سچ کا دفاع کریں، حقائق کی تصدیق کریں اور جنگی پروپیگنڈے کا مقابلہ کریں۔ پاپائے اعظم لیو چہاردہم

مورخہ 19مارچ2026کو پاپائے اعظم لیو چہاردہم نے دنیا بھر کے صحافیوں کو ایک مضبوط اور بروقت خطاب دیتے ہوئے زور دیا ہے کہ وہ عالمی تنازعات اور میڈیا کی تقسیم کے اس دور میں سچائی، تحقیق اور اخلاقی صحافت کے اصولوں پر قائم رہیں۔انہوں نے صحافیوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ جنگ کو متاثرین کی آنکھوں سے بیان کیا جائے اور اُن کے دْکھ کو دنیا کے سامنے لایا جائے۔ انہوں نے کہا یہ آپ کی ذمہ داری ہے کہ آپ دکھائیں کہ جنگ ہمیشہ کس قدر تکلیف اور تباہی لاتی ہے۔
پوپ لیونے یہ خطاب اٹلی کے قومی نشریاتی ادارے RAI کے نیوز چینل TG2 کے ادارتی عملے سے اْس کی 50ویں سالگرہ کے موقع پر ویٹیکن میں کیا۔ اس دوران انہوں نے صحافت کے بدلتے ہوئے منظرنامے پر روشنی ڈالی، جو اینالاگ نشریات سے ڈیجیٹل دور تک پہنچ چکا ہے اور اس بات پر زور دیا کہ کوئی بھی ٹیکنالوجی تنقیدی سوچ، ادارتی آزادی اور فکری خودمختاری کا متبادل نہیں بن سکتی۔انہوں نے جدید نیوز رومز کے تناظر میں صحافیوں کے بنیادی فرض کو اْجاگر کرتے ہوئے کہا کہ معلومات کی مکمل چھان بین اور تصدیق ضروری ہے اور صحافیوں کو”طاقت کے ترجمان“بننے سے گریز کرنا چاہیے۔
انہوں نے خبردار کیا کہ جنگ کے دوران میڈیا کے پروپیگنڈا میں تبدیل ہونے کا خطرہ بڑھ جاتا ہے، جس کے باعث صحافیوں، ایڈیٹرز اور میڈیا اداروں کی ذمہ داری مزید حساس اور اہم ہو جاتی ہے۔انہوں نے کہا کہ صرف سرخیوں اور سیاسی بیانیوں تک محدود رہنے کے بجائے اُن لوگوں کی حقیقی زندگیوں پر توجہ دی جائے جو جنگ سے متاثر ہوتے ہیں۔
پوپ لیو نے صحافیوں سے کہا کہ یہ آپ پر منحصر ہے کہ آپ جنگ کے باعث ہونے والے دْکھ کو سامنے لائیں نیز صحافیوں کو ترغیب دی کہ وہ جنگ کو اعداد و شمار یا تماشے کے طور پر پیش کرنے کے بجائے متاثرین کی نظر سےحقیقت بیان کریں۔انہوں نے مزید کہا کہ عینی شاہدین کی گواہی اور زمینی حقائق پر مبنی صحافت جنگ کو”ویڈیو گیم“کی طرح دکھانے کے رجحان کی حوصلہ شکنی کرتی ہے اور اس کے انسانی نقصان کو وقار اور سچائی کے ساتھ اْجاگر کرتی ہے۔
مصنوعی ذہانت (AI) کے بڑھتے ہوئے استعمال پر بات کرتے ہوئے پوپ لیو نے خبردار کیا کہ ٹیکنالوجی صحافت کی خدمت کرے، نہ کہ انسانی فیصلے کی جگہ لے۔انہوں نے عالمی تنازعات کا ذکر کرتے ہوئے مشرق وسطیٰ کی بگڑتی ہوئی صورتحال پر بھی تشویش ظاہر کی اور اس بات کی تصدیق کی کہ انہوں نے محمود عباس سے گفتگو کی ہے، جس میں انسانی بحران پر بات چیت اور بین الاقوامی قوانین کے احترام کے ذریعے امن کے قیام پر زور دیا گیا۔
آخر میں، پوپ لیونے دنیا بھر کے صحافیوں کو نصیحت کی ہے کہ وہ درستگی کو رفتار پر ترجیح دیں، تصدیق کو قیاس آرائی پر فوقیت دیں، اور انسانی وقار کو سنسنی خیزی پر مقدم رکھیں۔اسی میں صحافت کا اصل مقصد پوشیدہ ہے۔صرف معلومات فراہم کرنا نہیں بلکہ دیانت اور ہمدردی کے ساتھ سچائی کی گواہی دینا ہے۔