خدا کے کلام کے لیے اپنے دل کو جائے نزول بنائیں۔فادر کولمبا جارڈن، سی ایف آر
مورخہ 11ستمبر2026کو آئرلینڈ کے فرنسسکن کاہن فادر کولمبا جارڈن، سی ایف آر نے کوئزون سٹی میں منعقدہ پہلی ایشیائی کیتھولک ڈیجیٹل مشنری اسمبلی کے دوران کیتھولک ڈیجیٹل ابلاغی کارکنوں اور مشنریوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ڈیجیٹل مشنریوں کو چاہیے کہ وہ خدا کو اپنی شخصیت، صلاحیتوں اور زندگی کے تجربات کے ذریعے کام کرنے دیں اور خود کو ایک ایسی اترنے کی جگہ بنائیں جس کے ذریعے خدا کا کلام دوسروں تک پہنچ سکے۔فادر کولمبا جارڈن، سی ایف آر، نے فلپائن کے شہر کوئزون سٹی میں ریڈیو ویریتاس ایشیا کے مرکزی دفتر میں منعقدہ چار روزہ اسمبلی کے پہلے روز کی دوپہر کے اجلاس میں ایشیا بھر سے آئے 100 سے زائد کیتھولک ڈیجیٹل ابلاغ کاروں اور مشنریوں سے خطاب کیا۔
ان کے سیشن کا عنوان ”خود پسندی سے مستند گواہی تک“تھا، جس میں انہوں نے اس بات پر روشنی ڈالی کہ ڈیجیٹل مشنری کس طرح اپنی تشہیر اور نمایاں ہونے کے خوف سے آگے بڑھ کر حقیقی اور مستند گواہ بن سکتے ہیں جو لوگوں کو زندہ مسیح کی طرف متوجہ کریں۔اس اسمبلی کا اہتمام فیڈریشن آف ایشین بشپس کانفرنسز کے دفتر برائے سماجی ابلاغیات اور آر وی اے نے ویٹی کن کے ڈکاسٹری برائے ابلاغ کے اشتراک سے کیا ہے۔ یہ اسمبلی 10 تا 13 ستمبر تک ”انفلوئنسرز سے گواہوں تک: ایشیا میں ڈیجیٹل مشن کے لیے سنڈی راستہ“کے موضوع کے تحت جاری ہے۔
آئرلینڈ کے شہر لیمرک میں مقیم فادر جارڈن فرانسسکن فریئرز آف دی رینیول سے تعلق رکھتے ہیں۔ وہ Little by Little ویڈیو پوڈکاسٹ اور ڈیجیٹل بشارت اور ایمان کی تشکیل کے شعبے میں اپنی خدمات کے لیے معروف ہیں۔ڈیجیٹل مواد تیار کرنے کے اپنے ابتدائی تجربے کا ذکر کرتے ہوئے فادر جارڈن نے کہا کہ ان کی پہلی تشویش میں سے ایک خود پسندی اور اس آزمائش سے متعلق تھی کہ کہیں ان کی خدمت کا مرکز خود ان کی ذات نہ بن جائے۔ انہوں نے اس جدوجہد کو مقدس یوحنا بپتسمہ دینے والے کے ان الفاظ سے جوڑا کہ ”ضرور ہے کہ وہ بڑھے لیکن میں گھٹوں“تاہم، انہوں نے اس کے برعکس ایک دوسرے خطرے سے بھی خبردار کیا کہ انسان اپنی ذات کے بارے میں اس قدر محتاط ہو جائے کہ خدا کی عطا کردہ صلاحیتوں کو چھپانے لگے۔انہوں نے کہا کہ اگر آپ میں یہ صلاحیت ہے، آپ کے سامنے کیمرا رکھا جائے اور آپ اس کے سامنے خود کو بھرپور انداز میں پیش کر سکیں، تو یہ ایک نادر صلاحیت ہے۔ان کے مطابق اس کا حل اپنی شخصیت کو ختم کرنا نہیں بلکہ خدا کو اپنی شخصیت کے ذریعے کام کرنے دینا ہے۔
فادر جارڈن نے مسیحی ابلاغ کار کو خدا کے کلام کے لیے ایک طرح کی اترنے کی جگہ قرار دیا۔ کنواری مریم کی مثال دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ خدا نے تجسّد کے واقعہ میں مریم کی انسانی فطرت کے ذریعے کام کرنے کا انتخاب کیا۔ اسی طرح ہر مشنری اپنے منفرد تجربات، صلاحیتوں اور شخصیت کے ذریعے انجیل کا پیغام دوسروں تک پہنچاتا ہے۔انہوں نے کہا کہ انجیل ہمیشہ کسی نہ کسی شخص کے ذریعے بولتی ہے۔تاہم، مستند گواہی کا آغاز اس سوال سے نہیں ہوتا کہ دوسروں کو کیا بتایا جائے، بلکہ اس بات سے ہوتا ہے کہ انسان خود انجیل کو اپنی زندگی کو چیلنج کرنے دے۔
