خدا تاریکی اور دْکھ کے لمحات میں بھی ہمارے ساتھ ہوتا ہے۔پاپائے اعظم لیو چہاردہم
مورخہ 9جون 2026کو پاپائے اعظم لیو چہاردہم نے بارسلونا کے Lluís Companys Olympic Stadium میں نوجوانوں کی حوصلہ افزائی کی کہ وہ اپنی روحانی بے چینی کو قبول کریں، دْکھ اور ذہنی بیماری کے درمیان خدا کی موجودگی پر بھروسہ رکھیں، اور معافی کو ایک وقتی عمل کے بجائے شفا اور مفاہمت کے تدریجی سفر کے طور پر دیکھیں۔
اس اجتماع میں سب سے پہلے فیران نامی ایک نوجوان نے گواہی دی، جو حال ہی میں بپتسمہ یافتہ ہوا تھا۔ اْس نے بتایا کہ کامیابی، شہرت اور پہچان کے حصول کے باوجود اس کے دل میں ایک خلا اور بے چینی موجود تھی۔
اس کے جواب میں پوپ لیو نے کہا کہ ہم لامحدود کے لیے بنائے گئے ہیں۔ اسی لیے ہر محدود منزل، ہر کامیابی اور ہر پیش رفت ہمیں وقتی طور پر مطمئن تو کرتی ہے، مگر ساتھ ہی ہمیں مزید تلاش کرنے کی دعوت بھی دیتی ہے۔
انہوں نے منافع اور کارکردگی کی اندھی دوڑ، اور خود نمائی کے کلچر کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ یہ سب ایسے نشہ آور عوامل ہیں جو انسان کے ضمیر کو مفلوج کر دیتے ہیں۔انہوں نے نوجوانوں کو مشورہ دیا کہ اپنے اندر جھانکو۔ زندگی کی تیز رفتار اور بیرونی آزمائشوں کے بوجھ تلے نہ دب جاؤ۔ روزانہ چند لمحے خاموشی اختیار کرو، انجیل پڑھو اور خدا سے بات کرو۔
دوسری گواہی کارمینا نامی ایک نوجوان خاتون نے دی، جس نے اپنے ڈپریشن اور خودکشی کی ناکام کوشش کے بارے میں کْھل کر بات کی۔ اْس نے سوال کیا کہ جب زندگی مکمل اندھیرے میں ڈوبی ہوئی محسوس ہو تو خدا کہاں ہوتا ہے؟پوپ لیو نے اْس کی ہمت کو سراہتے ہوئے کہا کہ جدید معاشروں میں ذہنی صحت شدید خطرات سے دوچار ہے، جو اس بات کی علامت ہے کہ ترقی کا موجودہ تصور کسی نہ کسی طرح غلط سمت اختیار کر چکا ہے۔انہوں نے یسوع مسیح کے دْکھوں اور صلیب کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ خدا کے بیٹے نے انسانیت کی تمام تنہائی، بے چینی اور تکلیف کو اپنے جسم میں اْٹھا لیا۔پوپ لیو نے مزید کہا کہ صلیب ہمیں بتاتی ہے کہ خدا ہمیں چھوڑتا نہیں بلکہ ہمارے ساتھ کھڑا رہتا ہے، یہاں تک کہ شدید درد اور تنہائی کے لمحات میں بھی۔انہوں نے خبردار کیا کہ مسیحیوں کو کبھی بھی انسانی درد کو سادہ اور سطحی انداز میں ”خدا کی مرضی“قرار نہیں دینا چاہیے۔کیونکہ خدا تکلیف نہیں چاہتا، بلکہ وہ ہمارے ساتھ مل کر اْسے برداشت کرتا ہے۔
تیسری گواہی سیسیلیا نامی ایک خاتون نے دی۔ جس نے گھریلو تشدد، نشے اور خاندانی ٹوٹ پھوٹ سے بھرپور بچپن کا ذکر کیا۔ اْس نے پوچھا کہ وہ اپنے والد کو کیسے معاف کرے جس نے اْس کی والدہ کو قتل کرنے کی کوشش کی تھی، اور وہ خدا کے ساتھ میل کیسے حاصل کر سکتی ہے؟پوپ لیو نے کہا کہ ہم خدا کو اْن چیزوں کا ذمہ دار نہیں ٹھہرا سکتے جو ہماری اپنی ذمہ داری کے دائرے میں آتی ہیں۔انہوں نے واضح کیا کہ معاشرے میں تشدد اور نفرت کی موجودگی پر خدا کو قصوروار ٹھہرانے کے بجائے ہمیں اپنے سماجی اور ثقافتی رویوں کا جائزہ لینا چاہیے۔
معافی کے بارے میں انہوں نے کہا کہ معافی کوئی ایک لمحے کا فیصلہ نہیں بلکہ ایک عمل اور ایک سفر ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ حقیقی معافی اکثر دل کے زخموں کی شفا سے شروع ہوتی ہے۔ہم چھوٹے چھوٹے قدموں کے ذریعے معافی کی طرف بڑھتے ہیں۔پوپ لیو نے یہ بھی واضح کیا کہ معافی کا مطلب لازماً پرانے تعلقات کی بحالی نہیں ہوتا، خاص طور پر جب تشدد یا زیادتی شامل ہو۔
بعد ازاں پوپ لیو نے اپنی مختصر تبلیغ میں انجیل کے کردار نیکودیمس کا حوالہ دیا اور کہا کہ ہر انسان ”رات کا مسافر“ ہے، جو زندگی کے سفر میں معنی، سچائی اور محبت کی تلاش میں رہتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ہم محبت کے محتاج ہیں، ہم واقعی بھوکے اور پیاسے ہیں۔ ہم ایک ایسے گہرے مقصد کی تلاش کرتے ہیں جو ہماری زندگی کو معنی دے۔پوپ لیو نے وضاحت کی کہ زندگی میں اندھیری راتیں، شک، اْلجھن اور روحانی بحران ناکامی کی علامت نہیں بلکہ نئے جنم اور تجدید کا موقع ہو سکتے ہیں۔
نیکودیمس ہمیں سیکھاتا ہے کہ زندگی کی یہ راتیں برکت کا وقت بن سکتی ہیں، ایسا رحمِ مادر جو نئی زندگی کو جنم دیتا ہے۔انہوں نے کہا کہ تاریکی انسان سے اس کے مصنوعی نقاب اْتار دیتی ہے اور خدا کے لیے دل میں ایک خالی جگہ پیدا کرتی ہے جہاں تبدیلی ممکن ہو جاتی ہے۔
اپنی گفتگو کے اختتام پر پوپ لیو نے اسپین کے مومنین کو غربت، سماجی تقسیم اور ثقافتی تبدیلی جیسے مسائل پر سنجیدگی سے غور کرنے کی دعوت دی اور کہا کہ ایک ایسا معاشرہ تعمیر کیا جائے جہاں ہر شخص کے وقار کا احترام ہو اور ہر فرد کو محبت ملے۔انہوں نے کہاخدا نہیں چاہتا کہ کوئی بھی کھو جائے۔ وہ آج بھی ہمیں ابدی زندگی اور ایسی خوشی عطا کرنا چاہتا ہے جس کا کبھی خاتمہ نہ ہو۔اور آخر میں انہوں نے سب کو یقین دلایا کہ انجیل کی روشنی انسان کو ”اندھیر سے اْجالے کی طرف“لے جا سکتی ہے۔