الزبتھ کورایا(قربانی،صبر اور انسانیت کی علامت)
40 سالہ کیتھولک مسیحی الزبتھ کورایا ہیں، جو ڈھاکہ کے نیشنل انسٹیٹیوٹ آف کڈنی ڈیزیز اینڈ یورولوجی میں خدمات انجام دے رہی ہیں۔ وہ پوسٹ آپریٹو وارڈ میں سینئر اسٹاف نرس کے طور پر کام کرتی ہیں، جہاں وہ سرجری کے بعد مریضوں کی دیکھ بھال کرتی ہیں اور اُن کے اہلِ خانہ کو جذباتی سہارا بھی فراہم کرتی ہیں۔نرسنگ میں اُن کی دلچسپی بچپن ہی سے پیدا ہوئی، جب وہ بنگالی فلموں میں ہمدرد نرسوں کے کردار دیکھتی تھیں۔
انہوں نے کہاکہ بچپن میں ہر جمعہ کو میں بنگالی فلمیں دیکھا کرتی تھی۔ اکثر اداکارہ شبانہ نرس کا کردار ادا کرتی تھیں۔ اُن فلموں کو دیکھ کر میرے دل میں بھی نرس بن کر لوگوں کی خدمت کرنے کی خواہش پیدا ہوئی۔بعد ازاں اُن کی پھوپھو، سسٹر گائٹانینا کورایا، جوCatechist Sisters of the Immaculate Heart of Mary, Queen of Angelsسے تعلق رکھتی ہیں، نے نرسنگ کے شعبے میں آگے بڑھنے کے فیصلے میں اُن کی حوصلہ افزائی کی۔آج الزبتھ ملک کے مصروف ترین طبی اداروں میں سے ایک میں کام کر رہی ہیں۔ سرجری کے بعد مریضوں کو ابتدائی 24 گھنٹوں کے لیے پوسٹ آپریٹو وارڈ میں رکھا جاتا ہے تاکہ اُن کی نگرانی کی جا سکے۔انہوں نے بتایا کہ ہمارے اسپتال میں ہر روز کئی سرجریاں ہوتی ہیں۔ سرجری کے بعد مریضوں کو ہمارے وارڈ میں منتقل کیا جاتا ہے جہاں ہم اُن کی مسلسل نگرانی کرتے ہیں۔ میں اُن کی فائلیں چیک کرتی ہوں، ادویات دیتی ہوں اور ڈاکٹروں کی ہدایات کے مطابق دیکھ بھال کرتی ہوں۔الزبتھ کے لیے نرسنگ صرف ایک ملازمت نہیں بلکہ انسانیت کی خدمت ہے، جو ذات، مذہب اور نسل کی تفریق سے بالاتر ہے۔انہوں نے کہا کہ اس پیشے کے ذریعے ہر ذات، مذہب اور نسل کے لوگوں کی مکمل خدمت کی جا سکتی ہے۔ میں ہمیشہ لوگوں کی خدمت کرنا چاہتی تھی، اور آج میں وہی کام کر رہی ہوں جس کی خواہش تھی۔یہ پیشہ اُن کے لیے مالی استحکام اور سماجی عزت کا ذریعہ بھی بنا۔ وہ نہ صرف اپنے خاندان بلکہ والدین اور سسرالی رشتہ داروں کی بھی مالی مدد کرتی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اس پیشے کی وجہ سے میرے خاندان کی حالت بہتر ہوئی ہے۔ میں اپنے رشتہ داروں کی بھی مالی مدد کر سکتی ہوں۔ ساتھ ہی لوگ معاشرے میں مجھے ایک نرس کے طور پر عزت دیتے ہیں۔
