سیبل کیتھیگاسو: ایمان،جرات اور قربانی کی لازوال داستان
مورخہ 6 جون 2026 کو ملائیشیا پینانگ ڈایوسیس کے سینٹ مائیکل چرچ میں دوسری جنگِ عظیم کی ہیروئن سیبل کتھیگاسوکو خراجِ عقیدت پیش کیا، جبکہ کیتھولک کلیسیا ان کے مبارک اور بعد ازاں مقدس قرار دئیے جانے کے عمل کو آگے بڑھا رہی ہے۔ان کی وفات کی 78ویں برسی کے موقع پر منعقد ہونے والی اس تقریب میں دْعائیں، اْن کے مقبرے کی زیارت، یادگاری پاک ماس، اور ریٹائرڈ بریگیڈیئر جنرل فٹزجیرالڈ آگسٹین کی ایک خصوصی پیشکش شامل تھی، جس کا عنوان تھا: اے میرے خداوند! میں اپنی جان کی آخری قربانی بھی پیش کروں گا، میں تیرے نام پر یہ وعدہ کرتا ہوں۔
سیبل کتھیگاسو، جن کا پیدائشی نام سیبل ڈیلی تھا، ایک نرس اور دایہ تھیں۔ دوسری جنگِ عظیم کے دوران جاپانی قبضے کے خلاف مزاحمت کرنے والے اتحادی جنگجوؤں کی انہوں نے خفیہ طور پر مدد کی۔ وہ اپنے گھر، پاپان (ریاست پیراک) سے ادویات، طبی امداد اور دیگر سہولیات فراہم کرتی تھیں۔
بالآخر اْن کی سرگرمیوں کا پتہ جاپانی فوجی پولیس ”کیمپیتائی“ کو چل گیا اور انہیں گرفتار کر لیا گیا۔شدید تشدد اور طویل تفتیش کے باوجود انہوں نے کبھی اْن افراد کے نام ظاہر نہیں کیے جن کی انہوں نے مدد کی تھی۔ اْن کی اس جدوجہد کی داستان بعد میں اْن کی یادگاری پر مبنی کتاب No Dram of Mercy میں محفوظ کی گئی، جو ایمان، قربانی اور ثابت قدمی کی ایک متاثر کن گواہی ہے۔قید کے دوران ہونے والے تشدد نے اْن کے جسم پر گہرے اثرات چھوڑے۔ جنگ کے بعد جب وہ ریڑھ کی ہڈی کی شدید تکلیف میں مبتلا تھیں، تو انہوں نے درخواست کی کہ انہیں سینٹ جوزف چرچ کے دروازے تک اْٹھا کر لے جایا جائے تاکہ وہ رینگتے ہوئے پاک قربان گاہ (Tabernacle) کے سامنے جا کر دْعا کر سکیں۔
بہت سے کیتھولک مسیحیوں کے لیے یہ واقعہ ایمان کی ایک روشن مثال ہے۔شرکاء اْن کی قبر پر گئے، جس کے بعد فوقیت مآب کارڈنیل سبسٹین فرانسس نے یادگاری پاک ماس کی صدارت فرمائی۔اپنے وعظ میں کارڈینل سبیٹین نے مقدس پولوس رسول کے الفاظ دوہرائے:میں نے اپنی دوڑ مکمل کر لی ہے، میں ایمان پر قائم رہا ہوں، اور اب میرے رخصت ہونے کا وقت آ گیا ہے۔
انہوں نے حاضرین سے سوال کیا کہ کیا یہ الفاظ صرف مقدس پولوس ہی نہیں بلکہ سیبل کتھیگاسو اور ہم سب کی زندگیوں پر بھی صادق آ سکتے ہیں؟
انہوں نے کہا کہ سیبل کتھیگاسو کی گواہی مذہبی، نسلی اور ثقافتی حدود سے بالاتر ہے اور ہر انسان کے لیے حوصلے اور ایمان کا سرچشمہ ہے۔ملائیشیا کی کیتھولک کلیسیا نے یکم جولائی 2024 کو اْن کی تقدیس کے عمل میں ایک اہم قدم اْٹھایا، جب کارڈینل سبیسٹین فرانسس نے باضابطہ طور پر اْن کے Beatification اور Canonisation کے آغاز کا اعلان کیا۔
اگرچہ وہ جنگ سے زندہ واپس آ گئیں، لیکن تشدد کے اثرات سے کبھی مکمل طور پر صحت یاب نہ ہو سکیں۔ مزید علاج کے لیے وہ برطانیہ گئیں، جہاں 12 جون 1948 کوLanarkshir میں 49 برس کی عمر میں اْن کا انتقال ہوگیا۔بعد ازاں اْن کی باقیات ملایا واپس لائی گئیں اور مقدس مائیکل چرچ میں دفن کی گئیں، جہاں آج بھی اْن کی قبر زیارت اور دْعا کا مقام ہے۔
ملائیشیا کے بہت سے کیتھولک افراد کے لیے سیبل کتھیگاسو صرف ایک جنگی ہیروئن نہیں بلکہ ایسی خاتون ہیں جن کا ایمان ظلم و ستم کے باوجود کبھی متزلزل نہیں ہوا۔ ان کی زندگی آج بھی مومنین کو خدا کے ساتھ وفاداری، ہمدردی اور جرات کے ساتھ زندگی گزارنے کی ترغیب دیتی ہے۔
سیبل کی زندگی ہمیں یاد دلاتی ہے کہ ایمان سے جنم لینے والی ہمت تاریخ کے تاریک ترین لمحات کا بھی مقابلہ کر سکتی ہے۔اْن کی وفات کے تقریباً آٹھ دہائیوں بعد بھی، سیبل کتھیگاسو کی داستان ملائیشیائی کیتھولک تاریخ کے سب سے متاثر کن ابواب میں شمار ہوتی ہے۔