فادر جارڈن نے یاد کیا کہ ایک وقت میں ان کی تبلیغ کا مرکز یہ بن گیا تھا کہ دوسروں کو بتایا جائے کہ انہیں کیا تبدیل کرنے کی ضرورت ہے۔ ایک ساتھی کاہن نے اْنہیں چیلنج کیا کہ وہ اس سوال کو کہ اے خداوند، آپ کیا چاہتے ہیں کہ میں ان سے کہوں؟ سے بدل کر یہ سوال کریں کہ اے خداوند آپ مجھ سے کیا کہہ رہے ہیں؟انہوں نے کہا کہ اس تبدیلی نے انہیں دوسروں کو محض ہدایات دینے کی بجائے اپنے ذاتی روحانی تجربے کی بنیاد پر بات کرنے کے قابل بنایا۔انہوں نے ڈیجیٹل مشنریوں پر زور دیا کہ وہ مواد پوسٹ کرنے یا تیار کرنے سے پہلے اسی اصول کو اپنائیں اور خود سے پوچھیں کہ کیا انجیل حقیقت میں میری زندگی میں مجسم ہوئی ہے؟
انہوں نے نوجوانوں کے ساتھ ابلاغ میں اپنی کمزوریوں اور ذاتی تجربات کو دیانت داری سے بیان کرنے کی اہمیت پر بھی زور دیا۔ ان کے مطابق نوجوان فوراً محسوس کر لیتے ہیں جب کوئی شخص محض ان پر بات مسلط کر رہا ہو۔ مستند گواہی کے لیے ضروری ہے کہ انسان اپنی زندگی کی حقیقی باتیں، بشمول ذاتی جدوجہد، ناکامیاں اور ایمانی تجربات بھی دوسروں کے ساتھ بانٹے۔
فادر جارڈن نے مقدس جان پال دوم کی تعلیم کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ڈیجیٹل مشنریوں کو صرف مواد تیار کرنے کے لیے نہیں بلایا گیا بلکہ انہیں اپنی ذات کا کچھ حصہ دوسروں کے لیے پیش کرنا ہے، تاکہ لوگ اس کے ذریعے مسیح سے ملاقات کر سکیں۔انہوں نے لوقا کی انجیل کو اس بات کی ایک مثال قرار دیا کہ انجیل کس طرح ایک مخصوص انسانی آواز کے ذریعہ دوسروں تک پہنچتی ہے۔اسی طرح ڈیجیٹل مشنریوں کو صرف یہ بیان نہیں کرنا چاہیے کہ یسوع نے ماضی میں کیا کیا، بلکہ یہ بھی گواہی دینی چاہیے کہ مسیح آج ان کی زندگیوں میں زندہ ہے اور کام کر رہا ہے۔فادر جارڈن نے کہا کہ یسوع آج زندہ ہے۔ ہمیں آج دوبارہ اس سے ملاقات کا موقع ملتا ہے۔ اور جب ہم اسی ملاقات کے تجربے سے گواہی دیتے ہیں تو ہماری گواہی بھی زندہ ہوتی ہے۔
انہوں نے شرکاء کی حوصلہ افزائی کی کہ وہ اپنے ایمانی تجربے میں ان باتوں پر توجہ دیں جو انہیں حقیقی طور پر متاثر، چیلنج یا متوجہ کرتی ہیں۔ ان کے مطابق ایسے لمحات اس بات کی نشاندہی کر سکتے ہیں کہ خدا کہاں کام کر رہا ہے اور ڈیجیٹل گواہی کے لیے حقیقی اور مستند مواد فراہم کر سکتے ہیں۔فادر جارڈن نے سینٹ تھیریز آف لیزیو پر بنائی گئی ایک ویڈیو کا ذکر کیا جس میں بات کرتے ہوئے وہ جذباتی ہو گئے تھے۔ یہ لمحہ حتمی ویڈیو میں بھی شامل رہا اور بعد میں ان کی کامیاب ترین ویڈیوز میں سے ایک بن گیا۔
اس تجربے نے انہیں یہ سمجھنے میں مدد دی کہ جب کوئی ابلاغ کار اپنی بیان کردہ بات سے حقیقتاً متاثر ہوتا ہے تو لوگ بھی اس سے متاثر ہوتے ہیں۔ان کے مطابق یہ سفر خود پسندی اور خوف سے نکل کر خدا کی حضوری کے شعور، ذاتی ملاقات اور بالآخر مستند گواہی تک پہنچنے کا سفر ہے۔ڈیجیٹل مشنری اس وقت زندہ یسوع کے گواہ بنتے ہیں جب وہ اپنی ذاتی ملاقات کے تجربے سے بات کرتے ہیں اور دوسروں کو یہ دیکھنے کا موقع دیتے ہیں کہ مسیح ان کی زندگیوں میں کس طرح موجود اور سرگرم ہے۔یہ اسمبلی 13 ستمبر تک کوئزون سٹی میں جاری رہے گی، جس میں ایشیا بھر سے کیتھولک ڈیجیٹل ابلاغ کار شریک ہیں۔
