ریڈیو ویریتاس ایشیا اْردوسروس کے بورڈ ممبران کا سالانہ اجلاس

ریڈیو ویریتاس ایشیا اْردوسروس کے بورڈ ممبران کا سالانہ اجلاس
ریڈیو ویریتاس ایشیا اْردوسروس کے بورڈ ممبران کا سالانہ اجلاس

مورخہ 22 اپریل 2026 کو RVA اردو سروس کے بورڈ ممبران کا سالانہ اجلاس بشپ ہاؤس، لالکرتی، راولپنڈی کینٹ میں منعقد ہوا۔ اجلاس کی صدارت ریڈیو ویریتاس ایشیا اْردو سروس کے چیئرمین، فضیلت مآب آرچ بشپ ڈاکٹر جوزف ارشد نے کی۔ اجلاس میں بورڈ ممبران، پروگرام پروڈیوسرز اور ویو سٹوڈیو سٹاف نے شرکت کی۔۔
اجلاس کا آغاز نئے بورڈ ممبر ریورنڈفادر بشارت سراج کی دعائیہ کلمات سے ہوا۔ اس کے بعد فضیلت مآب آرچ بشپ ڈاکٹر جوزف ارشد نے تمام شرکاء اور نئے بورڈ ممبران کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ ہم خدا کا شکر ادا کرتے ہیں کہ  پاپا ئے اعظم  لیو افریقہ کا ایک پاسبانی دورہ کر رہے ہیں۔ انہوں نے اپنے سفر کا آغاز الجزائر، کیمرون اور انگولا سے کیا اور اب آخری ملک گنی پہنچ چکے ہیں۔ سوشل میڈیا اس دورے کو قریب سے دیکھنے میں ہماری مدد کر رہا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ عالمی یومِ ابلاغیات کے موقع پر اس سال اپنے 60ویں پیغام میں پوپ لیونے ”انسانی آوازوں اور چہروں“کے تحفظ پر زور دیا ہے، جو ہر انسان کی منفرد پہچان ہیں۔ انہوں نے جدید دور میں ٹیکنالوجی کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ مصنوعی ذہانت (AI) جیسی دریافتیں فائدہ مند ہیں، لیکن انہیں انسانوں کی خدمت کرنی چاہیے، ان کی جگہ نہیں لینی چاہیے۔ لہٰذا انسانی وقار کا تحفظ ہمیشہ ضروری ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ہمارا کام ڈیجیٹل ترقی یا جدید ٹیکنالوجی کو روکنا نہیں بلکہ لوگوں کو اس کے درست استعمال کی رہنمائی دینا ہے۔ کلیسیا کے طور پر ہماری ذمہ داری ہے کہ ہم دوسروں کو سماجی ابلاغ کی نعمت کو مثبت انداز میں استعمال کرنے کی ترغیب دیں، اور آر۔وی۔اے کا اس میں بہت اہم کردار ہے۔ یہ صرف کلیسیا کے لیے ٹیکنالوجی استعمال کرنے کا معاملہ نہیں بلکہ لوگوں کو انسانی وقار کا احترام سکھانے کا مشن ہے، خاص طور پر پاکستان میں جہاں میڈیا کا غلط استعمال اکثر دوسروں کی ساکھ کو نقصان پہنچاتا ہے۔انہوں نے کہا کہ پوپ لیو اپنے پیغام میں ”انسانی آوازوں اور چہروں“اپر زور دیتے ہیں تا کہ ہم سوشل میڈیا کے ذریعے انسانوں کی عزت اور وقار کو کیسے بہتر بنا سکتے ہیں۔ کلیسیا کا اس میں بنیادی کردار ہے، اور آر۔وی۔اے  ٹیم کو چاہیے کہ وہ لوگوں کو مثبت میڈیا استعمال کی طرف رہنمائی فراہم کرے۔
محترمہ ثنا ء جارج (آن لائن پروڈیوسر) نے پچھلی میٹنگ کی رپورٹ پیش کی، جسے متفقہ طور پر منظور کر لیا گیا۔

ریڈیو ویریتاس ایشیا اْردوسروس کے بورڈ ممبران کا سالانہ اجلاس
ریڈیو ویریتاس ایشیا اْردوسروس کے بورڈ ممبران کا سالانہ اجلاس

