مقدس فرانسس آف اسیسی کی 800سو سالہ جوبلی، عاجزی، محبت اور خدمت کا پیغام اْجاگر
مورخہ 4 0اکتوبر 2026کو مریم صدیقہ کیپوچن جنرل کسٹڈی، گلبرگ لاہور میں کیپوچن فرانسسکن برادری نے مقدس فرانسس آف اسیسی کے انتقال کی 800 سالہ جوبلی عقیدت، شکرگزاری اور روحانی جوش و جذبے کے ساتھ منائی۔ اس موقع پرپاک ماس کی اقدس قربانی خدا کی نذر گزرانی گئی۔
اپنے وعظ کے دوران برادر ولیم چانگ نے مقدس فرانسس آف اسیسی اور مقدس دومینک کی زندگی اور کلیسیا کی تجدید کے لیے ان کے مشترکہ عزم پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے کہا کہ دونوں مقدس شخصیات نے اپنی پوری زندگی کیتھولک کلیسیا کی تجدید اور انجیل کی حقیقی روح کو زندہ کرنے کے لیے وقف کی۔انہوں نے مقدس فرانسس کی زندگی کے اہم موڑ کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ پیروجا اور اسیسی کے درمیان جنگ میں حصہ لینے کے بعد مقدس فرانسس کی ملاقات ایک کوڑھی سے ہوئی۔ یہ ملاقات ان کی زندگی میں تبدیلی کا نقطہ آغاز ثابت ہوئی۔ کوڑھی کو قبول کرنے اور اس کے قریب جانے کے ذریعے ان کے دل میں ایک نئی تبدیلی پیدا ہوئی اور خدا کا فضل ایک دریا کی طرح ان کی زندگی میں بہنے لگا۔ ان کا دل تبدیل ہوا، زندگی کا رخ بدلا اور ان کے سامنے تجدید کا ایک نیا راستہ کھل گیا۔برادر ولیم نے کہا کہ مقدس فرانسس نے دنیاوی طاقت اور شان و شوکت کی بجائے سادہ اور عاجز چیزوں کو اختیار کیا۔ وہ اپنے اردگرد کی دنیا کی ضروریات کے لیے حساس رہے اور خاص طور پر غریبوں اور ضرورت مندوں کی دیکھ بھال کو اپنی زندگی کا حصہ بنایا۔ ان کے لیے خدا کا کلام بنیاد تھا اور انہوں نے اپنی زندگی یسوع مسیح کی زندگی کے مطابق ڈھالی۔
انجیل مقدس کے پیغام کی وضاحت کرتے ہوئے برادر ولیم نے کہا کہ یسوع مسیح آج بھی ہر شخص کو اپنی طرف بلاتا ہے۔ انہوں نے یسوع کے ”جُوے“ کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ جُوا جانوروں کو ایک ساتھ کام کرنے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے، اسی طرح یسوع ہمیں دعوت دیتے ہیں کہ ہم زندگی اور خدمت کا سفر اکیلے نہ کریں بلکہ مسیح کے ساتھ مل کر آگے بڑھیں۔انہوں نے کہا کہ مقدس فرانسس نے جسمانی تکلیف، دکھ اور مصیبتوں کو بھی مسیح کے ساتھ اپنے تعلق اور اْس کے دکھ سہنے،صلیبی موت،تدفین اور قیامت کے تناظر میں قبول کیا۔ آج کی دنیا کو ایسے لوگوں کی ضرورت ہے جو غریبوں، بھٹکے ہوؤں اور حاشیے پر موجود افراد کے لیے کام کریں۔ انہوں نے زور دیا کہ مسیح سے متاثرہ مستند طرزِ زندگی ہی ہماری حقیقی شناخت کی بنیاد ہے، جبکہ فرانسسکن شناخت بھی مقدس فرانسس کی حقیقی طرزِ زندگی سے جڑی ہوئی ہے۔
برادر ولیم نے فرانسسکن زندگی کے مختلف پہلوؤں کا ذکر کرتے ہوئے خوشی بھری توبہ اور سب کی خدمت کو اس روحانی سفر کا حصہ قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ فرانسسکن شناخت کسی بیرونی علامت تک محدود نہیں بلکہ اس کی اصل انسان کے دل میں ہے۔ ہمیں اپنے دلوں کو دوبارہ زندہ کرنے، اپنی روحانی تجدید کو دریافت کرنے اور اسے عملی زندگی میں نافذ کرنے کی ضرورت ہے۔انہوں نے فرانسسکن زندگی میں نئی نسل کی شمولیت کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ہمیں نئے بھائیوں اور بہنوں کو اس راہ پر چلنے کی ترغیب دینی چاہیے۔ یہ ہم سب کی ذمہ داری ہے کہ ہم دوسروں کو یسوع مسیح کی پیروی کرنے اور مقدس فرانسس آف اسیسی کے نقشِ قدم پر سادہ اور بامقصد زندگی گزارنے کی تحریک دیں۔ ہماری برادریوں کی زندگی اور سرگرمیاں بھی اسی مستند فرانسسکن شناخت کا آئینہ دار ہونی چاہئیں۔ اپنی گفتگو کے اختتام پر برادر ولیم چانگ نے منسٹر جنرل کی جانب سے سب کو عید کی مبارک باد پیش کی اور کہا: ”Pace e Bene“ یعنی امن اور بھلائی۔
