بزرگ شہری

 بزرگ شہری
بزرگ شہری

گھر کے کسی کونے میں خاموشی سے بیٹھا ایک بزرگ، ہاتھ میں اخبارلیے یا کھڑکی سے باہر دیکھتے ہوئے، بظاہر شاید کچھ نہیں کر رہا ہوتا۔ لیکن اگر ہم ذرا ٹھہر کر اس چہرے کو دیکھیں تو وہاں پوری ایک زندگی لکھی ہوتی ہے۔ پیشانی کی ہر جھری کسی گزرے ہوئے موسم کی کہانی سناتی ہے، آنکھوں کی خاموشی میں برسوں کی محبت، جدوجہد اور قربانیاں چھپی ہوتی ہیں، اور کانپتے ہاتھ کبھی انہی ہاتھوں کی طاقت کی یاد دلاتے ہیں جنہوں نے اپنے بچوں کو سہارا دیا تھا۔عمر کا بڑھ جانا انسان کی اہمیت کو کم نہیں کرتا۔ جسم کمزور ہو سکتا ہے، قدم آہستہ ہو سکتے ہیں اور یادداشت پہلے جیسی نہ رہے، لیکن ایک بزرگ انسان کی زندگی کا تجربہ اور اس کی محبت کسی کتاب میں مکمل طور پر محفوظ نہیں کی جا سکتی۔
آج کی تیز رفتار دنیا میں نوجوان اپنی تعلیم، ملازمت، موبائل فون اور سوشل میڈیا کی مصروفیات میں گھِرے رہتے ہیں۔ بچے اسکول، کھیل اور اپنی دلچسپیوں میں مصروف ہوتے ہیں۔ ایسے میں گھر کے بزرگ کبھی کبھی خود کو تنہا محسوس کرنے لگتے ہیں۔ شاید انہیں سب سے زیادہ ضرورت کسی مہنگے تحفے کی نہیں بلکہ چند لمحوں کی توجہ کی ہوتی ہے۔ ان کے پاس بیٹھ کر بات کرنا، ان کی پرانی یادیں سننا، ان سے سوال پوچھنا اور ان کی بات کو اہمیت دینا بھی محبت کی ایک خوبصورت شکل ہے۔
ہم اکثر بزرگوں سے کہتے ہیں کہ وہ ہمیں کچھ سکھائیں، لیکن شاید ہم یہ بھول جاتے ہیں کہ انہوں نے زندگی بھر ہمیں سکھایا ہے۔ انہوں نے مشکل وقت میں صبر کرنا سیکھا، محدود وسائل میں گھر چلایا، بچوں کی ضروریات کو اپنی خواہشوں پر ترجیح دی اور کئی مرتبہ اپنی خوشیاں قربان کرکے اگلی نسل کے لیے بہتر مستقبل بنانے کی کوشش کی۔ایک دادی یا نانی کی سنائی ہوئی کہانی صرف ایک کہانی نہیں ہوتی۔ اس میں خاندان کی تاریخ، ثقافت، روایات اور زندگی کے تجربات محفوظ ہوتے ہیں۔ ایک دادا یا نانا کی پرانی یادیں صرف ماضی کا ذکر نہیں ہوتیں بلکہ وہ ہمیں بتاتی ہیں کہ ہمارے والدین اور خاندان کن حالات سے گزر کر آج یہاں تک پہنچے ہیں۔ جب ہم ان کہانیوں کو سنتے ہیں تو ہم اپنے خاندان کی جڑوں سے جڑتے ہیں۔
بزرگوں کے ساتھ وقت گزارنا بچوں کی شخصیت سازی میں بھی اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔ ان کے تجربات بچوں کو صبر، احترام، برداشت اور شکرگزاری جیسے انسانی اقدار سکھا سکتے ہیں۔ ایک بچہ جب اپنے دادا دادی یا نانا نانی کے ساتھ بیٹھ کر ان کی زندگی کی باتیں سنتا ہے تو اسے معلوم ہوتا ہے کہ زندگی ہمیشہ آسان نہیں ہوتی، لیکن مشکلات کے باوجود انسان محبت، امید اور حوصلے کے ساتھ آگے بڑھ سکتا ہے۔
