ملائیشیا پینانگ نے مقدسہ حنہ کی عید کو ثقافتی ورثہ قرار دے دیا
ملائیشیا کے شمال مغربی علاقے میں واقع بکِت مرتاجم کی مائنر باسیلیکا آف مقدسہ حنہ میں ہر سال منائی جانے والی مقدسہ حنہ کی سالانہ عیدکو باضابطہ طور پر پینانگ کے ریاستی ثقافتی ورثے کے طور پر تسلیم کر لیا گیا ہے۔ یہ اعلان پینانگ اسٹیٹ ہیریٹیج انیکٹمنٹ 2011 کے تحت کیا گیا۔
یہ اعلان 9 مئی کو کمپونگ مینگکوانگ ٹیٹی، کوبانگ سیمانگ میں منعقدہ ”پینانگ اسٹیٹ ہیریٹیج ڈیکلریشن تقریب“کے دوران کیا گیا، جس کا اہتمام پینانگ اسٹیٹ ہیریٹیج کمشنر آفس نے کیا تھا۔اس تقریب کی صدارت پینانگ کے چیف منسٹر Chow Kon Yeow نے کی۔
اس اعلان کے بعدکہ مقدسہ حنہ کی عید اب پینانگ کی محفوظ شدہ غیر مادی ثقافتی روایات میں شامل ہو گئی ہے اور یہ ریاست کی مذہبی و ثقافتی زندگی میں اس کے دیرینہ کردار کا اعتراف بھی ہے۔
ہر سال جولائی میں Minor Basilica of St Anne میں منعقد ہونے والی یہ عید، ملائیشیا میں کیتھولک افراد کا سب سے بڑا اجتماع سمجھا جاتا ہے اور جنوب مشرقی ایشیا کی بڑی مسیحی زیارتوں میں شمار ہوتا ہے۔ہر سال ہزاروں زائرین اور عقیدت مند بکِت مرتاجم کا رْخ کرتے ہیں تاکہ نو روزہ دعائیہ عبادات اور عید میں شرکت کر سکیں۔ زائرین نہ صرف ملائیشیا بلکہ انڈونیشیا،تھائی لینڈ،سنگا پور،فلپائن اور دیگر ممالک سے بھی آتے ہیں۔
اس عید میں مختلف زبانوں میں عبادات، پاک روزری کی عبادت اور مقدسہ حنہ سے منسوب روحانی سرگرمیاں شامل ہوتی ہیں۔ مقدسہ حنہ مقدسہ ماں مریم کی والدہ تھیں۔
پینانگ اسٹیٹ ہیریٹیج انیکٹمنٹ 2011 کے تحت ثقافتی ورثے کا درجہ صرف تاریخی عمارتوں اور مقامات کو ہی نہیں بلکہ ان ثقافتی روایات، رسم و رواج اور سرگرمیوں کو بھی دیا جا سکتا ہے جو ریاست کی شناخت اور تاریخی ترقی میں اہم کردار ادا کرتی ہوں۔ریڈیو ویریتاس ایشیا سے گفتگو کرتے ہوئے ڈیکن لعزر انتھنی نے پینانگ حکومت کا شکریہ ادا کیا کہ اْس نے مقدسہ حنہ کی عید کو غیر مادی ثقافتی ورثہ تسلیم کیا۔
انہوں نے کہا یہ عید صرف ایک سالانہ مذہبی تقریب نہیں بلکہ ایک زندہ روایت ہے جو نسل در نسل منتقل ہوتی آئی ہے اور آج بھی عقیدت کو مضبوط، اتحاد کو فروغ اور پینانگ کی ثقافتی شناخت کو مالا مال کر رہی ہے۔مقدسہ حنہ چرچ کی تاریخ انیسویں صدی سے جڑی ہوئی ہے، جب یہ خیال کیا جاتا ہے کہ باتو کاوان میں بیماریوں کے پھیلاؤ سے بچنے والے چینی اور بھارتی کیتھولک مہاجرین بکِت مرتاجم میں آ کر آباد ہوئے۔ وہ مقدسہ حنہ کی پہاڑی کے دامن میں عبادت کے لیے جمع ہونا شروع ہوئے۔
ابتدائی طور پر پہاڑی پر ایک چھوٹا چیپل تعمیر کیا گیا، بعد ازاں 1865 میں ایک بڑا چیپل بنایا گیا۔ پھر 1888 میں فادر ایف۔ پی۔ سورین نے ایک بڑی کلیسیا تعمیر کی، جسے آج”اولڈ چرچ“یا”شرائن آف ہارمنی“کہا جاتا ہے۔ موجودہ عبادت گاہ 2002 میں تعمیر کی گئی تاکہ سالانہ عیدمیں آنے والے بڑے ہجوم کو جگہ فراہم کی جا سکے۔سال 2019 میں پوپ فرانسس نے اس چرچ کو”مائنر باسیلیکا“کا درجہ دیا، یوں یہ ملائیشیا کا پہلا چرچ بن گیا جسے یہ اعزاز حاصل ہوا۔