سسٹر ایوا فیدیلہ کی خدمات کی داستان

ایک سرجن راہبہ اورسِسٹرز آف سینٹ پال ڈی شارترکی رکن، فلپائنی سسٹر ایوا فیدیلہ نے ایسے مقامات پر طب کی خدمات انجام دیں جہاں نہ آپریشن تھیٹر موجود تھے، نہ ڈرِپ اور اکثر نہ ہی دوسری بار موقع ملتا تھا۔
1970 کی دہائی میں، فلپائن کے جنوبی علاقے لیک سیبو کے ایک دور دراز گاؤں میں، انہوں نے ایک بار بانس کی میز پر سرجری کی اور مریض کو زندہ رکھنے کے لیے ناریل کے پانی کا استعمال کیا، کیونکہ قریب ترین ہسپتال کئی گھنٹوں کی مسافت پر تھا، جہاں پہنچنے کے لیے کئی دریا عبور کرنا پڑتے تھے۔
لیکن سسٹر ایوا کے لیے اصل چیلنج صرف بیماروں تک پہنچنا نہیں تھابلکہ یہ یقینی بنانا تھا کہ ان کے جانے کے بعد بھی علاج کا سلسلہ جاری رہے۔ اسی سوچ نے اْن کی خدمت کا رْخ متعین کیا۔ انہوں نے خود کو واحد ڈاکٹر کے طور پر پیش کرنے کے بجائے مقامی لوگوں کو تربیت دینا شروع کی، جنہیں انہوں نے”ننگے پاؤں ڈاکٹرز“کہا۔ایسے مرد و خواتین جو عام بیماریوں کے علاج اور بنیادی طبی سہولیات فراہم کرنے کے قابل ہوں۔
سسٹر ایوا کہتی تھیں:”ننگے پاؤں ڈاکٹرز میڈیکل ڈاکٹر نہیں ہوتے، لیکن انہیں عام بیماریوں کے علاج کی تربیت دی جاتی ہے۔“
لیک سیبو میں انہوں نے پہلے 17 افراد کو تربیت دی۔ یہ چھوٹی سی کوشش وقت کے ساتھ پھیلتی گئی۔ 2005 تک انہوں نے اس پروگرام کو منیلا تک وسعت دی اور بالآخر ملک بھر کی 110 مقامی برادریوں سے تعلق رکھنے والے 274”ننگے پاؤں ڈاکٹرز“اْن کے مشن کو آگے بڑھانے لگے۔ان کی خدمات فلپائن کی اُن برادریوں میں جاری رہیں جو جغرافیائی اور سماجی طور پر انتہائی الگ تھلگ تھیں، جن میں 1991 میں ماؤنٹ پیناٹوبو کے آتش فشاں کے پھٹنے کے بعد بے گھر ہونے والے ایٹا قبائل بھی شامل تھے۔ وہاں علاج کو نقل مکانی، غربت اور زندگی کی دوبارہ تعمیر کے طویل عمل سے الگ نہیں کیا جا سکتا تھا۔
سسٹر ایوا کا جواب صرف طبی نہیں بلکہ انسانی ہمدردی پر مبنی تھا۔ انہوں نے لوگوں کے ساتھ رہ کر اْن کی بحالی میں مدد کی، مقامی رہنماؤں کو تربیت دی اور جسمانی صحت کے ساتھ ساتھ انسانی وقار کو بھی بحال کرنے کی کوشش کی۔
وقت کے ساتھ ایک نئی آباد شدہ ایٹا برادری وجود میں آئی، جہاں آج تقریباً 146 خاندان، جن کی تعداد 500 سے زائد افراد پر مشتمل ہے، اپنی زندگیاں دوبارہ تعمیر کر رہے ہیں۔ نئی نسل کے کئی افراد بپتسمہ بھی لے چکے ہیں، جو نہ صرف حالات میں تبدیلی بلکہ اْن کے ساتھ جڑی خاموش اور مسلسل ایمانی موجودگی کی عکاسی کرتا ہے۔
بعد ازاں، اْن کی کاوشوں نے ایک منظم شکل اختیار کی جب انہوں نے 1984 میں فادر جیمز ریوٹر (ایس جے) کے ساتھ مل کر ”فاؤنڈیشن آف آور لیڈی آف پیس مشن“کی بنیاد رکھی، تاکہ کمیونٹی کی سطح پر صحت کے پروگراموں کو جاری رکھا جا سکے اور محروم علاقوں تک علاج کی سہولت پہنچائی جا سکے۔