نوجوانوں کے لیے بھی بزرگوں سے تعلق ایک قیمتی تجربہ بن سکتا ہے۔ ٹیکنالوجی کی دنیا میں پروان چڑھنے والی نسل کے پاس معلومات کی کمی نہیں، لیکن زندگی کا تجربہ صرف کتابوں یا انٹرنیٹ سے حاصل نہیں کیا جا سکتا۔ بزرگ ہمیں یہ سکھا سکتے ہیں کہ رشتوں کو کیسے نبھایا جاتا ہے، اختلاف کے باوجود احترام کیسے قائم رکھا جاتا ہے اور مشکل وقت میں انسان اپنے خاندان اور معاشرے کا سہارا کیسے بنتا ہے۔بدقسمتی سے بعض معاشروں میں عمر رسیدہ افراد کو تنہائی، نظرانداز کیے جانے اور معاشرتی عدم توجہی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ کبھی وہ اپنے ہی گھر میں موجود ہوتے ہوئے بھی تنہا ہوتے ہیں۔ سب لوگ اپنے اپنے موبائل فون میں مصروف ہوتے ہیں اور بزرگ کسی کے فارغ ہونے کا انتظار کرتے رہتے ہیں۔ کبھی انہیں یہ احساس ہونے لگتا ہے کہ اب ان کی بات سننے والا کوئی نہیں۔ہمیں یہ سوچنے کی ضرورت ہے کہ جس طرح ایک بچہ توجہ، محبت اور تحفظ کا حق رکھتا ہے، اسی طرح ایک بزرگ بھی عزت، محبت اور احترام کا حق دار ہے۔ عمر کا بڑھ جانا انسان کو خاندان سے دور کرنے کی وجہ نہیں بننا چاہیے۔ بلکہ زندگی کے اس مرحلے میں اسے پہلے سے زیادہ محبت اور اپنائیت کی ضرورت ہوتی ہے۔
بچوں اور نوجوانوں کے لیے بزرگوں کی مدد کرنا کوئی بہت بڑا کام نہیں۔ ان کے ساتھ چند منٹ بیٹھنا، ان کا ہاتھ تھامنا، ان کے لیے پانی کا گلاس لانا، ان کی بات سننا، ان کی پسندیدہ چیز یاد رکھنا یا صرف یہ پوچھ لینا کہ آپ کیسے ہیں؟ ان کے لیے بہت معنی رکھ سکتا ہے۔ کبھی کبھی ہماری ایک چھوٹی سی توجہ کسی بزرگ کے پورے دن کو خوشگوار بنا دیتی ہے۔ہمیں یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ آج جو بزرگ ہمارے سامنے ہیں، کل ہم بھی اسی عمر تک پہنچ سکتے ہیں۔ جس محبت، احترام اور توجہ کی اْمید ہم اپنے بڑھاپے میں کریں گے، وہی آج ہمیں اپنے بزرگوں کو دینی چاہیے۔ نسلوں کے درمیان محبت کا یہی خوبصورت سلسلہ ایک مضبوط خاندان اور ایک مہربان معاشرہ تشکیل دیتا ہے۔
بزرگ شہری ہمارے معاشرے کا بوجھ نہیں، ہماری اجتماعی یادداشت ہیں۔ وہ وہ درخت ہیں جن کے سائے میں کئی نسلیں پروان چڑھی ہیں۔ اگر ہم ان کی زندگی کی کہانیاں سنیں گے تو ہمیں اپنے ماضی کا راستہ ملے گا، اور اگر ہم ان کی عزت کریں گے تو شاید آنے والی نسلیں بھی ہمارے ساتھ وہی سلوک کریں گی۔اس لیے آئیے اپنے گھر کے کسی بزرگ کے پاس بیٹھیں، ان کا ہاتھ تھامیں اور کچھ دیر ان کی بات سنیں۔ شاید ان کے پاس سنانے کے لیے ایسی کہانی ہو جو دنیا کی کسی کتاب میں نہیں لکھی گئی۔کیونکہ بعض اوقات ایک بزرگ کی خاموش آنکھوں میں پوری ایک دنیا آباد ہوتی ہے۔بس ضرورت اس بات کی ہوتی ہے کہ کوئی محبت سے ان کی طرف دیکھے اور کہے کہ 
”آپ ہمارے لیے بہت اہم ہیں“۔

Daily Program

Livesteam thumbnail
Urdu Survey Popup