فضیلت مآب آرچ بشپ خالد رحمت نے اپنے خطاب میں کہا کہ عالمگیر کلیسیا مقدس فرانسس آف اسیسی کی 800سالہ جوبلی منا رہی ہے اور یہ موقع ہمیں ان کی زندگی اور روحانیت پر دوبارہ غور کرنے کی دعوت دیتا ہے۔فضیلت مآب آرچ بشپ خالد رحمت نے مقدس فرانسس آف اسیسی کی زندگی پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ ان کا انتخاب منفرد اور غیر معمولی تھا۔ مقدس فرانسس نے شعوری طور پر درد، غربت اور کوڑھیوں کے ساتھ ملاقات کا چناو کیا۔جہاں عام انسان درد، غربت اور تکلیف سے دور رہنے کی کوشش کرتا ہے، انہوں نے کہا کہ مقدس فرانسس نے ان لوگوں میں بھی مسیح کا چہرہ دیکھا جن سے معاشرہ عموماً دور رہتا ہے، اور یہی ان کی روحانیت کا خوبصورت اور آج کے دور کے لیے اہم پیغام ہے۔بشپ جی نے مزیدکہا کہ مقدس فرانسس کی زندگی مسیح کے دکھوں،صلیبی موت اور قیامت سے گہرا تعلق رکھتی ہے۔ یہاں تک کہ انہوں نے موت کو بھی اپنی ”بہن“ کہہ کر گلے لگایا۔فضیلت مآب آرچ بشپ خالد رحمت نے مومنین کو اپنے ذاتی اور اجتماعی انتخاب پر غور کرنے کی دعوت دیتے ہوئے سوال اٹھایا کہ آج ہم کس چیز کا انتخاب کر رہے ہیں؟ کیا ہم طاقت، مرتبہ اور وقار کے حصول کے لیے کوشاں ہیں یا مقدس فرانسس کی طرح عاجزی، سادگی، خدمت اور محبت کا راستہ اختیار کر رہے ہیں؟ انہوں نے کہا کہ ہمیں اپنی روحانی جڑوں کی طرف واپس جانے کی ضرورت ہے۔انہوں نے کہا کہ مقدس فرانسس کا پیغام ہمیں ایک دوسرے سے محبت کرنے اور مادرِ ارض سے محبت کرنے کی دعوت دیتا ہے۔ ہمیں ایک دوسرے کے ساتھ اپنے تعلقات کو مضبوط اور تجدید کرنے کے ساتھ ساتھ خدا کی تمام مخلوق کے ساتھ اپنے تعلق کو بھی بہتر بنانے کی ضرورت ہے۔ آرچ بشپ خالد رحمت نے دعا کی کہ یہ جوبلی جشن تمام افراد کو مقدس فرانسس کے مزید قریب لائے، تاکہ وہ ایک دوسرے سے،خدا کی تخلیق سے محبت کریں اور اس کی حفاظت کریں۔
تقریب میں برادر میرک نے مقدس فرانسس کے ایک معروف جذبے کی طرف توجہ دلائی۔ انہوں نے کہا کہ مقدس فرانسس اپنی زندگی کے اختتام پر بھی اس احساس کے ساتھ تھے کہ ابھی بہت کچھ کرنا باقی ہے۔ ان کے الفاظ میں: ”بھائیو! اب تک ہم نے کچھ نہیں کیا، آئیے پھر سے آغاز کریں۔“ برادر میرک نے کہا کہ یہ الفاظ آج بھی ہمارے لیے ایک چیلنج ہیں اور ہمیں مقدس فرانسس نے جو کچھ جیا اور کیا، اسے اپنی زندگی میں اپنانے اور آگے منتقل کرنے کی ضرورت ہے۔برادر میرک نے کیپوچن روحانیت کو ”Contemplation in Action“ یعنی غوروفکر اور عملی خدمت کا امتزاج قرار دیا۔ انہوں نے انجیل میں مریم اور مارتھاکی مثال دیتے ہوئے کہا کہ دونوں نے اپنے گھر میں یسوع کا استقبال کیا۔ اسی طرح ہمیں بھی گہری روحانی زندگی اور غریبوں و حاشیہ پر موجود افراد کی فعال خدمت کے ذریعے ایک گہری مسیحی گواہی دینے کے لیے بلایا گیا ہے۔
800ویں جوبلی کے موقع پر کیپوچن سکول کے طلبہ نے رنگا رنگ اور خوبصورت ٹیبلوزپیش کیں، جن کے ذریعے مقدس فرانسس کی زندگی، ان کے پیغام اور فرانسسکن روحانیت کو اجاگر کیا گیا۔ FMM سسٹرز کے طلبہ نے امن کے لیے ایک خصوصی دعائیہ گیت پیش کیا۔ طلبہ کے ہاتھوں میں روشن چراغ اْمید کی علامت تھے، جن کے ذریعے امن، اْمید اور دنیا میں روشنی پھیلانے کا پیغام دیا گیا۔تقریب کے دوران 800 سالہ جوبلی کی مناسبت سے خصوصی یادگاری شیلڈز بھی ممتاز مہمانوں کو پیش کی گئیں۔