1990 کی دہائی میں، سسٹر ایوا اور فادر جیمز امریکہ گئے تاکہ مخیر حضرات اور تنظیموں سے مدد حاصل کر سکیں۔ اس میں اْن کے بہن بھائیوں نے بھی تعاون کیا جو خود طبی شعبے سے وابستہ تھے۔ انہی کوششوں کے نتیجے میں 1992 میں ”آور لیڈی آف پیس ہسپتال“(پارانیاکے) قائم ہوا، جس نے جدید طبی سہولیات تک رسائی کو مزید مضبوط بنایا۔فاؤنڈیشن کا کام بتدریج طبی خدمات سے آگے بڑھ گیا۔ اس حقیقت کو سمجھتے ہوئے کہ صحت کو روزمرہ زندگی سے الگ نہیں کیا جا سکتا، اس نے روزگار، تعلیم، بچوں کی غذائیت اور بزرگوں کی دیکھ بھال جیسے شعبوں میں بھی پروگرام شروع کیے۔کمیونٹیز کو عملی مہارتوں کی تربیت دی گئی، جن میں سلائی، خوراک کی تیاری (فوڈ پروسیسنگ) سے لے کر نامیاتی کاشتکاری (آرگینک فارمنگ) تک شامل تھا اور انہیں چھوٹے پیمانے پر آمدنی کے ذرائع قائم کرنے کی ترغیب دی گئی۔ اس طرح ان کا تصورِ شفا کلینک کی حدود سے نکل کر اُن حالات تک پھیل گیا جو صحت مند زندگی کو ممکن بناتے ہیں۔فادر جیمز 96 سال کی عمر میں اُسی ہسپتال میں وفات پا گئے جس کے قیام میں انہوں نے حصہ لیا تھا۔ اگرچہ اْن کے اعلیٰ افسر انہیں واپس لے جانے آئے، مگر فادر جیمز نے وہیں رہنے کو ترجیح دی اور اپنی زندگی کے آخری ایام اسی جگہ گزارے جو اْن کے مشترکہ مشن کا حصہ بن چکی تھی۔ اس کے باوجود، سسٹر ایوا نے کبھی اُس ماڈل کو نہیں چھوڑا جو انہوں نے دور دراز علاقوں میں قائم کیا تھا۔ 
ہسپتال پیچیدہ مریضوں کے لیے معاونت فراہم کرتا تھا، مگر اْن کے کام کا اصل مرکز وہ کمیونٹیز ہی رہیں جہاں ان کی تربیت یافتہ افراد کے ہاتھوں شفا کا عمل پہلے ہی جاری تھا۔اپنے دفتر میں آخری ملاقاتوں کے دوران، سسٹر ایوا نے اس خواہش کا ذکر کیا کہ کوئی ایسا شخص مل جائے جو اس مشن کو آگے بڑھا سکے۔
ایک موقع پر انہوں نے آہستگی سے کہا:
”باکا موالا نا آکو“(شاید میں جلد ہی نہ رہوں)یہ اس بات کا احساس تھا کہ ان کے قائم کردہ مشن کو اب دوسروں کے سپرد کرنا ہوگا۔جب میں نے برسوں پہلے ان سے بات کی، تو انہوں نے اپنے کام کو نہایت سادہ اور عاجزانہ انداز میں بیان کیا۔ حالانکہ انہیں 1997 میں رامون میگسیسے ایوارڈ (جسے اکثر ایشیا کا نوبل انعام کہا جاتا ہے) سمیت کئی اعزازات ملے، اور 1992 میں فلپائن کا ”مدر ٹریضہ ایوارڈ“بھی دیا گیا، مگر انہوں نے کبھی اپنی پہچان کو اْن اعزازات تک محدود نہیں کیا۔جو بات میرے دل میں رہ گئی، وہ اْن کے وژن کی وضاحت تھی: کہ علاج تک رسائی فاصلے پر منحصر نہیں ہونی چاہیے، اور پائیدار شفا وہ ہے جسے خود کمیونٹیز اپنا سکیں۔آج جب ہم سسٹر ایوا کو یاد کرتے ہیں، تو انہیں صرف ایک سرجن، مشنری یا انعام یافتہ شخصیت کہنا کافی نہیں۔ اْن کی میراث القابات میں محدود نہیں ہوتی، بلکہ اْن کے کام کے تسلسل میں زندہ ہے۔ان دیہات میں جہاں تربیت یافتہ ہاتھ آج بھی بیماروں کی دیکھ بھال کر رہے ہیں، ان کمیونٹیز میں جہاں علم نے بے بسی کی جگہ لے لی ہے، اور ان زندگیوں میں جو صرف ان کی موجودگی سے نہیں بلکہ اْن کے سکھائے ہوئے علم سے بچائی گئیں۔جب 85 سال کی عمر میں اْن کے انتقال کی خبر اُن لوگوں تک پہنچتی ہے جن کی انہوں نے خدمت کی، تو باقی رہ جانے والی چیز صرف اْن کی یاد نہیں بلکہ وہ زندگیاں اور کمیونٹیز ہیں جو آج بھی ان کے مشن کو جاری رکھے ہوئے ہیں۔

Daily Program

Livesteam thumbnail