ڈیجیٹل شاہراہیں منتظر ہیں۔بشپ مارسیلینو انتونیو جونی مرالیت جونیئر

شپ مارسیلینو انتونیو جونی مرالیت جونیئر
شپ مارسیلینو انتونیو جونی مرالیت جونیئر

فلپائن کے شہر کوئزون سٹی میں 11 ستمبر 2026 کو منعقدہ پہلی ایشیائی کیتھولک ڈیجیٹل مشنری اسمبلی میں خطاب کرتے ہوئے بشپ مارسیلینو انتونیو جونی مرالیت جونیئر نے ایشیائی ڈیجیٹل مشنریوں کو دعوت دی کہ ڈیجیٹل شاہراہیں آپ کی منتظر ہیں۔فلپائن میں پہلی ایشیائی کیتھولک ڈیجیٹل مشنری اسمبلی کے لیے جمع ہونے والے 100 سے زائد کیتھولک ڈیجیٹل مشنریوں سے خطاب کرتے ہوئے ایف اے بی سی کے دفتر برائے سماجی ابلاغ کے چیئرمین بشپ مارسیلینو انتونیو جونی مرالیت جونیئر نے کہا کہ ڈیجیٹل شاہراہیں منتظر ہیں۔
یہ چار روزہ اسمبلی 10 تا 13 ستمبر تک انفلوئنسرز سے گواہوں تک: ایشیا میں ڈیجیٹل مشن کے لیے سنڈی راستہ کے موضوع کے تحت جاری ہے۔ اسمبلی کا اہتمام آر وی اے نے ایف اے بی سی کے دفتر برائے سماجی ابلاغ کے اشتراک سے کیا ہے، جس میں ایشیا بھر سے ڈیجیٹل مشنری، ابلاغی کارکنان اور انفلوئنسرز شریک ہیں۔
بشپ جونی نے اپنے خطاب کا آغاز کلیسیا کو درپیش ایک اہم حقیقت کی طرف توجہ دلاتے ہوئے کیا کہ لوگ پہلے ہی ڈیجیٹل دنیا میں زندگی گزار رہے ہیں، تلاش کر رہے ہیں، تعلقات قائم کر رہے ہیں اور زندگی کے معنی تلاش کر رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ بحث ختم ہو چکی ہے۔ کلیسیا پہلے ہی وہاں موجود ہے۔انہوں نے واضح کیا کہ اب سوال یہ نہیں رہا کہ کلیسیا کو ڈیجیٹل دنیا میں داخل ہونا چاہیے یا نہیں، بلکہ اصل سوال یہ ہے کہ جب لوگ ڈیجیٹل دنیا میں کلیسیا سے ملیں گے تو انہیں کس نوعیت کی کلیسیا نظر آئے گی۔انہوں نے شرکاء پر زور دیا کہ وہ ایسے طریقہ کار سے آگے بڑھیں جو صرف مواد تیار کرنے اور کامیابی کو ویوز، لائکس اور فالوورز کی تعداد سے جانچنے تک محدود ہو۔ان کے مطابق ڈیجیٹل مشن کو سماعت، ملاقات، تمیز اور برادری کی تعمیر پر مبنی ایک اجتماعی اور مشارکتی سفر بننا چاہیے۔
بشپ جونی کے نزدیک ڈیجیٹل مواد کا مقصد صرف مشنری کی شخصیت کو نمایاں کرنا یا ذاتی تشخص قائم کرنا نہیں ہونا چاہیے۔ اس کی بجائے اسے مسیح کی طرف جانے والا دروازہ کھولنا چاہیے اور لوگوں کو سچی مسیحی گواہی کے ذریعے انجیل سے ملاقات کا موقع فراہم کرنا چاہیے۔