پاپائے اعظم لیو چہاردہم کا روم کے کولوزم میں صلیبی راستے کے دوران صلیب اٹھانا
مورخہ 3اپریل 2026کو روم کے کولوزم میں پاک جمعہ کے موقع پرپاپائے اعظم لیو چہاردہم نے صلیب اٹھا کرمومنین کی قیادت کی۔ویٹیکن کے نمائندے ڈیون واٹکنز کے مطابق، پوپ لیو وہ دوسرے پوپ بن گئے جنہوں نے پاک جمعہ کو روم کے کولوزم میں تمام صلیبی راستے کے دوران صلیب اٹھائی۔
تقریباً 30,000 مؤمنین اور دنیا بھر میں سوشل میڈیا، ٹیلی ویژن اور ریڈیو کے ذریعے جڑے بے شمار افراد کے ساتھ، پوپ لیونے موم بتیوں کی روشنی میں اِس قدیم رومی عمارت تک صلیب کا راستہ طے کیا، جہاں ابتدائی مسیحیوں کی شہادتیں ہوئیں۔اس عظیم تھیٹر کی تعمیر شہنشاہ ویسپاسین نے شروع کی اور 80 عیسوی میں شہنشاہ ٹائٹس نے مکمل کی، جسے بعد میں ایک کیتھولک کلیسیا کے طور پر مقدس قرار دیا گیا۔ہر سال، پوپ اور روم کے مؤمنین کولوزم میں جمع ہو کر صلیب کے چودہ مقامات کی روحانی زیارت کرتے ہیں، جو یسوع مسیح کی موت اور تدفین کی یاد دلاتے ہیں۔
پوپ لیو نے مقدس پوپ جان پال دوم کے نقشِ قدم پر چلتے ہوئے یہ عمل کیا، جنہوں نے 1980 سے 1994 تک مکمل صلیبی راستے کے دوران صلیب اٹھائی۔جب پوپ لیو صلیب اٹھائے ہوئے تھے، تو انجیلِ مقدس میں سے اقتباسات،مقدس فرانسس آف اسیسی کی تحریریں اور فرانسسکن فادر فرانسسکو پیٹن کے لکھے ہوئے دھیان وگیان سے اقتباسات سنائے گئے، جوہولی لینڈکے سابق کسٹس رہے ہیں۔
ریورنڈ فادر پیٹن نے اپنے دھیان وگیان میں مقدس فرانسس آف اسیسی کی مثال پیش کرتے ہوئے بتایا کہ کس طرح مسیحی ایمان، اْمید اور محبت جیسی الٰہی خوبیوں کو عملی زندگی میں ظاہر کر سکتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ یہ الٰہی خوبیاں ہمیں یسوع کے اصل راستے پر لے جاتی ہیں، جو یروشلم کی تنگ گلیوں سے گزرتا ہوا جْلجتا تک پہنچتا ہے، جہاں اْس کی مصلوبیت اور تدفین ہوئی۔
انہوں نے کہا کہ یسوع کے دورکی طرح، ہم خود کو ایک ہنگامہ خیز، منتشر اور شور سے بھرپور ماحول میں پاتے ہیں، جہاں کچھ لوگ ہمارے ایمان میں شریک ہیں، جبکہ کچھ اس کا مذاق اڑاتے یا اسے رد کرتے ہیں۔فادر پیٹن کہتے ہیں کہ صلیب کا راستہ اُن لوگوں کے لیے نہیں جو محض ظاہری دینداری یا الگ تھلگ روحانیت میں جیتے ہیں، بلکہ یہ اُن کے لیے ہے جو جانتے ہیں کہ ایمان، اْمید اور محبت کو حقیقی دنیا میں جینا ضروری ہے۔
صلیبی راستے کے ہر مقام پر، فادر پیٹن نے انسانی طاقت کے غرور اور اس کے غلط استعمال کے رجحان پر افسوس اور تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ہم دیکھتے ہیں کہ ہم صلیب سے کس قدر دوری رکھتے ہیں اور یسوع کے جلال کی بجائے اپنی عظمت کی خواہش کرتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ جب یسوع تین بار گرتے ہیں، تو وہ ہمیں یاد دلاتے ہیں کہ ہمیں مسیح پر بھروسہ کرنا چاہیے وہی ہمیں محبت کی کمزوری کے ذریعے باپ کے حضور بلند کرتا ہے۔وہ اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ آمرانہ نظام، بے حس میڈیا، اور ہمارا غیر مناسب تجسس دوسروں کو بے عزت کرتے ہیں اور یوں ہماری انسانی عظمت کو بھی مجروح کرتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ جب مقدسہ مریم جب اپنے بیٹے کی موت دیکھتی ہیں تو یہ اس بات کو ظاہر کرتا ہے کہ عورتیں ہمیشہ دکھ اٹھانے والوں کے ساتھ کھڑی رہتی ہیں، اور ہمارے آنسو ہمیں انسان رہنا سکھاتے ہیں۔تاہم، وہ کہتے ہیں کہ اپنی موت میں، یسوع باپ کے پاس لوٹ جاتا ہے اور ہمیں بھی اپنے ساتھ لے جاتاہے، ہمیں یہ مشن دیتے ہوئے کہ ہم اُن کی صلیبی موت پر ابدی فتح کی خوشخبری سنائیں۔
صلیبی راستے کے اختتام پر، پوپ لیو نے دعا کی کہ مسیحی، مقدس فرانسس کی دعوت کا جواب دیں اوراپنی زندگیوں کو محبت کی رفاقت میں مسلسل گہرائی کی طرف ایک سفر کے طور پر گزاریں۔