ریڈیو ویریتاس ایشیا اردو سروس کے ڈائریکٹر ریورنڈ فادر قیصر فیروز نے آروی۔اے اْردو سروس کی سالانہ رپورٹ پیش کی۔ انہوں نے میڈیا سرگرمیوں کا تفصیلی جائزہ پیش کیا، جس میں ویب سائٹ، فیس بک، یوٹیوب، موبائل ایپلیکیشن اور دیگر سوشل میڈیا پلیٹ فارمز شامل تھے۔انہوں نے بتایا کہ ویب سائٹ پر باقاعدگی سے اْردو آرٹیکلز شائع کیے جاتے ہیں، فیس بک پر معلوماتی انفارمیشن گرافکس پوسٹس شیئر کی جاتی ہیں نیز قومی و بین الاقوامی دنوں اور تہواروں کے موقع پر خصوصی پیغامات تیار کیے جاتے ہیں۔ انہوں نے سب سے زیادہ دیکھی جانے والی ریلز، پوسٹس اور ویڈیوز اور ان پر ملنے والی حوصلہ افزا آراء کا بھی ذکر کیا۔انہوں نے کہا کہ یہ مواد نہ صرف پاکستان بلکہ بین الاقوامی سطح پر بھی مقبول ہو رہا ہے اور لوگ اسے اپنی سوشل میڈیا اسٹیٹس اور گروپس میں شیئر کرتے ہیں۔ مزید یہ کہ پروگرام پہلے ویب سائٹ پر اپلوڈ کیے جاتے ہیں اور پھر دیگر پلیٹ فارمز پر شیئر کیے جاتے ہیں۔ریورنڈ فادر قیصر فیروز نے اعداد و شمار بھی پیش کیے جن میں پروگرامز کی تعداد، سبسکرائبرز اور واچ ٹائم کی شمولیت شامل تھی۔ انہوں نے کہا کہ سامعین ویب سائٹ اور موبائل ایپ کے ذریعے لائیو اسٹریمنگ میں بھی پرانے پروگرام سن سکتے ہیں۔انہوں نے بتایا کہ مقدسین کی زندگیوں پر مبنی ویڈیوز بہت مثبت اثر ڈال رہی ہیں، اور زیادہ تر کومنٹس حوصلہ افزا ہوتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بڑھتے ہوئے لائکس اور ویوز کی تعداداْن کے لیے خوشی کا باعث ہیں۔
ریورنڈ فادر قیصر فیروزنے اعلان کیا کہ فضیلت مآب آرچ بشپ ڈاکٹر جوزف ارشد کی اجازت اور رہنمائی سے وہ ایک نئی لینگویج  سروس شروع کرنے جا رہے ہیں، جو آر۔وی۔اے پشتو سروس ہوگی اور پشاور میں قائم کی جائے گی۔ اس پر ابتدائی تحقیق اور سروے مکمل ہو چکا ہے۔انہوں نے کہا کہ اس اقدام کا مقصد پاکستان اور افغانستان میں پشتو بولنے اور سمجھنے والے  افراد تک امن اور سماجی ہم آہنگی کا پیغام پہنچانا ہے۔ 
 فضیلت مآب آرچ بشپ ڈاکٹر جوزف ارشد نے اس اعلان پر خوشی اور مبارکباد کا اظہار کیا اور اس اقدام کو”کیتھولک میڈیا فار پیس اینڈ ہوپ سینٹر“کا نام دیا، جس کا مقصد میڈیا کے ذریعے امن اور امید کو فروغ دینا ہے۔سالانہ رپورٹ کو سراہتے ہوئے  فضیلت مآب آرچ بشپ ڈاکٹرجوزف ارشد نے میڈیا سے متعلق چند اہم نکات شیئر کیے، جو پاکستان بشپس کانفرنس کی ہدایات پر مبنی تھے تاکہ ہم اپنی ذمہ داریوں کو بہتر انداز میں ادا کر سکیں۔
