میچورٹی سے منزل تک

 میچورٹی خاموشی کی وہ زبان جو صرف سمجھ دار لوگ جانتے ہیں۔ میچورٹی کا ایک بلند ترین درجہ یہ ہوتا ہے کہ انسان وضاحت دینا چھوڑ دیتا ہے۔ وہ ہر الزام کا جواب نہیں دیتا، ہر تنقید پر صفائی پیش نہیں کرتا اور ہر بحث میں کودنا ضروری نہیں سمجھتا۔ اگر کوئی اْسے برْا بھلا بھی کہہ دے تو وہ مسکرا کر آگے بڑھ جاتا ہے اور دل ہی دل میں کہتا ہے:ٹھیک ہے، اگر تم یہی سمجھتے ہو تو یہی سہی۔
اس خاموشی کا مطلب یہ نہیں ہوتا کہ الزام درست ہے بلکہ اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ وہ بات اب اہمیت ہی نہیں رکھتی۔زندگی میں کچھ لوگ ایسے ہوتے ہیں جو بالکل اْس کتے کی مانند ہوتے ہیں جو گاڑی کے پیچھے کچھ فاصلے تک بھونکتا اور دوڑتا رہتا ہے۔ نہ وہ گاڑی چھین سکتا، نہ اْس میں بیٹھ سکتا اور نہ ہی اْسے گاڑی چلانا آتا ہے۔ وہ صرف شور مچاتا، توجہ چاہتا اور آخرکار تھک کر رْک جاتا ہے۔
ایسے ہی زندگی کے سفر میں کچھ لوگ بنا کسی مقصد کے آپ کی راہ میں رکاوٹ بننے کی کوشش کرتے ہیں۔ اْن کا شور آپ کو روکنے کے لیے نہیں بلکہ آپ کی توجہ ہٹانے کے لیے ہوتا ہے۔دانشمندی اسی میں ہے کہ انسان اپنی منزل کی طرف نظریں جمائے رکھے، نہ کہ راستے کے شور میں اْلجھ جائے۔
میچور انسان تلخ نہیں ہوتا۔وہ بدلہ لینے والا نہیں بنتا۔وہ چالیں نہیں چلتا، جال نہیں بچھاتا اور شاطرانہ کھیل نہیں کھیلتا۔وہ گڑھے نہیں کھودتا، کیونکہ وہ جانتا ہے کہ گڑھوں کو کھودنے والے میں آخرکار خود ہی اْسی گڑھے میں گر ِجاتے ہیں۔
ہاں، اْسے زخم لگتے ہیں۔ دل پر بھی اور روح پر بھی۔مگر وہ اْن زخموں کے لیے مرہم بدلے سے تیار نہیں کرتا۔وہ جانتا ہے کہ مرہم اگر آسمانی ہو تو شفا بنتی ہے اور اگر رحمانی ہو تو سکون دے جاتی ہے۔
وہ چھوڑ دیتا ہے جو ہو چکا۔وہ جانے دیتا ہے جو گزر گیا۔وہ پیچھے کے دروازے بند کر کے آگے بڑھ جاتا ہے۔زخم دینے والوں، تکلیف پہنچانے والوں اور روح کو روندنے والوں کو وہ اْن کے حال پر چھوڑ دیتا ہے کیونکہ وہ جانتا ہے کہ اصل ذمہ داری دوسروں کو ٹھیک کرنا نہیں بلکہ خود کو سنوارنا ہے۔وہ یہ بھی جانتا ہے کہ انسان وہ نہیں بنتا جو حالات اْسے بنانا چاہتے ہیں بلکہ وہ بنتا ہے جو اْس کے اعمال اْسے بناتے ہیں۔
اسی لیے وہ آخر میں ایک ہی مقصد چنتا ہے:رب کا بندہ بننے کی کوشش۔
یعنی ایک ایسا انسان بننے کی کوشش جو کردار میں بلند، دل میں نرم اور روح میں مضبوط ہو۔

Daily Program

Livesteam thumbnail