تاہم یہ پیشہ مسلسل دباؤ اور خطرات سے بھرپور ہے۔ الزبتھ نے وباؤں اور ہنگامی حالات میں نرسوں کو درپیش خطرات کا ذکر کرتے ہوئے کہاکہ جب کوئی وبا پھیلتی ہے تو نرسیں اور ڈاکٹر سب سے پہلے میدان میں ہوتے ہیں۔ ہمیں ہر وقت خدمت کے لیے تیار رہنا پڑتا ہے۔ ہماری اپنی صحت بھی خطرے میں ہوتی ہے، لیکن اس کے باوجود ہم ہمت کے ساتھ اپنا کام جاری رکھتے ہیں۔انہوں نے اسپتالوں میں پیش آنے والے تلخ واقعات کا بھی ذکر کیا:جب کسی مریض کا انتقال ہو جاتا ہے تو بعض اوقات لواحقین ڈاکٹرز اور نرسوں پر غصہ نکالتے ہیں۔ اسپتالوں میں حملے اور توڑ پھوڑ کے واقعات بھی پیش آتے ہیں۔ یہ حقیقتیں بھی ہمیں جھیلنا پڑتی ہیں۔
دو بچوں کی ماں الزبتھ کہتی ہیں کہ اُن کا مسیحی ایمان اُن کی خدمت کا بنیادی حصہ ہے۔انہوں نے کہا کہ ایک مسیحی نرس کے طور پر میں مریضوں کی خدمت سکون اور صبر کے ساتھ کرنے کی کوشش کرتی ہوں۔ میں براہِ راست یسوع مسیح کی منادی نہیں کرتی، لیکن اپنے رویے اور کردار کے ذریعے اپنے ایمان کو ظاہر کرنے کی کوشش کرتی ہوں۔اُن کے مطابق مریض بھی اس فرق کو محسوس کرتے ہیں۔
کئی مریضوں اور اُن کے رشتہ داروں نے مجھ سے کہا کہ ایک مسیحی ہونے کے باعث میں اُن کے ساتھ زیادہ شفقت سے پیش آتی ہوں۔الزبتھ کے مطابق دْعا اُنہیں مشکل وقت میں طاقت دیتی ہے۔
انہوں نے کہاجب میں کسی مریض کو انتہائی نازک حالت میں دیکھتی ہوں تو خاموشی سے یسوع سے دْعا کرتی ہوں کہ وہ اُس شخص کو شفا دے اور اُس کی تکلیف کم کرے۔
بین الاقوامی نرسز ڈے کے موقع پر الزبتھ نے لوگوں پر زور دیا کہ وہ سرکاری اسپتالوں پر زیادہ اعتماد کریں کیونکہ وہاں کم خرچ میں معیاری علاج ممکن ہے۔انہوں نے کہاسرکاری اسپتالوں میں روزانہ بہت زیادہ مریض آتے ہیں۔ اس وجہ سے وہاں کے ڈاکٹرز اور نرسیں بہت تجربہ حاصل کر لیتے ہیں۔ لوگ کم خرچ میں بہتر علاج حاصل کر سکتے ہیں۔
بنگلہ دیش میں ہر ایک ہزار افراد کے لیے تقریباً صرف 0.66 نرسیں موجود ہیں، جو جنوبی ایشیا میں سب سے کم تناسب میں شمار ہوتا ہے۔ بہت سے سرکاری اسپتالوں میں ایک نرس کو ایک شفٹ میں 15 سے 30 مریضوں کی دیکھ بھال کرنا پڑتی ہے۔ اس بھاری دباؤ اور خطرات کے باوجود ملک بھر کی نرسیں گنجان وارڈز اور مشکل حالات میں اپنی خدمات جاری رکھے ہوئے ہیں۔
الزبتھ کی کہانی اس سال کے بین الاقوامی نرسز ڈے کے موضوع کی حقیقی عکاسی کرتی ہے: نرسیں صرف علاج میں معاونت نہیں کرتیں بلکہ دباؤ کا شکار صحت کے نظام میں بیماری، وقار اور اْمید کے درمیان انسانی رابطے کا کردار بھی ادا کرتی ہیں۔