں۔
لیکن جین گڈال کی تحقیق کی اہمیت صرف اوزار استعمال کرنے تک محدود نہیں تھی۔ انہوں نے چمپینزیوں کے درمیان پیچیدہ سماجی تعلقات کا بھی مشاہدہ کیا۔ انہوں نے دیکھا کہ یہ جانور ایک دوسرے کے ساتھ مضبوط تعلقات قائم کرتے ہیں، بچوں کی دیکھ بھال کرتے ہیں، مقابلہ کرتے ہیں، کبھی جارحیت کا مظاہرہ کرتے ہیں اور بعض مواقع پر ایک دوسرے کو تسلی بھی دیتے ہیں۔ ان مشاہدات نے جانوروں کے جذبات اور سماجی رویوں کے بارے میں انسانوں کی سوچ کو وسیع کیا۔جین کی تحقیق نے ہمیں یہ سوچنے پر مجبور کیا کہ انسان اور جانوروں کے درمیان فرق شاید اتنا سادہ نہیں جتنا ہم سمجھتے رہے ہیں۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ انسان اور چمپینزی ایک جیسے ہیں، بلکہ یہ کہ جانوروں میں بھی پیچیدہ جذبات، تعلقات اور سیکھنے کی صلاحیتیں موجود ہو سکتی ہیں۔ جین نے سائنس کو صرف اعداد و شمار کی دنیا تک محدود رکھنے کے بجائے جانوروں کی زندگی کو سمجھنے کے لیے صبر، مشاہدے اور ہمدردی کی اہمیت کو بھی اجاگر کیا۔
وقت کے ساتھ جین گڈال کا کام جنگل سے نکل کر پوری دنیا تک پہنچ گیا۔ انہوں نے 1977ء میں Jane Goodall Institute قائم کیا، جس کا مقصد جنگلی حیات کے تحفظ، تحقیق اور ماحول کے بارے میں شعور پیدا کرنا تھا۔ انہوں نے نوجوانوں کو بھی ماحولیاتی سرگرمیوں میں شامل کیا اور شوٹس اینڈ روٹس پروگرام کے ذریعے بچوں اور نوجوانوں کو اپنے مقامی ماحول، جانوروں اور کمیونٹی کے لیے مثبت اقدامات کرنے کی ترغیب دی۔
جین گڈال نے اپنی زندگی کا ایک بڑا حصہ اس پیغام کے لیے وقف کیا کہ قدرت کا تحفظ صرف سائنس دانوں یا حکومتوں کی ذمہ داری نہیں۔ عام انسان بھی اپنے روزمرہ کے فیصلوں کے ذریعے ماحول پر اثر ڈال سکتا ہے۔ درختوں کی حفاظت، جنگلی حیات کا احترام، غیر ضروری استعمال میں کمی، قدرتی وسائل کا محتاط استعمال اور دوسروں کو ماحول کے بارے میں آگاہ کرنا ایسے اقدامات ہیں جو مجموعی طور پر بڑی تبدیلی پیدا کر سکتے ہیں۔ان کی شخصیت کا ایک خوبصورت پہلو یہ بھی ہے کہ انہوں نے امید کو کبھی نہیں چھوڑا۔ دنیا بھر میں جنگلات کی کٹائی، جنگلی حیات کے خاتمے، موسمیاتی تبدیلی اور ماحولیاتی تباہی جیسے مسائل بڑھتے گئے، لیکن جین گڈال نے مایوسی کے بجائے عمل کا راستہ اختیار کیا۔ ان کا یقین تھا کہ اگر انسان اپنی غلطیوں کو تسلیم کرے اور چھوٹے چھوٹے مثبت قدم اٹھانا شروع کرے تو تبدیلی ممکن ہے۔
جین گڈال کی کہانی خاص طور پر بچوں اور نوجوانوں کے لیے ایک اہم سبق رکھتی ہے۔ انہوں نے ہمیں بتایا کہ کسی خواب کو حقیقت بنانے کے لیے ضروری نہیں کہ انسان کے پاس شروع ہی میں بہت زیادہ وسائل ہوں۔ کبھی ایک گہری دلچسپی، ایک سوال اور سیکھنے کی خواہش ہی سفر کا آغاز بن جاتی ہے۔ ایک نوجوان لڑکی جسے جانوروں سے محبت تھی، آگے چل کر دنیا کی معروف ماہرینِ حیوانات اور ماحولیاتی کارکنوں میں شمار ہونے لگی۔آج جین گڈال کی زندگی ہمیں یہ سوال کرنے پر مجبور کرتی ہے کہ ہم اپنے اردگرد موجود قدرت کے ساتھ کیسا سلوک کر رہے ہیں۔ درخت، پرندے، جنگلی جانور، دریا اور جنگلات صرف ہمارے استعمال کی چیزیں نہیں؛ یہ اسی زمین کے ساتھی ہیں جس پر ہماری زندگی قائم ہے۔ اگر ہم قدرت کو مسلسل کمزور کرتے جائیں گے تو بالآخر اس کا اثر ہماری اپنی زندگیوں پر بھی پڑے گا۔
جین گڈال نے چمپینزیوں کے درمیان رہ کر صرف جانوروں کو نہیں سمجھا، بلکہ انسان کو بھی اپنے بارے میں سوچنے کا ایک نیا موقع دیا۔ ان کی زندگی ہمیں یاد دلاتی ہے کہ علم اور ہمدردی ایک دوسرے کے مخالف نہیں بلکہ ایک دوسرے کو مکمل کرتے ہیں۔ شاید ان کی سب سے خوبصورت میراث یہی ہے کہ
انہوں نے دنیا کو بتایا کہ امید ابھی باقی ہے، بشرطیکہ ہم اپنی زمین سے محبت کرنا اور اس کی حفاظت کرنا سیکھ لیں۔ایک جنگل میں خاموشی سے بیٹھ کر جانوروں کا مشاہدہ کرنے والی وہ نوجوان لڑکی آج دنیا بھر میں فطرت کے تحفظ کی ایک مضبوط آواز بن چکی ہیں۔ جین گڈال کی زندگی کا سفر ہمیں یہ پیغام دیتا ہے کہ دنیا کو بدلنے کے لیے ہمیشہ بڑی طاقت کی ضرورت نہیں ہوتی، کبھی کبھی ایک سچا سوال، ایک کھلا دل اور قدرت کو سمجھنے کی خواہش ہی تبدیلی کا آغاز بن جاتی ہے۔