انہوں نے کہا کہ کیتھولک کلیسیا تمام سماجی ابلاغ کے ذرائع، جیسے انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا کو خدا کی نعمت سمجھتی ہے۔ لہٰذا کاہنوں اور مذہبی افراد کو ان کا مثبت استعمال کرتے ہوئے انجیلی بشارت کے لیے استعمال کرنا چاہیے اور منفی رویوں سے بچنا چاہیے۔انہوں نے کہا کہ میڈیا کے تمام مواد یعنی مضامین، شاعری، کتابیں، خبریں اور ویڈیوز،امن، اتحاد اور سماجی ہم آہنگی کا ذریعہ ہونا چاہیے۔انہوں نے مزید کہا کہ سوشل میڈیا کے ذریعے بچوں، نوجوانوں اور خاندانوں تک انجیل کا پیغام پہنچایا جا سکتا ہے، تاہم ٹیلی کاسٹ ع پاک ماس صرف ان لوگوں کے لیے ہیں جو بیماری یا بڑھاپے کی وجہ سے جسمانی طور پر شرکت نہیں کر سکتے، یہ حقیقی یوخرست کا متبادل نہیں۔
انہوں نے کیمرہ مین اور میڈیا عملے کو ہدایت دی کہ وہ عبادات کے تقدس کا احترام کریں اور مقدس لمحات میں خلل نہ ڈالیں۔
انہوں نے کہا کہ سوشل میڈیا پر شیئر کی جانے والی تصاویر اور ویڈیوز میں کلیسیا کی مثبت تصویر ہونی چاہیے اور مرکزِ نگاہ مسیح ہونا چاہیے، نہ کہ فرد۔انہوں نے کہا کہ نفرت انگیز مواد کو فوراً حذف کیا جائے، اور اگرچہ ٹیکنالوجی اور AI اہم ہیں، لیکن وہ انسانی دل کی حکمت کا متبادل نہیں ہو سکتے۔آخر میں انہوں نے کہا کہ میڈیا کے شعبے میں تربیت کے مواقع فراہم کیے جائیں تاکہ مضبوط مسیحی میڈیا نیٹ ورک قائم ہو سکے۔
فضیلت مآب آرچ بشپ ڈاکٹر جوزف ارشد نے کہا کہ یہ اْن کے لیے ایک سوال ہے کہ مسلسل کوششوں کے باوجود مسیحی برادری ابھی تک اپنے حقوق کے حوالے سے مکمل طور پر آگاہ نہیں ہے۔ لیکن اب مایوسی کو چھوڑنے کا وقت ہے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان میں میڈیا اور ابلاغیات کے شعبے میں ترقی کے بہت مواقع موجود ہیں، اور یہ کسی ایک فرد کی ذمہ داری نہیں بلکہ کلیسیا کی اجتماعی کوشش ہے۔یہ بھی حقیقت ہے کہ میڈیا کے بڑھتے ہوئے استعمال کے ساتھ ساتھ تخلیقی صلاحیت اور لکھنے کی مہارت کم ہو رہی ہے، جو باعثِ تشویش ہے۔ نوجوانوں کو تعلیم اور تربیت کی طرف لانا ضروری ہے تاکہ وہ بہتر مستقبل بنا سکیں۔انہوں نے کہا کہ مثبت میڈیا کے ذریعے کلیسیا اور کمیونٹی کے درمیان فاصلے کم کیے جا سکتے ہیں۔
اجلاس کے دوران مستقبل کے لیے پیش کی جانے والی تجاویز درج ذیل ہیں۔
٭ پاکستان کے تمام ڈائیوسیز سے تعاون حاصل کیا جائے اور نوجوانوں کو میڈیا کی تربیت دی جائے۔
٭ نوجوانوں کی ابلاغی صلاحیتوں، درست تلفظ اور تحریری مہارت کو بہتر بنایا جائے۔
٭ باصلاحیت نوجوانوں کو کلیسیا کے مشن میں شامل کیا جائے۔
٭ تمام ڈائیوسیز کے میڈیا ڈائریکٹرز کے ساتھ تعاون بڑھایا جائے۔
٭ اسکولوں میں ”میڈیا لیب“کے تصور کو فروغ دیا جائے۔
آخر میں فادر قیصر فیروز نے فضیلت مآب آرچ بشپ ڈاکٹر جوزف ارشد،آر۔وی۔اے منیلا ٹیم اور تمام بورڈ ممبران کا شکریہ ادا کیا اور اْمید ظاہر کی کہ ان کی رہنمائی اور تعاون سے امن و ہم آہنگی کو فروغ ملے گا۔

ریڈیو ویریتاس ایشیا اْردوسروس کے بورڈ ممبران کا سالانہ اجلاس
ریڈیو ویریتاس ایشیا اْردوسروس کے بورڈ ممبران کا سالانہ اجلاس

Daily Program

Livesteam thumbnail