ڈیجیٹل دنیا کلیسیا کے لیے مشن کا نیا میدان ہے۔ آرچ بشپ ریکس اینڈریو الارکون

 آرچ بشپ ریکس اینڈریو الارکون
آرچ بشپ ریکس اینڈریو الارکون

مورخہ 12 ستمبر 2026 کوفلپائن کے آرچ بشپ ریکس اینڈریو الارکون نے کوئزون سٹی کے پوپ جان پال دوم آڈیٹوریم میں شرکا سے کہا کہ ڈیجیٹل دنیا کلیسیا کے لیے مشن کا ایک نیا میدان بن چکی ہے، جہاں مسیحیوں کو تیزی سے بدلتے ہوئے ماحول میں بصیرت، تنقیدی سوچ اور مضبوط اجتماعی احساس کے ساتھ انجیل کا پیغام پہنچانے کی ضرورت ہے۔
10 تا 13 ستمبر تک جاری رہنے والی اس اسمبلی میں ایشیا بھر سے کیتھولک ڈیجیٹل مشنری، ابلاغ کار اور مواد تخلیق کرنے والے افراد شریک ہیں، جو بڑھتی ہوئی ڈیجیٹل ثقافت کے تناظر میں کلیسیا کے مشن پر غور کر رہے ہیں۔آرچ بشپ الارکون، جو کیتھولک بشپس کانفرنس آف دی فلپائنز کی ایپسکوپل کمیشن برائے سماجی ابلاغ کے چیئرمین ہیں، نے خلل کو کسی قائم شدہ طریقہ کار میں ایک اہم رکاوٹ یا تبدیلی قرار دیا۔انہوں نے کہا کہ تاریخ کے دوران بڑی پیش رفت نے قائم شدہ طریقوں میں تبدیلی پیدا کی ہے۔ انہوں نے سولہویں صدی کے بحری سفر، مختلف ثقافتوں اور زبانوں کے درمیان روابط اور دنیا کے بارے میں نئے تصورات کے ظہور کی مثالیں دیں۔آرچ بشپ الارکون نے کہا کہ یہ ایک بڑی تبدیلی تھی، جس نے عالمی سطح پر حالات بدل دیے۔نیز آج مشن کا نیا میدان سمندر یا فضا نہیں بلکہ ڈیجیٹل دنیا ہے۔انہوں نے کہا کہ مشن کا نیا میدان نہ سمندر ہے، نہ فضا، بلکہ ڈیجیٹل دنیا ہے۔ یہ کوئی متوازی دنیا نہیں بلکہ وہی دنیا ہے جس میں ہم زندگی گزارتے ہیں۔ ہم پہلے ہی اس میں موجود ہیں۔کلیسیا کے لیے اس کا مطلب یہ ہے کہ ڈیجیٹل دنیا کو انسانی زندگی سے الگ کوئی چیز نہیں سمجھا جا سکتا۔ یہ وہ مقامات بن چکے ہیں جہاں لوگ اپنی رائے قائم کرتے، تعلقات بناتے، معلومات حاصل کرتے اور زندگی کے معنی تلاش کرتے ہیں۔
آرچ بشپ الارکون نے خبردار کیا کہ تکنیکی تبدیلی اپنے ساتھ نئے اخلاقی، فلسفیانہ، علمی اور طبی سوالات بھی لے کر آ رہی ہے، خصوصاً مصنوعی ذہانت کی تیز رفتار ترقی کے باعث۔انہوں نے کہا کہ چیلنج یہ نہیں کہ انسانی فیصلہ سازی ٹیکنالوجی کے حوالے کر دی جائے۔آرچ بشپ الارکون نے کہا کہ اب ہم اپنی ذہانت کا کام بھی دوسروں کے سپرد کر رہے ہیں۔ انہوں نے ڈیجیٹل مشنریوں پر زور دیا کہ وہ اپنی سوچ کو مشینوں کے حوالے نہ کریں۔انہوں نے تنقیدی فکرکا تصور بھی پیش کیا، جس سے مراد جذبات کو پہچاننے اور ان کا جائزہ لینے کی صلاحیت ہے، جبکہ غوروفکر اور بصیرت کو اپنے ردِعمل کی رہنمائی کرنے دی جائے۔انہوں نے کہا کہ سوشل میڈیا بہت تیزی سے غصہ، خوف، اشتعال، تحسین، حسد یا تفریح جیسے جذبات پیدا کر سکتا ہے۔ اس لیے مسیحی ڈیجیٹل گواہوں کو یہ سوال ضرور اٹھانا چاہیے کہ آیا ان کا مواد صرف جذباتی ردِعمل پیدا کرتا ہے یا لوگوں کو سچائی، ہمدردی اور مکالمے کی طرف بھی لے جاتا ہے۔
آرچ بشپ الارکون کے مطابق ڈیجیٹل تبدیلی کے مقابل مسیحی ردِعمل کی بنیاد بالآخر گواہی پر ہونی چاہیے۔آرچ بشپ الارکون نے کہا کہ یہی جذبہ آج کیتھولک ڈیجیٹل مشنریوں کی رہنمائی کرنا چاہیے۔تاہم، ڈیجیٹل مشن صرف اثر و رسوخ حاصل کرنے کا نام نہیں بلکہ برادریوں کی تشکیل بھی اس کا اہم حصہ ہے۔آرچ بشپ الارکون نے کہا کہ ہمارے لیے دعوت یہ ہے کہ ہم صرف دوسروں پر اثرانداز نہ ہوں بلکہ برادریاں بھی تشکیل دیں۔ ہمیں کلیسیا بننے کے لیے بلایا گیا ہے۔
انہوں نے مشنریوں اور ڈیجیٹل ابلاغ کاروں پر زور دیا کہ وہ یاد رکھیں کہ ان کا مشن مسیح کے نام پر اور کلیسیا کے نام پر انجام پاتا ہے، نہ کہ کسی ذاتی منصوبے کے طور پر۔انہوں نے کہا کہ بالآخر مقصد یہ ہے کہ ان کی موجودگی اور کام کے ذریعے مسیح زیادہ نمایاں ہو۔انہوں نے کہا کہ اْمید یسوع ہی عطا کرتا ہے۔ ہمیں نجات یسوع کی محبت سے ملتی ہے، نہ ہمارے الفاظ سے، نہ ہمارے مواد سے، بلکہ صرف یسوع کی محبت سے۔ایشیا بھر کے کیتھولک ڈیجیٹل مشنریوں کے لیے چیلنج صرف ڈیجیٹل دنیا میں اپنی جگہ بنانا نہیں بلکہ اسے مشن کے ایک ایسے میدان کے طور پر پہچاننا ہے جہاں کلیسیا کو مسیح کی گواہی دینے، سچائی کو فروغ دینے، برادری قائم کرنے اور تیزی سے بدلتی ہوئی دنیا میں لوگوں کے ساتھ چلنے کے لیے بلایا گیا ہے۔

Daily Program

Livesteam thumbnail
Urdu Survey Popup