انسانی وقار سنگین جرائم کے بعد بھی ختم نہیں ہوتا۔پاپائے اعظم لیو چہاردہم
مورخہ 24اپریل 2026کوپاپائے اعظم لیو چہاردہم نے ایک ویڈیو پیغام میں اْن لوگوں کے لیے اپنی حمایت کا اظہار کیا ہے جو امریکہ اور دنیا بھر میں سزائے موت کے خاتمہ کی وکالت کر رہے ہیں نیز انسانی وقار کے تحفظ کی اہمیت پر زور دیا ہے۔یہ ویڈیو پیغام دی پال یونیورسٹی (امریکہ) میں ایک تقریب کے موقع پر جاری کیا گیا تھا، جہاں الینوائے ریاست میں سزائے موت کے خاتمہ کی 15ویں سالگرہ منائی جا رہی تھی۔
انہوں نے اس تاریخی فیصلے (2011) کی یاد میں شریک افراد کے ساتھ خوشی میں شامل ہونے کا ذکر کیا اور”امریکہ اور دنیا بھر میں سزائے موت کے خاتمہ کے لیے جدوجہد کرنے والوں“کے لیے اپنی حمایت کا اظہار کیا۔
پوپ لیو نے کہا کہ میں دْعا کرتا ہوں کہ آپ کی کوششیں ہر انسان کے وقار کو مزید تسلیم کرنے کا باعث بنیں اور دوسروں کو بھی اسی منصفانہ مقصد کے لیے کام کرنے کی ترغیب دیں۔انہوں نے زور دیتے ہوئے کہا کہ قید کے مؤثر نظام تیار کیے جا سکتے ہیں اور کیے گئے ہیں جو شہریوں کی حفاظت بھی کرتے ہیں اور مجرموں کو مکمل طور پر اصلاح کے امکان سے محروم بھی نہیں کرتے۔
انہوں نے مزید کہا کہ اسی وجہ سے پوپ فرانسس اور میرے حالیہ پیشروؤں نے بار بار اس بات پر زور دیا ہے کہ اجتماعی بھلائی کا تحفظ اور انصاف کے تقاضے سزائے موت کے بغیر بھی پورے کیے جا سکتے ہیں۔
انہوں نے کیتھولک چرچ کے کیٹی کیزم کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ چرچ کی تعلیم کے مطابق سزائے موت ناقابلِ قبول ہے کیونکہ یہ انسان کی ناقابلِ خلاف ورزی وقار اور حرمت پر حملہ ہے۔
پوپ لیو نے زندگی کے تقدس کے تحفظ کی اہمیت کو بھی دہرایا جو کہ حمل کے آغاز سے لے کر قدرتی موت تک ہوتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ زندگی کا حق تمام انسانی حقوق کی بنیاد ہے۔ اسی لیے جب تک کوئی معاشرہ انسانی زندگی کے تقدس کا تحفظ نہیں کرتا، وہ ترقی اور خوشحالی حاصل نہیں کر سکتا۔