کردار کی خاموش موت

یہ دور صرف چہرے نہیں سنوارتا۔ لہجے بھی میٹھے رکھتااور نیتوں کو کھوکھلا چھوڑ دیتا ہے۔ ہم نے گفتگو کو مہذب بنا لیا مگر دلوں کو نرم کرنا بھول گئے ہیں۔ الفاظ خوبصورت مگر احساسات کمزور ہو گئے ہیں۔ مسکراہٹیں تو بڑھ گئیں مگر خلوص کم ہو گیا ہے۔لوگ بناوٹ میں جیت گئے مگر سچائی میں ہار گئے۔ ہم لباس بدلتے، جوتے نئے خرید تے ہیں مگر پرْانی سوچ، ضد اور غرور کو نہیں پھینکتے۔ ہم گھروں کو سجاتے، دیواروں پر رنگ بھرتے ہیں مگر ٹوٹے رشتوں کے درمیان امن اور محبت کے پْل تعمیر کرنے کی ہمت نہیں کرتے۔
ہم ہاتھ تو ملاتے ہیں مگر دل نہیں ملاتے۔ چہرے پر مسکراہٹ مگر کردار میں اندھیرا ہوتا ہے۔ ہماری زبانیں میٹھی ہو چکی ہیں مگر نیتوں میں کڑواہٹ بڑھتی جا رہی ہے۔ ہمیں لفظوں کی خوبصورتی پسند ہے مگر اعمال کی سچائی نہیں۔
یہ زمانہ چہرے، کپڑے، تصویریں، لائکس اور دکھاوے کو اہمیت دیتا ہے مگر کردار، نیت، وعدے اور انسانیت پس منظر میں چلے گئے ہیں۔ ہم نے خود کو اس دوڑ میں ایسا اْلجھا لیا ہے کہ اب ہمیں یہ بھی یاد نہیں رہتا کہ اصل قدر کس چیز کی تھی۔
یاد رکھیں! چہرے کا رنگ بدلنے میں چند سیکنڈ لگتے ہیں مگر کردار کا رنگ بدلنے میں پوری زندگی گزر جاتی ہے۔ دنیا تمہارا چہرہ دیکھ کر دھوکا کھا سکتی ہے مگر وقت کبھی دھوکا نہیں کھاتا۔ وہ ہر دکھاوے، ہر بناوٹ اور ہر نقاب کو ایک دن ضرور بے نقاب کر دیتا ہے۔
اصل خوبصورتی چہرے میں نہیں بلکہ نیت میں ہوتی ہے۔
اصل وقار لباس میں نہیں بلکہ کردار میں ہوتا ہے۔
اور اصل انسانیت لفظوں میں نہیں بلکہ عمل میں ہوتی ہے۔
ہم نے ظاہری دنیا تو بہت سنوار لی مگر افسوس خود کو سنوارنا بھول گئے۔
اورموجودہ دور میں اب سب سے بڑی ضرورت یہی ہے کہ ہم آئینے میں صرف اپنا چہرہ نہیں، اپنا کردار بھی دیکھنا سیکھ لیں۔

Daily Program

Livesteam thumbnail