انہوں نے شرکاء کی حوصلہ افزائی کی کہ وہ دروازہ کھولیں تاکہ ڈیجیٹل پلیٹ فارمز پر ان کی موجودگی ایمان کے بیج بونے کا ذریعہ بنے اور لوگوں کو مسیح کے ساتھ مزید گہری ملاقات کی طرف لے جائے۔یہ چیلنج خاص طور پر ایشیا میں اہمیت رکھتا ہے، جہاں ڈیجیٹل برادریاں مختلف ثقافتوں، زبانوں، مذاہب اور سماجی حقائق کی وسیع عکاسی کرتی ہیں۔ بشپ مرالیت نے ایشیا کو ایک زندہ سمفنی قرار دیا، جہاں ڈیجیٹل مشن کو ثقافتوں، مذاہب اور غریبوں کے ساتھ مکالمے میں اپنی جڑیں مضبوط رکھنی چاہییں۔انہوں نے ڈیجیٹل دنیا کی توجہ حاصل کرنے والی معیشت کے منطق کا انجیل کے منطق سے تقابل بھی کیا۔
اعداوشمار عموماً تیزی، جدت، تنازع اور ایسے مواد کو ترجیح دیتے ہیں جو لوگوں کو زیادہ دیر تک آن لائن رکھے۔ اس کے برعکس انجیل صبر، قربت، ہمدردی اور ایسے تعلقات کی دعوت دیتی ہے جو انسان کی زندگی میں تبدیلی کا باعث بنتے ہیں۔اس کا مطلب یہ ہے کہ ڈیجیٹل مشنریوں کو انٹرنیٹ کے شور کا حصہ بننے سے گریز کرنا ہوگا اور اس کے بجائے ایسے مقامات اور ماحول پیدا کرنا ہوگا جہاں لوگ ایک دوسرے سے ملاقات کر سکیں اور خدا کی حضوری کو دریافت کر سکیں۔انہوں نے ڈیجیٹل مشنریوں کے لیے پانچ تبدیلیوں کی نشاندہی کی یعنی مواد سے ملاقات کی طرف، سامعین سے برادری کی طرف، مقبولیت سے وفاداری کی طرف، مسابقت سے تعاون کی طرف، اور اثر و رسوخ سے گواہی کی طرف۔
انہوں نے کہا کہ انفلوائنسر سے گواہی کی طرف منتقلی کا مطلب یہ ہے کہ اعتبار صرف اعلیٰ معیار کی تیاری یا بڑی تعداد میں سامعین سے حاصل نہیں ہونا چاہیے بلکہ مسیح کے ساتھ وفاداری اور مسیحی زندگی کی صداقت سے پیدا ہونا چاہیے۔انہوں نے کہا کہ سوشل میڈیا ایک اشتہا انگیز چیز ہے، جبکہ منزل یوخرست ہے۔اس بات پر زور دیتے ہوئے انہوں نے واضح کیا کہ ڈیجیٹل بشارت کا مقصد بالآخر لوگوں کو آن لائن سرگرمی سے آگے بڑھا کر حقیقی مسیحی برادری اور کلیسیائی و ساکرامنٹل زندگی تک پہنچانا ہونا چاہیے۔اپنے خطاب کے اختتام پر بشپ جونی نے شرکاء کو ایک واضح مشن سونپا: ڈیجیٹل شاہراہیں منتظر ہیں۔انہوں نے کہا کہ دل کی دانائی کے ساتھ آگے بڑھیں، انسانی عظمت کے لیے آواز بلند کریں اور ایشیا میں ایمان کی خوبصورت کہانیاں بیان کریں۔انہوں نے مزید کہا کہ مقصد یہ ہے کہ ایشیا کی ڈیجیٹل دنیا میں موجود لوگ صرف ایک اور انفلوئنسر سے ملاقات نہ کریں بلکہ ایک حقیقی برادری اور بالآخر یسوع مسیح کے زندہ چہرے سے ملاقات کریں۔
 

Daily Program

Livesteam thumbnail
Urdu Survey Popup